خواتین میں چھاتی کے سرطان کے علاج میں بڑی پیش رفت

نئی تیار کی گئی دوا کینسر کے خلیوں کو تیزی سے تقسیم ہونے پر مجبور کر دیتی ہے جس سے کیموتھراپی کی مزاحمت کرنے والے کینسر کا علاج بھی ممکن ہو سکے گا۔

اپریل 2014 میں لی گئی اس تصویر میں چھاتی کے سرطان میں مبتلا ایک افغان خاتون ہرات کے نواح میں واقع ایک ہسپتال میں ڈاکٹروں سے گفتگو کر رہی ہیں۔ (فائل تصویر: اے ایف پی)

سائنس دانوں نے ایک ایسی دوا تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس سے خواتین میں تیزی سے پھیلتے ہوئے بریسٹ کینسر یا چھاتی کے سرطان کے علاج کے لیے کیموتھراپی کے عمل کو کامیاب بنایا جا سکے گا۔

لندن میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ریسرچ (آئی سی آر) کے محققین کے مطابق نئی دریافت ہونے والی دوا کینسر کے خلیوں کو تیزی سے تقسیم ہونے پر مجبور کر دیتی ہے جس سے کیموتھراپی کی مزاحمت کرنے والے کینسر کا علاج بھی ممکن ہو سکے گا۔

اس ڈرگ سے کینسر کے خلیوں میں معمول کے برخلاف غلطی کا عمل تیز ہو جاتا ہے جس کا مطلب ہے کہ کیمو تھراپی ان کو باآسانی ختم کر سکتی ہے۔

اس دوا کو BOS172722 کا نام دیا گیا ہے جو MPS1 نامی مالیکیول کو بلاک کرکے اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ خلیوں کی تقسیم سے پہلے ان میں موجود کروموسومز کی تعداد درست ہو۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خلیوں کے تقسیم ہونے یا مرنے کے لیے کروموسومز کا ایک جتنی تعداد میں جدا ہونا ضروری ہوتا ہے۔

تاہم اس دوا کی وجہ سے خلیوں کی تقسیم اس عمل کے بغیر ہی آگے بڑھ جاتی ہے جس سے خلیوں میں کروموسومز کی غلط تعداد داخل ہو جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں وہ ناکام ہو جاتے ہیں۔

اس دوا کی ابتدائی آزمائش لیبارٹری میں بنائے گئے خلیوں اور چوہوں پر کی گئی جس سے ثابت ہوا کہ ٹرپل نیگیٹیو بریسٹ کینسر سیلز کے علاج کے لیے اس کا کیموتھراپی کے ساتھ تجربہ انتہائی کامیاب ثابت ہوا۔

ٹرپل نیگیٹیو بریسٹ کینسر سیلز کو سرطان کے مہلک ترین خلیے تصور کیا جاتا ہے اور چھاتی کے سرطان میں مبتلا دس سے 20 فیصد خواتین میں ان خلیوں کی تشخیص کی جاتی ہے۔

انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ریسرچ کے محقق پروفیسر سپروس لنارڈوپلوس نے کہا: ’خاص طور پر یہ مرکب کینسر کے ان مریضوں کے لیے کارآمد ہونے کی امید ہے جن میں پہلے ہی کیموتھراپی کے خلاف مزاحمت پیدا ہو چکی ہے۔ یہ دوا ممکنہ طور پر علاج کا نیا طریقہ بن سکتا ہے جس سے کئی زندگیوں کو بچایا جا سکے گا۔‘

یہ دوا اب کلینیکل آزمائش کے مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں مریضوں کے ایک چھوٹے سے گروپ پر اس کی جانچ کی جارہی ہے۔

پروفیسر لنارڈوپلوس نے کہا کہ وہ اس کے نتائج کے منتظر ہیں۔

یہ خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایوان کاسمیٹکس کمپنی کی رفاہی تنظیم ’ایوان فاؤنڈیشن فار ویمن‘ نے اعلان کیا ہے کہ وہ چھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی کے مہینے کے دوران انسٹاگرام پر ’نِپل بین‘ ختم کرنے پر زور دے رہی ہے تاکہ چھاتی کی صحت کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں مدد مل سکے۔

انسٹاگرام کی گائیڈ لائن کے مطابق اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر خواتین کی نِپلز سمیت دیگر عریاں تصاویر شیئر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

ایوان فاؤنڈیشن فار ویمن کی چیئرپرسن ایمی گرینے نے انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسری کو ایک کھلے خط میں لکھا: ’ہمیں یقین ہے کہ یہ (نِپلز کی تصاویر) سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اچھے مقصد کے لیے ایک طاقت کے طور پر استعمال ہوں گی، جس سے چھاتی کے سرطان سے متعلق آگاہی اور زیادہ سے زیادہ شعور اجاگر کرنے میں مدد ملے گی۔ چھاتی کی صحت کی تعلیم کو مزید آگے بڑھانا ہو گا۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی صحت