کیا افغان طالبان ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کے لیے سرگرداں ہیں؟

اگرچہ ماہرین کو شک ہے کہ طالبان کے پاس ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کے ذرائع موجود ہیں، لیکن سابق سکیورٹی سربراہ کا کہنا ہے کہ دنیا نے افغانستان سے آنے والی اطلاعات کو نظر انداز کیا تو پچھتانا پڑے گا۔

20 اگست 2021 کی اس تصویر میں افغان سکیورٹی فورسز کی گاڑیاں صوبہ پنج شیر کے دارالحکومت بازاراک میں موجود ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

افغانستان کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان ملک میں اپنے اقتدار پر گرفت مضبوط رکھنے کے لیے ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔

افغانستان کی نیشنل سکیورٹی سروس کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل نے کہا کہ طالبان ایک جدید فوجی طاقت کی علامت کے طور پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے میں شمالی کوریا، ایران، چین اور روس جیسے ممالک کے نقش قدم پر چلنے کے عزائم رکھتے ہیں۔

طالبان اگست 2021 میں مغربی اتحادی افواج کے انخلا اور کابل پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد بین الاقوامی سطح پر اپنی حکومت کو تسلیم کرانے کے لیے بےچین ہیں۔ ملک میں ایک ’ظالمانہ‘ نظام حکومت کا نفاذ کرنے والے اس گروپ کو ابھی تک اقوام متحدہ نے افغانستان کی قانونی حکومت کے طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔

رواں ہفتے تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ میں ہونے والے سالانہ ’ہرات سکیورٹی ڈائیلاگ‘ میں رحمت اللہ نبیل نے کہا: ’میرے پاس اطلاعات ہیں کہ طالبان کا ایک گروپ اس بات پر غور کر رہا ہے کہ ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیاروں تک کیسے رسائی حاصل کی جائے۔ چاہے وہ انہیں پاکستان سے حاصل کریں یا انجینیئروں کو پیسہ دے کر خریدیں، یہ ایک تباہ کن صورت حال ہو گی۔‘

اگرچہ کانفرنس میں ماہرین نے شک کا اظہار کیا ہے کہ طالبان کے پاس ٹیکٹیکل نیوکلیئر حاصل کرنے کی صلاحیت، روابط یا واقعی تحریک موجود ہے لیکن کانفرنس کے موقعے پر ایک انٹرویو میں نبیل نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ اس امکان کو نظر انداز کرنا بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا: ’یہ (طالبان حکومت) ایک جہادی مشینری ہے۔ ان کی خواہش ہے (جس کے لیے وہ بات چیت بھی کر رہے ہیں) کہ وہاں (جوہری ہتھیاروں کے حصول) تک کیسے پہنچنا ہے اور یہ کہ دوسرے یہ (ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کی تیاری) کیسے کر رہے ہیں۔ اس مسٔلے کو یقینی طور پر پہلے سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔‘

انہوں نے امریکہ، برطانیہ اور دیگر اتحادی افواج کی جانب سے عجلت میں کیے گئے انخلا سے پیچھے رہ جانے والے سامان حرب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’دو سالوں میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ ’دہشت گرد گروہ‘ سٹریٹجک مقاصد حاصل کر چکا ہے۔ ان کے پاس نیٹو افواج کے جدید ترین ہتھیاروں اور گولہ بارود تک رسائی ہے۔ انہیں جدید ترین انٹیلی جنس آلات اور نگرانی کے نظام تک رسائی حاصل ہو گئی ہے۔ اس وقت وہ اسے افغان عوام کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔‘

رحمت اللہ نبیل نے 2010 سے 2012 تک اور پھر 2013 سے دسمبر 2015 تک افغان انٹیلی جنس سروسز کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیں جس میں اشرف غنی انتظامیہ کا پہلا سال بھی شامل ہے جسے بالآخر 2021 میں طالبان نے گرا دیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

55  سالہ رحمت اللہ سابق صدر اشرف غنی کے ساتھ اختلافات کے باعث مستعفی ہو کر ان کے سیاسی حریف بن گئے۔ طالبان کے اقتدار پر کنٹرول کے بعد سے وہ علاقائی مذاکرات میں ایک اہم آواز بنے ہوئے ہیں۔

زیادہ تر بین الاقوامی توجہ طالبان کی سماجی پالیسیوں پر رہی ہیں جن میں خواتین کو تعلیم کے حق سے محروم کرنا، انہیں کام کی جگہوں کے ساتھ ساتھ پارکوں اور تفریحی مقامات سے ہٹانا شامل ہے۔

رحمت اللہ نبیل کا خیال ہے کہ باقی دنیا کو اس عرصے کے دوران طالبان کی عسکری سرگرمیوں پر زیادہ توجہ نہ دینے پر افسوس ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ جب آپ پیچھے مڑ کر دیکھیں گے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ انہوں نے (ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی) کوشش کی تھی۔ خواتین کی تعلیم کے بارے میں بات چیت اصل میں طالبان کے سٹریٹجک اہداف سے توجہ ہٹا رہی ہے۔ ان (طالبان کی) جہادی ذہنیت کو پرکھیں کہ وہ اس خطے کے لیے کیا چاہتے ہیں۔‘

یہاں تک کہ اگر طالبان کے پاس جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا عملی آپشن موجود بھی ہوتا تو بھی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کا اقدام عالمی سطح پر اس گروپ کو ایک بڑے کھلاڑی کے طور پر پیش کرنے کے بجائے اس کی قانونی حیثیت کے لیے بھاری قیمت چکانا پڑتی۔

بین الاقوامی سیکورٹی ماہر اور پرنسٹن یونیورسٹی کے سکول آف پبلک اینڈ انٹرنیشنل افیئرز کے لیکچرر ڈاکٹر آریان شریفی نے کہا: ’جوہری ہتھیاروں کے حصول کے بہت سے سیاسی پہلو بھی ہیں۔ افغانستان نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) پر دستخط کر رکھے ہیں اس لیے انہیں کسی بھی ایسی کوشش پر شدید سفارتی دباؤ کا سامنا ہو گا اور اس وقت وہ زیادہ سیاسی دباؤ نہیں چاہتے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’حقیقت اس کے برعکس ہے کیونکہ وہ بین الاقوامی برادری سے اپنی شناخت کے خواہاں ہیں اس لیے اب جوہری ہتھیاروں کے بارے میں ایک ہلکا سا اشارہ بھی ان کو ممکنہ سفارتی طور پر تسلیم کیے جانے کی امید کو ختم کر دے گا۔‘

طالبان کے جوہری عزائم کی راہ میں ایک اور بڑی رکاوٹ کمزور معیشت بھی ہے کیوں کہ گروپ کے افغانستان میں اقتدار کے بعد ملک کی معیشت کی تباہ کن حالت کو دیکھتے ہوئے اس طرح کے ہتھیاروں کی خریداری اور فراہمی کی بھاری قیمت ہوگی۔

ڈاکٹر شریفی نے کہا کہ گروپ کے پاس اس طرح کے ہتھیاروں کو رکھنے کی تکنیکی صلاحیتوں کا بھی فقدان ہے۔

ہرات سکیورٹی ڈائیلاگ کا مقصد مستقبل میں افغانستان کے سٹیک ہولڈرز کے طالبان کے خلاف ایک متحدہ محاذ کی تشکیل ہے جس میں سابق حکومتی عہدیداروں، اشرف غنی انتظامیہ کے سفارت کاروں اور علاقائی رہنماؤں کو اکٹھا کرنا ہے۔ افغان انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹجک سٹڈیز تھنک ٹینک کے زیر اہتمام یہ اجلاس ہر سال صوبہ ہرات میں منعقد کیا جاتا تھا جب کہ طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد اس کا انعقاد ملک سے باہر کیا جاتا ہے۔

اجلاس میں اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ اگر طالبان کے اندر ایک چھوٹا دھڑا بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تب بھی اس گروپ کی بنیادی توجہ داعش اور چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم مزاحمتی گروپس کی جانب سے داخلی طور پر ان کے افغانستان میں اقتدار کے خلاف خطرات پر مرکوز رہے گی۔

ڈاکٹر شریفی نے کہا کہ طالبان کو کسی بھی دوسری ریاست کی طرف سے کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے۔

ان کے بقول: ’صرف فوجی ضرورت انسداد دہشت گردی کی ہے، خاص طور پر داعش کے خلاف جو ان کا اصل مخالف ہے اور پھر ان کے خلاف مزاحمت کرنے والی چھوٹے چھوٹے عسکری گروپس ہیں۔ ان سب کے لیے ٹیکٹیکل سطح کے ہتھیاروں کی ضرورت ہوتی ہے جو بغاوت کو کچلنے میں استعمال ہو سکیں۔ طالبان کو ابھی اور مستقبل قریب میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا