’ہم کوئی گوریلا نہیں بلکہ رضا کار ہیں‘

کالج اور یونیورسٹی طلبہ پر مشتمل امامیہ ڈیزاسٹر سیل کے سکاؤٹس صرف امام بارگاہوں پر ہی نہیں بلکہ چرچ اور دوسری عبادت گاہوں پر بھی پہرا دیتے ہیں۔

پاکستان کئی سالوں سے دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔ ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کی تاریکیوں کو محسوس کرتے ہوئے اسلام آباد کی سیدہ گل زہرا نے 2014 میں امامیہ ڈیزاسٹر سیل (آئی ڈی سی) قائم کیا۔

آئی ڈی سی کے تقریباً 400 رضاکار مختلف جگہوں پر بطور سکاؤٹس ریاستی سکیورٹی اہلکاروں کے شانہ بشانہ ڈیوٹی دیتے ہیں۔ ان میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے لیکن کچھ مرد بھی سیل کا حصہ ہیں۔

یہ رضاکار راول پنڈی، اسلام آباد، گجرات اور گلگت بلتستان میں مختلف جگہوں پر تعینات ہوتے ہیں اور ان کی تربیت اور انہیں کہاں تعینات کرنا ہے، یہ گل زہرا کے ذمے ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ سکاؤٹس امام بارگاہوں یا مجالس کے داخلی راستوں پر تعینات ہوتے ہیں اور ان کی سب سے اہم ذمہ داری ہر آنے والے شخص کی جسمانی اور سامان کی تلاشی ہوتی ہے۔

کالج اور یونیورسٹی طلبہ پر مشتمل آئی ڈی سی کے سکاؤٹس صرف امام بارگاہوں پر ہی نہیں بلکہ چرچ وغیرہ پر بھی پہرا دیتے ہیں۔ ان کے پاس ہتھیار نہیں ہوتے لیکن خطرات کے باوجود ان کا جذبہ بھرپور ہے۔

آئی ڈی سی کے رضاکاروں کو فرسٹ ایڈ کے ساتھ ساتھ ہنگامی صورت حال سے نمٹنے اور بھگدڑ پر قابو پانا بھی سکھایا جاتا ہے۔

گل زہرا کا کہنا ہے ریاستی ادارے اپنی کوشش تو کرتے ہیں لیکن شاید ان کے پاس زیادہ وسائل نہیں لہذا شہریوں کو چاہیے کہ وہ خود آگے بڑھیں اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اداروں کا ساتھ دیں۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین