عمران کا ایک سال: پاکستان عالمی طاقت کے روپ میں ابھر رہا ہے

عالمی سٹیج پر خان کا سٹائل اپنے پیش رو سے بالکل مختلف ہے۔ پلوامہ جیسے واقعات، پھر کشمیر جیسے بحران عمران خان کے سفارتی تجربے کا امتحان تھے جہاں انہوں نے اچھی کارکردگی دکھائی۔

خان کے نئے پاکستان کا خواب شاید ابھی اس حیران کن ملک سے کافی دور ہے۔ ابھی تک تو ایسا ہی ہے۔ لیکن ایک ہی رات میں حالات کے مکمل بدل جانے کی امید رکھنے سے ہم بہترین کو اچھے کا دشمن بنا رہے۔ (فائل تصویر: اے ایف پی)

پاکستان میں گذشتہ سال کے انتخابات میں عمران خان کی فتح کو کافی مثبت اور مضحکہ خیزی کے ملے جلے انداز میں لیا گیا۔ جس دن وہ فتح یاب ہوئے، وہ ٹی وی پر نمودار ہوئے اور ایک جشن مناتے پاکستان سے خطاب کیا۔

گو کہ انہوں نے اپنی الیکشن مہم کے وعدوں کو دہرایا لیکن وہ کافی مختلف محسوس ہو رہے تھے۔ انہوں نے اپنے عوام کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا کہ یہ گھبرانے کا وقت نہیں ہے۔

انہوں نے ایک نئے پاکستان کا وعدہ کرتے ہوئے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا۔ بظاہر یہی لگ رہا تھا کہ وہ ایک سیاستدان سے ایک رہنما میں تبدیل ہو چکے تھے۔ جو ایمان دار، مصالحت پسند انسان ہے۔

ایک ایسے ملک میں جہاں امیدیں پہلے ہی دم توڑ چکی تھی ان کے الفاظ نے لوگوں کو زندگی کے بارے میں نئی امید دی۔ تب سے ہی ان کا یہ روپ ابھر کر سامنے آرہا ہے۔ انہوں نے پسے ہوئے پاکستانیوں میں حب الوطنی کا دبا ہوا جذبہ جگا دیا۔

خان کی نئے پاکستان کی باتوں نے امیدوں کو بہت بڑھا دیا۔ ان کی پُرجوش حمایت اور مکمل مخالفت کے دوران زیادہ تر لوگ بھول چکے تھے کہ پاکستان کس حد تک مسائل کا شکار اور بکھرا ہوا ملک ہے۔

بلاشبہ گذشہ پانچ دہائیوں سے پاکستان غلط سمت کی جانب بڑھ رہا تھا۔ ایسا سیاسی نظام جو مسلسل وصولی کرنے پر قائم تھا، جو ملک کی سیاسی اور معاشی اشرافیہ کو  عوام کی قیمت پر فائدہ دے رہا تھا۔ درمیان میں کچھ ایسا وقت بھی گزرا جب حالات کچھ بہتر ہوئے لیکن یہ تبدیلی مسلسل نہیں تھی۔ اتنی بری حکومت کے بعد خان کے بطور متبادل سامنے آنے کے بعد غیر حقیقی توقعات بہت بڑھ گئیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آج یہ انکار کرنا بہت مشکل ہے کہ چیزیں ویسی نہیں ہو رہیں، جیسی ہونی چاہییں تھیں۔ پاکستان کے معاشی چیلنجز پیش بینی کی تمام صورتوں سے سنگین نظر آرہے ہیں جبکہ کشمیر میں ایک الگ ہی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ جیو پالیٹکس کھل کر سامنے آچکی ہے۔ معاشی چیلنجز اور ایک سال کی تکلیف دہ پالیسیوں کی وجہ سے زیادہ تر لوگ مثبت سوچ کو مکمل طور پر چھوڑ رہے ہیں۔

عام طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ صبح سے پہلے تاریکی بہت گھنی ہوتی ہے۔ خان کی حکومت کو بہت ہی مشکل توقعات کا سامنا ہے اور سیاسی اور معاشی میدان میں کہیں کہیں بہتری دیکھی جا سکتی ہے۔ خان جو کرنے کی  جستجو کر رہے ہیں وہ اس ملک کو ایک متنوع سیاسی اور معاشی نظام دینے کی کوشش ہے۔ ایسا کرنے سے وہ ملکی سیاست کو نئے سرے سے ترتیب دے رہے ہیں اور سابقہ حکومتوں کے دھوکے پر مبنی کھیلوں کو دفن کر رہے ہیں۔ اگرچہ اصلاحات کی رفتار کم اور یہ مشکلات کا شکار ہے اور ان کے فوائد بھی فوری طور پر محسوس نہیں کیے جا سکیں گے۔ لیکن اہم بات ہے کہ سمت درست دکھائی دے رہی ہے۔

