ایک صدی کی عالمی تباہی جس نے قصبوں اور شہروں کو لپیٹ لیا

مصنف تھامس ہیدروِک کا کہنا ہے کہ حسِ محرومی ہمارے ذہنوں کو بیمار کر رہی ہے اور اس کا علاج مزید جذبات پیدا کر رہا ہے کہ ہم اپنی عمارتوں کو کس طرح ڈیزائن کرتے ہیں۔

بلند و بالا اور جدید دور کی عمارتیں قدیم عمارتوں کے جھرمٹ میں لندن میں سات اکتوبر، 2019 کو لی گئی اس تصویر میں نمایاں ہیں (اے ایف پی)

(خصوصی اقتباس)

میں عمارتوں کے اندر کے بجائے بیرونی حصوں کی اہمیت کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ اس کی وجہ میرا یہ یقین نہیں کہ اندرونی چیزوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

وہ بہت اہمیت رکھتی ہیں، لیکن وہ صرف ان لوگوں کے لیے اہمیت رکھتی ہیں جو عمارتوں کے اندر جاتے ہیں۔

اور یہ بھی کہ رنگ اور اشیا اور فرنیچر کے ساتھ عمارتوں کے اندرونی حصے کو تبدیل کرنا نسبتاً آسان ہے۔ عمارتوں کے بیرونی حصے مختلف ہیں۔ وہ ہر اس شخص کے لیے اہم ہیں جو ان کے پاس سے گزرتے ہیں اور یہ بہت زیادہ لوگ ہیں۔

لیکن ہم میں سے اکثر یہ تبدیل کرنے میں واقعی بے اختیار ہیں کہ یہ بیرونی حصے ہمیں کیسے لگتے ہیں۔

ہر اس شخص کے لیے جو کسی دفتر یا فلیٹس کے بلاک میں وقت گزارتا ہے، وہاں روزانہ سینکڑوں یا ہزاروں افراد ہوں گے جو اس عمارت کے باہر سے گزرتے ہیں۔

اس عمارت کا بیرونی ان لوگوں میں سے ہر ایک کو متاثر کرے گا۔ یہ اس بات میں مدد کرے گا کہ وہ کیسا محسوس کرتے ہیں۔

جوں ہی وہ سڑک پر چلتے ہیں اور وہ درجنوں عمارتوں کے پاس سے گزرتے ہیں، تو وہ درجنوں جذبات محسوس ہوں گے۔

اور ان جذبات میں اضافہ ہوتا ہے۔ وہ جذبات اہمیت رکھتے ہیں۔

وہ ہماری سوچ سے بھی کہیں زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔

پچھلے 100 برسوں میں، جن عام عمارتوں کے پاس ہم روزانہ گزرتے ہیں، ان کے بیرونی حصوں نے ایک خاص ’شکل‘ اختیار کر لی ہے۔ یہ دنیا بھر کے قصبوں اور شہروں میں موجود ہے۔

یہ شکل حیرت انگیز طور پر نقصان دہ ثابت ہوئی ہے۔ ہمارے لیے بنائی گئی وہ جگہیں جنہوں نے یہ شکل اختیار کی وہ ہمیں تناؤ، بیمار، تنہا اور خوف زدہ کرتی ہیں۔ انہوں نے تقسیم، جنگ اور آب و ہوا کے بحران میں حصہ لیا ہے۔

ایک صدی پہلے ہم نے جو شکل دیکھی وہ ایک عالمی تباہی بن چکا ہی۔

ایک لفظ ہے جو ان عمارتوں کی اقسام کی وضاحت کرتا ہے جن کے بارے میں میں بات کر رہا ہوں۔

مجھے یہ لفظ پسند نہیں۔ یہ ہلکا، مبہم اور قابل فراموش ہے۔ یہ غیر سنجیدہ لگتا ہے۔

یہ لفظ اس نقصان کے ساتھ انصاف نہیں کرتا جو اس میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ ان شدید اور ہولناک تبدیلیوں کا احاطہ کرنے ناکام ہے جو گذشتہ 100 برسوں سے ہمارے قصبوں اور شہروں میں پھیل رہی ہیں، جو اپنے ساتھ تباہی، بدحالی، بے گانگی، بیماری اور تشدد لا رہی۔

کاش کوئی بہتر لفظ ہوتا جو میں اس کے لیے استعمال کر سکتا – ایک ایسا لفظ جو جب آپ سنیں اور آپ کو اس بات کا احساس ہوا کہ ایک صدی پر محیط عالمی تباہی ہے جس کی ہم اب بھی گرفت میں ہیں۔

لیکن جب میں اس تباہی کے بارے میں سوچتا ہوں اور میں ان عمارتوں کے بارے میں سوچتا ہوں، تو میں ہمیشہ اس لفظ پر واپس آتا ہوں۔ تو وہ حاضر ہے۔

بیزار کن

میں نے آپ کو خبردار کیا تھا۔

جب آپ ’بیزار کن‘ کا لفظ سنتے ہیں تو آپ تقریباً یقینی طور پر سوچتے ہیں: ’عمارتوں کی بیزاریت کے بارے میں ایک پوری کتاب ... واقعی؟ دنیا میں ہمارے بہت سے مسائل ہیں: سماجی ناانصافی، آب و ہوا کا بحران، سیاسی پولرائزیشن، جنگ، ظلم اور بدعنوانی۔ اور آپ … بیزارکن عمارتوں کے متعلق بلاوجہ کا ہنگامہ کر رہے ہیں۔

اور ہوسکتا ہے پھر آپ معقول طور پر سوچ سکتے ہیں: ’آپ کسی چیز کو بیزارکن کہنے والے کون ہوتے ہیں؟

’صرف اس لیے کہ آپ کو یہ شاپنگ سینٹر یا وہ آفس بلاک پسند نہیں ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ برا ہے۔‘

اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں - تو، میں آپ کو قصوروار نہیں ٹھہراتا۔ اگر میں آپ کی جگہ ہوتا تو شاید میں بھی یہی سوچتا۔ میں آپ سے صرف یہ کہنا چاہتا ہوں صرف چند مزید صفحات تک رک جائیں۔

کچھ سنجیدہ مسائل غور طلب ہیں جو اربوں لوگوں کو متاثر کرتے ہیں۔ اس مضمون کے اختتام تک، مجھے امید ہے کہ میں آپ کو اس بات پر قائل کر لوں گا کہ ہم پر بیزاریت حملہ آور ہے اور یہ واقعی ایک عالمی تباہی ہے۔

بیزاریت کا اصل مطلب کیا ہے؟

بہت زیادہ ہموار

جدید عمارتوں کا اگلا حصہ ناقابل یقین حد تک ہموار ہوتا ہے۔ ان کی کھڑکیاں اور دروازے بمشکل اندر یا باہر تک ہی چپکے رہتے ہیں۔ ان کی چھتیں بھی اکثر ہموار ہوتی ہیں۔

عمارتوں میں اونچ نیچ بہت اہمیت رکھتی ہے کیوں کہ ان سے دلچسپی پیدا ہوتی ہے۔ ان گنت ماہرانہ اور پیچیدہ طریقوں سے، انتہائی گہرائی والی ایک عمارت سورج کی حرکات کے ساتھ اپنی ظاہری شکل بدلتی ہے-

یہاں تھوڑی سی روشنی، وہاں تھوڑا سا اندھیرا– زمین کی گردش کے ساتھ دن بھر دروازوں اور کھڑکیوں کے فریم سے اندر، باہر بہتی روشنی۔ جب عمارتیں بہت زیادہ ہموار ہوتی ہیں، تو وہ سزا کی حد تک والی بیزار کن ہوتی ہیں۔

بہت سادہ

جدید عمارتوں میں زینت کا فقدان ہے۔ جب آپ ایک صدی سے زیادہ پہلے تعمیر کی گئی عمارتیں دیکھتے ہیں تو، یہ حیرت انگیز ہے کہ ان کے ڈیزائنرز نے کتنی احتیاط کے ساتھ پیچ و خم بنائے۔

ان عمارتوں میں نمونے، تفصیلات اور سجاوٹ ہے۔ ان میں اونچ اور نیچ ہے اور گہرے تنگ خلا ہیں اور کارنیلز اور کورنیکس اور پوائنٹس ہوتے ہیں۔

حتیٰ کہ روزمرہ والی عمارتیں جو ’خاص‘ یا ’اہم‘ نہیں سمجھی جاتی تھیں، اسی ذہنیت کے ساتھ بنائی گئیں – جس میں دلچسپی تھی اور جسے اس وقت خوبصورتی سمجھا جاتا تھا۔

جب عمارتیں بہت سادہ ہوتی ہیں، تو وہ بیزارکن ہوتی ہیں۔

بہت سیدھی

جدید عمارت کا ڈیزائن مستطیل پر مبنی ہوتا ہے۔ اس نقطہ نظر میں فطری طور پر کچھ بھی غلط نہیں ہے (کلاسیکی عمارتیں بھی ایسی ہی تھیں) اور یہ ایک منطقی طور پر سمجھ آنے والی بات ہے کیونکہ یہ انتہائی قابل ہے۔

سیدھی لائنوں اور درست زاویوں کے ساتھ چیزوں کو ڈیزائن کرنا بھی بہت آسان ہے - اس سے بھی زیادہ (آسان) جدید ترین بلڈنگ ڈیزائن سافٹ ویئر کے ساتھ ہے جو سب سے زیادہ آسانی سے سکوائرش شکلیں کھینچتا ہے۔

لیکن سیدھی لکیروں اور مستطیل جیومیٹری کا خصوصی استعمال ہاتھ سے نکل گیا ہے۔ جب بڑے پیمانے پر اور کسی دوسری قسم کی شکل کی عدم مودوگی میں عمارتوں پر استعمال کیا جاتا ہے تو، وہ تکرار افقیت کے مناظر پیدا کرتے ہیں، اور(پاس سے) گزرنے والے بالکل اجنبیت محسوس کرتے ہیں۔

وہ انسانوں کے لیے ناقابل برداشت ہیں۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ فطرت میں کوئی سیدھی لکیریں یا درست زاویے نہیں ہیں، وہ حیرت انگیز طور پر غیر فطری بھی ہیں۔

بہت چمک دار

جدید عمارتوں کے بیرونی حصے ہموار مواد جیساکہ دھات اور شیشے سے بنائے جاتے ہیں۔ ہوسکتا ہے چمکدار مواد خوبصورت ہو، لیکن جب سب عمارتیں – اور یہاں حتیٰ پورے اضلاع – صرف سخت احساس کی عکاسی کرنے والے مواد سے بنائے جاتے ہیں، تو بے حسی سے ہمارے حواس بے حس ہوجاتے ہیں۔ تنوع کی اس کمی کا گہرا حساس اثر ہوتا ہے۔

نئی عمارتوں میں اکثر کھڑکیوں کے ساتھ ٹھوس دیواروں کی جگہ نسبتا پتلے شیشے کے بڑے ٹکڑے ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ جب ان میں دھاتی پینلنگ والی بڑی جگہیں بھی ہوتی ہیں، تو اس سب مواد کی سطحیں پھر بھی ہموار ہی ہوتی ہیں۔

اس کی سب سے بڑی مثال تعمیراتی صنعت کی ایجاد کردہ چمکدار دیوار ہے- جس سے عمارتوں کے پورے بیرونی حصے پر شیشے کی بڑی چادروں کے علاوہ کچھ نہیں استعمال نہیں کیا جاتا۔

جب اس کا استعمال کیا جاتا ہے، تو عمارتوں کے بیرونی حصوں میں جو بھی انسانی دلچسپی اور تنوع ہو سکتا ہے، وہ عملی طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ جب عمارتیں بہت چمکدار ہوتی ہیں، تو وہ بیزار کن ہوتی ہیں۔

عمارتوں پر شیشے کے استعمال میں اضافے سے بڑے پیمانے پر پرندوں کی اموات میں بھی کردار ادا کیا ہے۔ یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ صرف امریکہ میں، کھڑکیوں میں ٹکرا ہر سال 10 کروڑ ایک ارب درمیان پرندے مر جاتے ہیں۔

بہت زیادہ یکسانیت

جدید عمارتیں اکثر مستطیل کی شکل اختیار کرتی ہیں جو چھوٹی مستطیلوں سے بنی ہوتی ہیں۔ ان مستطیلوں کو ایک گرڈ میں ترتیب دیا گیا جاتا ہے۔

اگر ایک سیدھی سڑک میں ان گرڈ جیسی عمارتیں ہوں تو، لینڈ سکیپ پر، ہموار، چمکدار، سادہ مستطیلوں کی تکرار نظر آئے گی۔

یہ عمارتیں دور اور قریب سے ایک جیسی نظر آتی ہیں۔ اس طرح کی یکسانیت انسانوں کو متاثر نہیں کرتی۔

بہت گمنام

100 سال سے زیادہ پہلے، عمارتوں کے بیرونی حصے اپنی جگہ کی کوئی چیز رکھنے کا رجحان رکھتے تھے۔ وہ کسی نہ کسی لحاظ سے بامعنی ہوتے تھے۔

وہ ایک داستان سناتے تھے کہ وہ کہاں تھے، اور وہ کس کے لیے تھے۔ آج، وہ اکثر ایسے نہیں ہوتے۔

یہ 100 سالہ تباہی ایک ثقافتی انقلاب رہا ہے۔ اس نے بے رحمی سے نئی عمارتوں کو ان کی شخصیت اور مقام کے احساس سے محروم کر دیا ہے۔ جب عمارتیں بہت گمنام ہوتی ہیں، تو وہ بیزارکن ہوتی ہیں۔

بہت سنجیدہ

جب آپ اس قسم کی دفتری عمارتوں کو دیکھتے ہیں تو آپ کیا محسوس کرتے ہیں؟

آپ سنجیدہ محسوس کرتے ہیں، شاید تھوڑا سا خوف زدہ بھی۔ یہ سنجیدہ لوگوں کے لیے سنجیدہ عمارتیں ہیں جن میں سنجیدہ زندگی بسر کی جا رہی ہے۔ عمارتوں کو کیوں سنجیدہ نظر آنا چاہیے؟

ان کے کاریگر ایسی جگہ بنانے سے کیوں ڈرتے تھے جو لوگوں کو خوشی کا احساس دلائے؟ اس طرح کی عمارتیں صرف ایک قسم کا احساس پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

ان میں جذبات کی انتہائی کمی ہے۔ جب عمارتیں بہت سنجیدہ ہوتی ہیں، تو وہ بیزارکن ہوتی ہیں۔

بیزاریت کب بیزاریت ہوتی ہے؟

صحیح سیاق و سباق میں اور صحیح ارادوں کے ساتھ ، بیزاریت کے بنیادی عناصر حیرت انگیز ہوسکتے ہیں۔

لیکن جب ان میں سے بہت سے عناصر ایک عمارت یا ایک جگہ جمع ہوجاتے ہیں تو بیزاریت ایک سنگین مسئلہ بن جاتی ہے۔

جس طرح سے میں اسے دیکھتا ہوں، بیزاریت ایک مساوات کی طرح ہے۔

یہ انسانی جسم میں بہت زیادہ چینی، چربی، کاربوہائیڈریٹ، الکوحل اور نکوٹین ڈالنے کی طرح ہے۔ اکثر، یہ زندگی بھر میں جمع (عناصر) کا مجموعہ ہے جو آپ کو مار دیتا ہے۔

جب ایک جگہ میں بہت زیادہ بیزاریت ہوتی ہے، تو یہ ... نقصان دہ بیزاریت ہے

بیزاریت نقصان دہ کیسے ہو سکتی ہے؟ کیا غیرموجودگی، ایک وقفہ، کچھ بھی نہ ہونا بیزاریت نہیں ہے؟

کسی چیر کا نہ ہونا آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ لیکن حیرت انگیز اور کم معلوم حقیقت یہ ہے کہ بیزاریت کچھ بھی نہ ہونے سے بھی بدتر ہے۔

بہت بدتر

بیزاریت نفسیاتی محرومی کی ایک حالت ہے۔ جس طرح خوراک کے بغیر جسم کو تکلیف ہوتی ہے، اسی طرح دماغ حسی معلومات سے محروم ہونے پر تکلیف اٹھانا شروع کرتا ہے۔

