’تیرے بن‘ میں مبینہ ازدواجی ریپ: ’مرتسم کو تباہ نہ کریں‘

ڈرامہ سیریل ’تیرے بن‘ نے مقبولیت کے کئی ریکارڈ اپنے نام کیے ہیں مگر گذشتہ چند روز سے یہ ڈرامہ سوشل میڈیا صارفین کی تنقید کی زد میں ہے۔

یوٹیوب پر دو بلین سے زیادہ ویوز حاصل کرنے والے ’تیرے بن‘ میں مرکزی کردار یمنیٰ زیدی اور وہاج علی بطور ’میرب‘ اور ’مرتسم‘ ادا کر رہے ہیں (ہر پل جیو)

پاکستان کے نجی ٹی وی چینل سے نشر ہونے والے ڈرامہ سیریل ’تیرے بن‘ نے مقبولیت کے کئی ریکارڈ اپنے نام کیے ہیں مگر گذشتہ چند روز سے اس ڈرامے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

یوٹیوب پر دو بلین سے زیادہ ویوز حاصل کرنے والے ’تیرے بن‘ میں مرکزی کردار یمنیٰ زیدی اور وہاج علی بطور ’میرب‘ اور ’مرتسم‘ ادا کر رہے ہیں۔

میاں بیوی کے محبت اور نفرت پر مبنی اس تعلق کو عوام کی جانب سے بہت پذیرائی ملی مگر 19 مئی کو ڈرامے کی 47ویں قسط کا پرومو ریلیز کیا گیا جسے دیکھ کر یہ تاثر مل رہا ہے کہ ڈرامے میں مبینہ طور پر ہیروئن کا ازدواجی ریپ کیا جا رہا ہے۔

پرومو کی ریلیز کے بعد ڈرامے کو ملنے والی داد و تحسین تنقید میں بدل گئی اور سوشل میڈیا صارفین اپنے پسندیدہ کرداروں کو ڈرامے میں اس انداز سے دکھانے پر ڈرامہ رائٹر اور پروڈکشن ہاؤس کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں اور اپنے پسندیدہ کرداروں کی ایسی کردار کشی پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔

ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا: ’ہمارے مرتسم کو تباہ نہ کریں۔‘

’عشق کری ایشنز‘ نامی اکاؤنٹ سے ٹویٹ کی گئی: ’میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ وہ کیسے مرتسم کو تباہ کر سکتے ہیں، یہ وہ مرتسم ہے جو ہر لڑکی چاہتی تھی۔‘

ٹوئٹر صارف عروج نے ایک ویڈیو شیئر کی جس کے ساتھ انہوں نے لکھا: ’یہ اونچا سنایا جائے۔‘

ویڈیو میں کہا جا رہا ہے کہ ڈرامے کی مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ لوگ مرتسم سے پیار کرتے ہیں، (اس سین سے ایسا لگتا ہے کہ) جاگیردار ہے مگر پیار کرنے والا اور نرم دل ہے مگر اسے اس روپ میں دکھا کر لاکھوں لڑکیوں کا دل توڑ دیا گیا۔‘

اکانشا نامی صارف نے لکھا: ’اگر اس چیز کے تھوڑے سے بھی امکانات ہیں کہ ریپ نہیں کیا گیا اور صرف پرومو کو ایسے ایڈٹ کیا گیا ہے کہ ایسا تاثر دیا جا سکے تو یہ بھی انتہائی غلط بات ہے۔ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔‘

چند لوگ ڈرامے کی حمایت میں بھی سامنے آئے۔

ایک اور ٹوئٹر صارف نے تحریر کیا کہ ’ایک دن: تیرے بن بنانے والے شرم کریں، اگلے ہی دن: تیرے بن ماسٹر پیس ٹرینڈ کر رہا ہے۔ تیرے بن نہ ہی مکمل طور پر برا ہے اور نہ ہی ماسٹر پیس ہے۔ اس میں خامیاں بھی ہیں اور اچھے لمحات بھی۔‘

نیتو نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا: ’انہیں ہر قیمت پر بچائیں۔ یہ بہت قیمتی ہیں، کیمرے کی زندگی اور حقیقی زندگی میں بہت فرق ہوتا ہے۔‘

عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ڈرامے کی لکھاری نوراں مخدوم نے کہا تھا کہ ’ڈرامے کی یہ ڈیمانڈ تھی کہ یہ سین شامل کیے جائیں اور ڈرامے کو کلائمکس کی جانب بڑھایا جائے۔‘

انہوں نے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’پروڈکشن ہاؤس کی جانب سے بھی اس سین پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا تھا۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ٹی وی