پاکستان کی معیشت کے لیے خسارے اور قرضے کی وراثت پاکستانی معیارات کے حساب سے بھی بہت زیادہ ہے جس نے معاشی نمو کا بحران پیدا کر دیا ہے۔ لیکن غور سے دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ کل کی سیاست کے ’عارضی فوائد کلچر‘ سے جان چھڑائی جا رہی ہے۔ غیر پیداواری اور درآمدی اشیا میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی جبکہ برآمدات اور درآمدات میں توازن پیدا کرنا ایک طویل المدتی عمل ہے، خاص طور پر ایک ایسے ملک میں جہاں پیداواری صلاحیت کم ہوتی جا رہی ہو۔ سالوں سے نظر انداز کرنے کے باعث برآمدات میں، سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور نئے کاروبار شروع کیے جا رہے ہیں جو برآمدات کے مقابلے میں درآمدات کو بڑھا رہے ہیں۔

پاکستان میں ٹیکنالوجی کا ایکو سسٹم تاخیر کا شکار ہے لیکن یہ اپنے قدم جما رہا ہے۔ ایک پرعزم اقدام ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرنا ہے جو کہ نتائج دینا شروع کر رہا ہے اور گذشتہ سال ٹیکس جمع کروانے والوں کی تعداد میں 65 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یہ فوائد اور خدمات کے ڈھانچوں میں تبدیلی کے طویل المدتی مقاصد کا اشارہ ہے۔ اب جب ہم کاروبار کے پرانے اصول بھلا رہے ہیں تو ایسا انقلاب یقینی طور پر ارتعاش پیدا کرے گا۔

آگے نظر آنے والا رستہ طویل اور پیچیدہ ہے لیکن خان کی سوچ نے پاکستان کو دہائیوں سے تباہی کے راستے سے واپسی کی راہ پر ڈال دیا ہے۔ کاروباری طبقے کا ان ابتدائی اصلاحات کو ناقابل واپسی کہنا ایک کامیابی سے کم نہیں۔

عالمی سٹیج پر خان کا سٹائل اپنے پیش رو سے بالکل مختلف ہے۔ سیاست میں آنے سے پہلے ’بدعنوان نہ ہونے کی صلاحیت‘ ہی ان کے سفارتی مقام کو ظاہر کرتی ہے۔ پلوامہ جیسے واقعات، پھر کشمیر جیسے بحران خان کے سفارتی تجربے کا امتحان تھے جہاں انہوں نے اچھی کارکردگی دکھائی۔ ان سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ امریکہ اور افغان طالبان اور امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کریں۔

پاکستان ایک ذمہ دار عالمی طاقت کے طور پر ابھرا ہے۔ جو بغیر کسی لگی لپٹی کے امن کی بات کرتا ہے۔ دنیا کے رہنماؤں کے لیے یہ پیغام بہت واضح ہے۔ پاکستان اب مزید کسی کا پیادہ، لطیفہ یا تماشائی نہیں ہے۔ یہ ایک متحرک، ذمہ دار اور اہم ملک ہے۔ یہ ماضی کے مقابلے میں ایک ڈرامائی تبدیلی ہے۔ جو شاید ماضی کے کسی زمانے کی جھلک ہے۔

خان کے نئے پاکستان کا خواب شاید ابھی اس حیران کن ملک سے کافی دور ہے۔ ابھی تک تو ایسا ہی ہے۔ لیکن ایک ہی رات میں حالات کے مکمل بدل جانے کی امید رکھنے سے ہم بہترین کو اچھے کا دشمن بنا رہے۔ جبکہ ملک میں جاری تمام تر بےہنگم سیاسی طوفان کے باجود ہم اس کو حقیقت کا روپ دھارتے دیکھ رہے ہیں۔ گو کہ اس کے امکان اور رفتار نے کئی لوگوں کو مایوسی کا شکار کر دیا ہے۔

چاہے ہم خان کی تعریف کریں یا ان پر تنقید کریں بطور پاکستانی ہمیں اپنی گفتگو کو حقیقت پسندانہ بنانا ہوگا۔ ایک معاشی طور پر مستحکم پاکستان کے لیے اپنے مقاصد کی سمت درست کرنی ہوگی تاکہ پاکستان کو عالمی سطح پر ایک اہم اور ذمہ دار ملک بنایا جا سکے۔ اگر ہم ایسا کر سکے تو نئے پاکستان کا خواب حقیقت بن جائے گا۔ اگر اس سے کچھ کم بھی ہو، جو 20 کروڑ افراد کو کھائی سے نکال سکے تو وہ بھی ہرکولین اصلاحات کہلائیں گی۔ کرکٹ کھیلنے والے کھلاڑی جو اب سیاست دان ہیں، مذمت سے زیادہ تالیوں کے مستحق ہیں۔

(فرخ کریم خان پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ میں پورٹ فولیو مینیجر جبکہ صبا کریم خان ابوظہبی میں نیویارک یونیوسٹی کے گلوبل کیمپس میں ملازمت کرتی ہیں۔)

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان