پاکستان میں اے آئی سے بنے اشتہار: ماڈلز پریشان، پیمرا کے لیے نیا ’چیلنج‘

جب چہرے حقیقی نہ ہوں، آوازیں اصلی نہ ہوں تو پھر ذمہ داری کس کی ہے؟

فرض کریں آپ ایک اشتہار دیکھ رہے ہیں۔ اس میں ماڈل کا چہرہ مانوس لگتا ہے، مسکراہٹ قدرتی ہے، آواز بھی حقیقی محسوس ہوتی ہے لیکن اشتہار میں وہ ماڈل حقیقی نہیں۔

آپ کا اشتہاروں کی نئی دنیا میں خوش آمدید۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے اس صنعت میں ایک ایسا دروازہ کھول دیا ہے جہاں تخلیق اور حقیقت کے درمیان فرق دھندلا رہا ہے۔

اب اشتہارات صرف کیمرے، لائٹس اور اداکاروں سے نہیں بنتے بلکہ ڈیٹا، الگورتھم اور سافٹ ویئر بھی اس کے مرکزی کردار بن چکے ہیں۔ لیکن اس تیز رفتار تبدیلی کے پیچھے ایک خاموش سوال مسلسل موجود ہے: جب چہرے حقیقی نہ ہوں، آوازیں اصلی نہ ہوں تو پھر ذمہ داری کس کی ہو گی؟

جہاں ایک طرف فنکار اپنی شناخت اور حقوق کے تحفظ کی بات کر رہے ہیں تو دوسری طرف انفلوئنسرز اور اشتہارات کی ایجنسیز اسے ایک موقعے کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور ریگولیٹری ادارہ اس نئی حقیقت کو قابو میں لانے کے لیے راستہ تلاش کر رہا ہے۔

مصنوعی ذہانت خاموشی سے اس صنعت کو تبدیل کر رہی ہے۔ وہ کام جو کبھی بڑے سیٹس، مہنگے کیمروں اور درجنوں افراد کی ٹیم سے ہوتے تھے، اب چند کلکس میں مکمل ہو رہے ہیں۔

یہ تبدیلی محض ٹیکنالوجی تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات روزگار، تخلیقی عمل اور ناظرین کے اعتماد تک پھیل رہے ہیں۔ اسی تناظر میں ہم نے جائزہ لیا کہ اے آئی ماڈلز، انفلوئنسرز، ایڈ ایجنسیز اور ریگولیٹری ادارے کو کس طرح متاثر کر رہی ہے۔

’فی الحال اثرات محدود ہیں، لیکن آج نہیں تو کل اے آئی ہم سب کے کام اور شناخت کو متاثر کرے گی۔‘ یہ کہنا ہے کہ آرٹسٹ نینا بلیک کا۔ ان کے لیے مصنوعی ذہانت کا سب سے بڑا سوال رضامندی (consent) اور ملکیت (ownership) کا ہے۔

نینا نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا: ’یہ تصور ہی پریشان کن ہے کہ کسی کو معلوم نہ ہو کہ اس کا چہرہ یا آواز کہاں استعمال ہو رہی ہے نہ اجازت، نہ معاوضہ۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’میں خود بہت زیادہ ٹیکنالوجی سے وابستہ نہیں ہوں۔ سچ کہوں تو بعض اوقات ٹیکنالوجی کے بارے میں سوچ کر مجھے بے چینی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن پھر یہ بھی سوچنا پڑتا ہے کہ اسے اپنے کام میں کس طرح استعمال کیا جائے تاکہ ہم مکمل طور پر اس میدان سے باہر نہ ہو جائیں۔‘

نینا خاص طور پر اخلاقی پہلوؤں پر تشویش کا اظہار کرتی ہیں، خصوصاً جب بات کسی کے چہرے یا آواز کے استعمال کی ہو۔ وہ ایک اور اہم پہلو کی طرف بھی توجہ دلاتی ہیں۔ ’ہم جو ایک چھوٹا سا سین دیکھتے ہیں اس کے پیچھے پوری ٹیم کی محنت ہوتی ہے۔ آرٹسٹ، ڈائریکٹر، ٹیکنیکل لوگ۔ اے آئی کے آنے سے یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ مستقبل میں ان سب کا کردار کس حد تک تبدیل ہوگا؟‘

وہ زور دیتی ہیں کہ ’مصنوعی ذہانت کے اس دور میں ریگولیٹری اداروں، خصوصاً پیمرا کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔‘

سوشل میڈیا انفلوئنسر عرفان کے مطابق مصنوعی ذہانت نے مواد تیار کرنے کے عمل کو غیر معمولی حد تک تیز اور آسان بنا دیا ہے۔ ’اگر مجھے کسی کلائنٹ کے لیے مواد تیار کرنا ہو تو اے آئی چند لمحوں میں وہ کام کر دیتی ہے جس میں پہلے کافی وقت لگتا تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ای کامرس اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں یہ تبدیلی سب سے زیادہ نمایاں ہے، جہاں اب بڑی تعداد میں مواد اے آئی کے ذریعے تیار ہو رہا ہے، جس سے وقت اور لاگت دونوں میں کمی آئی ہے۔‘

عرفان بھی ایک اہم مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں اور وہ ہے غیر تصدیق شدہ تشہیر۔ ان کے مطابق ’اکثر آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے بنائے گئے مناظر یا مصنوعات بغیر تصدیق کے پیش کر دیے جاتے ہیں اور لوگ ان سے متاثر ہو کر خریداری کر لیتے ہیں۔ اسی لیے وہ عوامی آگاہی کو ناگزیر قرار دیتے ہیں اور ساتھ ہی ریگولیٹری نگرانی کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہیں تاکہ گمراہ کن مواد کو روکا جا سکے۔‘

ایڈ ایجنسی نٹ شیل گروپ کے چیف کمرشل آفیسر سبحان الہٰی کے مطابق مصنوعی ذہانت نے اشتہاری صنعت کے ڈھانچے کو بدلنا شروع کر دیا ہے، خاص طور پر وہ شعبے جو تخلیقی کام، ویڈیو پروڈکشن، رائٹنگ اور ڈائریکشن سے وابستہ ہیں۔

انہوں نے کہا ماضی میں اشتہارات محدود پلیٹ فارمز تک تھے، لیکن ڈیجیٹل دور نے اس دائرہ کار کو وسیع کر دیا۔ اب برانڈز تیزی سے آن لائن پلیٹ فارمز کی طرف جا رہے ہیں جہاں ہدف بنانا زیادہ آسان اور مؤثر ہے۔

’اے آئی نے اس عمل کو مزید تیز کر دیا ہے اب آئیڈیاز، ویژولز اور ویڈیوز چند لمحوں میں تیار ہو جاتے ہیں۔‘

تاہم، ایک بڑا چیلنج اب بھی باقی ہے حقیقت پسندی (authenticity)۔ مصنوعی مواد بعض اوقات پہچان لیا جاتا ہے، جس سے اس کی تاثیر کم ہو سکتی ہے۔

ایجنسیز کے مطابق اے آئی نے تخلیقی صلاحیت کو ختم نہیں کیا بلکہ اس کا طریقہ بدل دیا ہے۔ آئیڈیا اب بھی انسان ہی تخلیق کرتا ہے جبکہ ٹیکنالوجی اسے عملی شکل دیتی ہے۔ لیکن اس تیز رفتار تبدیلی کے ساتھ وہ واضح اصول اور رہنما خطوط کی کمی کو ایک بڑا خلا سمجھتے ہیں۔

اس ساری صورت حال میں لگتا ہے کہ اشتہاروں کو ریگولیٹ کرنے والی اتھارٹی پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔

پاکستان میں مصنوعی ذہانت سے بنے اشتہاروں میں ڈسکلیمرز نہیں استعمال ہو رہے اور پیمرا کا اس حوالے سے کوئی کردار نظر نہیں آ رہا، اور ایک خلا موجود ہے۔

یہ ضروری ہے کہ اگر کوئی اشتہار اے آئی سے بنا ہو تو اس میں ڈسکلیمر کی مدد سے ناظرین کو پتہ چلنا چاہیے کہ یہ اے آئی کی مدد سے بنا ہے۔

اس حوالے سے پیمرا نے انڈپینڈنٹ اردو کو جاری بیان میں تسلیم کیا کہ اے آئی کے لیے مخصوص اور جامع پالیسی کی ضرورت ہے، جس پر کام جاری ہے۔

بیان کے مطابق اس حوالے سے کئی چیلنجز درپیش ہیں، جن میں اے آئی سے تیار کردہ مواد کی شناخت، بین الاقوامی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر محدود دائرہ اختیار اور جدید مانیٹرنگ ٹیکنالوجی کی ضرورت شامل ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ادارہ ایک متوازن ریگولیٹری فریم ورک کی تیاری پر زور دیتا ہے، جس میں شفافیت، ذمہ داری اور جدت تینوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹیک کی دنیا میں تبدیلیاں تیزی سے آ رہی ہیں لیکن اس کے مثبت استعمال اور عوامی آگہی کی وہ رفتار نہیں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹی وی