پولیس اصلاحات کے ڈرافٹ پر خود پولیس کو اعتراضات

ایڈیشنل آئی جی پنجاب انعام غنی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ پولیس کو مزید بااختیار بنا کر احتساب کا نظام موثر بنایا جائے لیکن انہیں دیگر محکموں کے ماتحت کر کے بنیادی اصول کی نفی کی جارہی ہے۔

ذرائع کے مطابق  اصلاحات ڈرافٹ  پر بیشتر پولیس افسران نے آئی جی پنجاب کے سامنے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور مستعفی ہونے کی دھمکی بھی دی۔ (سوشل میڈیا)

پاکستان میں پولیس تشدد کے مسلسل بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر حکومت نے پولیس اصلاحات فوری طور پر نافذ العمل کرنے کی ہدایت کی۔ وزیر اعظم عمران خان کے زیر صدارت جنوری میں ہونے والے ایک اعلی سطحی اجلاس کے دوران پنجاب اور کے پی کے میں پولیس اصلاحات کا ڈرافٹ تیار کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

اس مقصد کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں آئی جی پنجاب اور آئی جی کے پی کو بھی ممبر بنایا گیا۔ اس کمیٹی نے پولیس اصلاحات کا ڈرافٹ تیار کر لیا اور اس کی وزیر اعظم سے منظوری بھی لے لی گئی۔

پولیس ذرائع کے مطابق بدھ کے روز 25 ستمبر کو آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز خان کی جانب سے اس ڈرافٹ پر تفصیلی بریفنگ کے لیے پولیس افسران کا اعلی سطحی اجلاس بلایا گیا جس میں سی سی پی او لاہور، ڈی آئی جی اور ویڈیو لنک کے ذریعے آر پی اوز، سی پی اوز اور ڈی پی اوز کو بھی شریک کیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پولیس افسران کو بتایا گیا کہ ڈرافٹ کے مطابق محکمہ پولیس کا مکمل انتظام محکمہ داخلہ کے زیر کنٹرول ہوگا جب کہ شہروں میں پولیس کو انتظامی افسران کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو جواب دہ بنا کر ان افسران کو 22 اے اور 22 بی کے اختیارات دیئے جا رہے ہیں تاکہ وہ کسی بھی وقت تھانوں کا معائنہ کرسکیں اور خلاف قانون کسی ملزم کو حبس بے جا میں رکھنے یا تشدد پر متعلقہ پولیس افسر کے خلاف کارروائی کر سکیں۔

ذرائع کے مطابق اس تجویز پر بیشتر پولیس افسران نے آئی جی پنجاب کے سامنے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور مستعفی ہونے کی دھمکی بھی دے دی جس پر آئی جی پنجاب نے ان کی شکایات وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کو پہنچا دیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وزیر قانون راجہ بشارت دیگر تین صوبائی وزرا اور آئی جی پنجاب پر مشتمل ایک کمیٹی بنا کر پولیس افسران کے تحفظات دور کر کے پولیس اصلاحات کے ڈرافٹ کو قانون کاحصہ بنانے کے لئے اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

پولیس اصلاحات کا حکومتی ڈرافٹ:

انڈپینڈنٹ اردو کو وزارت داخلہ سے ملنے والے پولیس اصلاحات ڈرافٹ کی تفصیلات کے مطابق اس ڈرافٹ میں اہم اصلاحات یہ ہیں:

پولیس کو بیوروکریسی کے ماتحت کیا جائے گا۔

صوبائی پولیس کمپلینٹس اتھارٹی بنائی جائے گی۔

اتھارٹی تھانے کی سطح سے لے کر اعلیٰ افسران تک کے کسی بھی معاملے پر سوموٹو ایکشن لے سکے گی۔

پولیس کی ایکسٹرنل اکاؤنٹیبلیٹی بھی بیوروکریسی کرے گی۔

پولیس محکمے کی محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی اورمحکمہ داخلہ پنجاب سربراہی کرے گا۔

سفارشات کی تیاری میں پولیس کو بیوروکریسی کے ماتحت کیا جائے گا۔

صوبائی پولیس کمپلینٹس اتھارٹی بنائی جائے گی۔

اتھارٹی تھانے کی سطح سے لے کر اعلیٰ افسران تک کے کسی بھی معاملے پر سوموٹو ایکشن لے سکے گی۔

پولیس کی ایکسٹرنل اکاؤنٹیبلیٹی بھی بیوروکریسی کرے گی۔

تھانوں کی انسپکشن کے لئے پولیس کو ڈپٹی کمشنر سے اجازت لینا ہو گی۔

ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں ون ونڈو ٹربلز شوٹر قائم کیا جائے گا۔

صوبے میں ون ونڈوٹربلزشوٹر کے نام سے  36 دفاتر قائم ہوں گے۔

ڈپٹی کمشنر مکمل بااختیار ہو گا کہ عوامی وسائل کو استعمال کر سکے۔

ڈپٹی کمشنر انکوائریاں، انسپکشن بھی کروا سکے گا۔

صوبائی پولیس کمپلینٹس اتھارٹی قائم کی جائے گی۔

اتھارٹی تھانے کی سطح سے اعلی افسران تک کسی بھی معاملہ پر سوموٹو ایکشن لے سکے گی۔

اتھارٹی پولیس مس کنڈیکٹ کو جانچ اور دیگر معاملات کو مانیٹرکرے گی۔

صوبے میں 9 ریجنل کمپلینٹس اتھارٹیز بھی بنائیں جائیں گی۔

اتھارٹی ایک خودمختار باڈی ہو گی جو پولیس ایکشن سے کسی شخص کی ہلاکت کی تحقیقات کر سکے گی۔