بیزاریت دماغ کی بھوک ہے

کولن ایلارڈ نامی ایک نیورو سائنٹسٹ نے مطالعہ کیا ہے کہ یہ کیسے ہوتا ہے۔ 2012 میں انہوں نے نیویارک شہر کا دورہ کیا تاکہ اس بات کا تجزیہ کیا جا سکے کہ جب لوگ ایک بیزارکن جگہ سے گزرتے ہیں اور پھر کچھ ہی دیر بعد ایک دلچسپ جگہ سے گزرتے ہیں تو وہ کیسا محسوس کرتے ہیں۔

وہ جاننا چاہتے تھے: ان مختلف جگہوں پر صرف تھوڑا سا وقت گزارنے سے کسی شخص کے موڈ پر کیا اثر پڑے گا؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ بیزارکن جگہ تھی۔ یہ نیو یارک کے لوئر ایسٹ سائیڈ پر ایک بڑی سپر مارکیٹ ہول فوڈز کے باہر ہے۔

یہ ایک پورا بلاک لیتی ہے۔ یہ ایک دلچسپ جگہ تھی، جو ہول فوڈز مارکیٹ سے کچھ ہی فاصلے پر تھی۔

جیسے ہی گروپ ہر ایک جگہ سے گزررہے تھے، ایک خاص طور پر ڈیزائن کردہ سمارٹ فون ایپ نے ان سے سوالات پوچھے کہ وہ کیا دیکھ رہے ہیں اور وہ کیسا محسوس کر رہے ہیں۔

سپر مارکیٹ کے باہر، سب سے زیادہ عام جوابات میں شامل تھا: ہلکا، یکسان اور جنون سے عاری۔ تاہم ، ہول فوڈز کے بلاک کے نیچے، سب سے عام جوابات میں شامل تھا: سماجی، مصروف اور اچھا۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایلارڈ کو یہ شناخت کرنے کے لیے کسی ایپ کی ضرورت نہیں تھی کہ ان کے موڈ کو کس طرح تبدیل کیا جارہا ہے۔

یہ واضح تھا۔ انہوں نے مطالعے کے بارے میں اپنے بیان میں لکھا ’بالکل ہموار فرنٹ کے سامنے، لوگ خاموش، کندھے جھکائے ہوئے اور کچھ نہیں کرتے تھے۔ دلچسپ جگہ پر، وہ متحرک اور بات چیت کر رہے تھے، اور ہمیں ان کے جوش و خروش پر قابو پانے میں کچھ دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔‘

مطالعہ کے ایک اصول میں کہا گیا کہ شرکا کو ایک دوسرے سے بات نہیں کرنی۔

ہول فوڈز مارکیٹ میں، خاموشی برقرار رکھنا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ لیکن دلچسپ مقام پر، محققین نے شرکا پر کنٹرول کھو دیا۔

خاموشی کا اصول ’جلد ہی ایک طرف کر دیا گیا۔ بہت سے لوگوں نے اس دورے کو چھوڑنے اور اس جگہ کی رونق میں شریک ہونے کی خواہش کا اظہار کیا۔‘

ایلارڈ شرکا کی جذباتی حالتوں کے بارے میں اعداد و شمار بھی جمع کر رہے تھے، خاص بریسلیٹ سے جو ان کی جلد سے باقاعدگی سے ریڈنگ لیتے تھے۔

یہ بریسلیٹ ایک ایسی حالت کا پتہ لگا رہے تھے جسے سائنسدان ’آٹونومیک اروزل‘ کہتے ہیں۔

آٹونومیک اروزل سے مراد یہ ہے کہ ہم کتنے محتاط ہیں، اور ہم خطرے کا جواب دینے کے لیے کتنے تیار ہیں یہ تناؤ کا ایک پیمانہ ہے۔

جب ایلارڈ نے نتائج کی جانچ پڑتال کی تو انہیں پتہ چلا کہ بیزارکن جگہ پر لوگ نہ صرف بے حس محسوس کر رہے تھے۔ ان کا آٹونومیک اروزل، ان کے تناؤ کی سطح بڑھ گئی تھی۔

بیزاریت صرف انہیں بےحس نہیں کر رہی تھی۔ ان کے دماغ اور جسم بھی تناؤ کی حالت میں جا رہے تھے۔

آپ سوچ سکتے ہیں اجنبی کے پیچھا کرنے یا جیل میں بند ہونے سے آپ پر دباؤ کیوں پڑتا ہے۔ لیکن ایک بیزار کن جگہ سے آپ میں تناؤ کیوں پیدا ہوگا؟

سائنس دانوں نے دریافت کیا ہے کہ جب ہم کسی بھی ماحول میں داخل ہوتے ہیں تو لاشعوری طور پر معلومات کے لیے اسے سکین کرتے ہیں۔

ان لاکھوں برسوں کے دوران جس میں ہمارے دماغ ارتقا کے ذریعہ ڈھل رہے تھے، ہم فطرت میں رہتے تھے۔ اور قدرتی ماحول پیچیدگی سے بھرا ہوا ہے۔

ہر سیکنڈ میں، ہمارے حواس ہمارے دماغ کو ہمارے ماحول اور آس پاس کے بارے میں تقریباً ایک کروڑ معلومات فراہم کرتے ہیں۔

انسانی دماغ معلومات کی اس بنیادی سطح کے لیے بنا ہے، بالکل اسی طرح جیسے جسم آکسیجن ، پانی اور خوراک کی بنیادی سطح رکھتا ہے۔

بیزار کن جدید مناظر، جو پیچیدگی پر تکرار کو ترجیح دیتے ہیں، ہمیں غیر فطری طور پر کم معلومات فراہم کرتے ہیں۔

ایلارڈ کا نظریہ ہے کہ ان کے درمیان چلنا فون پر بات چیت کرنے کی طرح ہے، لیکن آپ صرف ’یہ‘ اور ’تو ‘ اور ’وہ‘ جیسے الفاظ سن رہے ہیں۔ وہاں معلومات موجود ہیں ، لیکن یہ بار بار دہرائی جا رہی، غیر پیچیدہ اور انتہائی کم معیار کی ہیں۔

جب دماغ کو اپنے ماحول سے معلومات نہیں مل رہی ہوتی تو وہ اسے ایک ایسے اشارے کے طور پر لیتا ہے کہ کچھ غلط ہے۔ یہ گھبرا جاتا ہے۔ یہ جسم کو الرٹ کر دیتا ہے، خطرے سے نمٹنے کے لیے اس کی تیاری میں اضافہ ہوتا ہے۔

100 سال سے زیادہ پہلے، بیرونی شہری ماحول میں بیزاریت تلاش کرنا واقعی انتہائی مشکل تھا۔ آج، بیزار کن ماحول ہر جگہ ہے۔ ہمارے اوپر بیزاریت کا موٹا سا کمبل چڑھا ہوا ہے۔

جب آپ یہ الفاظ پڑھ رہے ہیں تو، عین اسی وقت سٹوڈیوز میں موجود پیشہ ور افراد جو ہموار، سیدھی، چمک دار، گمنام ، سنجیدہ مستطیل اور چوراہوں کی ڈرائنگ بنا رہے اور انہیں خوبصورت، دور اندیش اور حیرت انگیز قرار دے رہے ہیں۔

کنکریٹ ڈالا جا رہا ہے

کرینیں جگہ جگہ شیشے کے بڑے ہموار شیشے اٹھا رہی ہیں۔

دنیا بھر کے قصبوں اور شہروں میں بیزار کن عمارتیں بڑھ رہی ہیں۔

اس وقت زمین کی نصف سے زیادہ آبادی شہری علاقوں میں رہتی ہے۔ 2050 تک یہ تعداد بڑھ کر 70 فیصد سے زیادہ ہونے کی توقع ہے۔

ہمارے رہنے کے لیے نقصان دہ بیزاریت والی دنیا بنائی جا رہی ہے، چاہے یہ ہمیں پسند ہو یا نہ ہو۔

تھامس ہیدروک  کے ذریعے 'Humanise: A Maker's Guide to Building Our World'  سے ماخوذ، وائکنگ نے 19 اکتوبر کو £15.99 پر شائع کیا۔ © Thomas Heatherwick 2023

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