اتھارٹی کو تفتیش کے لیے درکار ضروری ریکارڈ تک رسائی ہو گی۔

انسپکشن کا شیڈول آئی جی پنجاب ہر سال کے شروع میں جاری کرے گا۔

پولیس وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے ماتحت ہو گی جب کہ ایس اینڈ جی اے ڈی سپورٹ فراہم کرے گا۔  

وفاق اور صوبائی حکومتیں قانونی ترامیم کے ذریعے ضروری اختیارات دیں گی۔

پولیس کے ایکشن اور امن و امان سے متعلق سب کیبنٹ کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

سب کیبنٹ کمیٹی کا سربراہ وزیراعلیٰ جب کہ تین وزرا بھی ساتھ شامل ہوں گے۔

ڈرافٹ کے مطابق محکمہ داخلہ کے تحت پبلک سیفٹی کمیشن قائم کیا جائے گا، ڈیموکریٹک اور اکاؤنٹی بیلٹی کمیٹی بھی بنائی جائے گی، جب کہ افسران کی تعیناتی کے لیے مختلف افسران پر مشتمل ایک بورڈ بنایا جائے گا۔ بورڈ افسران کے انٹرویوز کے بعد تین افسران کے نام آئی جی پنجاب کو بھیجے گا اور آئی جی پنجاب تین افسران کے نام وزیراعلیٰ پنجاب کو بھیجوائیں گے، جن میں سے کسی ایک کی تعیناتی کی جائے گی۔

ڈرافٹ کے مطابق پولیس کمپلینٹس اتھارٹی ایک ڈائریکٹر اور پانچ ڈپٹی ڈائریکٹرز پر مشتمل ہو گی، اتھارٹی پروفیشنل تفتیش کار سمیت مستقل سٹاف پر مشتمل ہو گی۔ کسی بھی شکایت کے حوالےسے اتھارٹی فیصلہ کرے گی۔ پولیس اس اتھارٹی کی نگرانی میں تفتیش کا عمل سرانجام دے گی۔

اتھارٹی خود انوسٹی گیشن بھی کر سکے گی جب کہ شکایات، درخواستوں، سوموٹو اور ٹائم لمٹس کی صورت میں بھی احکامات جاری کرسکتی ہے ۔ صوبائی حکومتیں فرانزک سائنس ایجنسیز کے لیے بجٹ مختص کریں گی اور قانونی بنیاد فراہم کی جائے گی۔

پولیس افسران کے تحفظات:

ایڈیشنل آئی جی پنجاب انعام غنی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی پولیس اصلاحات کے ڈرافٹ پر پولیس افسران نے اس لیے تحفظات کا اظہار کیا کہ ایک تو سفارشات مرتب ہونے سے پہلے ان سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی دوسرایہ کہ جو ڈرافٹ تیار کیا گیا ہے اس میں کئی تجاویز قانون سے متصادم ہیں۔ پولیس اختیارات کو کم کر دیا گیا ہے جس سے پولیس کارروائیوں میں مشکلات پیش آئیں گی۔

ان سے پوچھا گیا کہ پولیس کی کارکردگی کو اگر دیکھا جائے تو ریفارمز ضروری ہیں اس میں رکاوٹ کیوں ڈالی جا رہی ہے؟

انہوں نے جواب دیا کہ پولیس آرڈر 2002 کے مطابق محکمانہ اصلاحات کی گئی تھیں۔ اس کے بعد پنجاب میں پولیس افسران اور اہلکاروں کے لاپرواہی برتنے پر سزا و جزا کا قانون بھی موجود ہے اور اس پر سختی سے عملدرآمد کیا جاتا ہے۔ اگر پھر بھی کسی کو کوئی شکایت ہوتی ہے تو عدالتوں سے رجوع کرکے انصاف حاصل کر لیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کے موجودہ اختیارات کے باعث بہت سے سنجیدہ جرائم پر قابو پایا جا چکا ہے لیکن جو نئی تجاویز تیار ہوئی ہیں ان سے پولیس میں سیاسی لوگوں اور بیوروکریسی کی براہ راست مداخلت ہوگی جس سے کارکردگی مزید خراب ہوجائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پھر بھی ذمہ داری محکمہ پولیس پر عائد ہوگی۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ پولیس کو مزید بااختیار بنا کر احتساب کا نظام موثر بنایا جائے لیکن انہیں دیگر محکموں کے ماتحت کر کے بنیادی اصول کی نفی کی جارہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس افسران نے اپنی جائز شکایات کی نشاندہی کی جس پر آئی جی پنجاب نے بھی سنجیدگی سے غور کیا اور وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کر کے انہیں تحفظات سے آگاہ کردیا ہے۔ انہوں نے ان شکایات سے اتفاق کرتے ہوئے ہی صوبائی وزیر قانون کی سربراہی میں پولیس اصلاحاتی ڈرافٹ میں متنازعہ سفارشات کا جائزہ لے کر تبدیل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان