ضمانت کون دے گا؟

کیا عمران خان پانچ برس جیل میں رہیں گے یا خاموشی کی ضمانت پر آزاد ہوں گے؟ سیاست اور ریاست کی اس لڑائی میں کوئی بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

دو دسمبر 2025 کو اسلام آباد میں تحریکِ انصاف کے متوقع احتجاج کے پیشِ نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات (انڈپینڈنٹ اردو)

بقا اور فنا کی جنگ میں وجود کو خطرہ صرف جمود سے ہے۔ ٹھہرے پانی کی باس جاتے جاتے ہی جاتی ہے۔ یہاں معاملہ یہ ہے کہ بہت ہو چکا اور بہت ہو رہا ہے۔ اک چو مکھی لڑائی ہے جو ریاست، نظام اور مملکت لڑ رہی ہے۔ بقا کی اس جنگ کے کئی محاذ ہیں اور ہر محاذ کی نوعیت مختلف۔ دہشت نے ایسے پنجے جما رکھے ہیں کہ جان شکنجے میں ہے اور ہاتھ پاؤں مفلوج۔

سیاست اور ریاست کی تکون اپنے ستونوں کی حفاظت میں جُتی ہے تو معیشت بظاہر مستحکم تاہم مستعار پیروں پر کھڑی ہے۔ ہزار جتن کے باوجود غیر یقینی کی فضا جوں کی توں۔ سیاسی عدم استحکام بلاشبہ وجوہات میں سے ایک وجہ ہے مگر واحد وجہ ہرگز نہیں۔ بیرونی پراکسیز اور اندرونی سیاسی گٹھ جوڑ وہ الجھا ہوا معاملہ ہے جس کا سرا تو ہاتھ آ چکا ہے تاہم گتھی کا سلجھنا مشکل ترین معاملہ ہے۔

پاکستان کو عسکریت پسند پراکسیز سے لاحق خطرات وہ چیلنج ہیں جو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیے جا سکتے۔ ان حالات میں پاکستان کی سرحدوں سے درآمد جنگ اور بلوچستان کی خانہ جنگی کو کسی ایک عدسے سے دیکھنا ناممکن ہے۔ بحرانوں میں گھری ریاست ایک سرا پکڑتی ہے تو دوسرا ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔

جہاں مملکت عدم استحکام کا شکار ہے وہیں سیاسی جماعتیں بھی روایتی سیاست سے مایوس ہو چکی ہیں، عوام الگ سیاست سے لاتعلق ہو رہے ہیں۔ سیاست کے تقاضے بھی بدل رہے ہیں اور ضروریات بھی۔ یوں تو سیاست کا آف سیزن ہے تاہم نواز شریف کی بظاہر خاموشی، آصف زرداری کی مصلحت اندیشی اور تحریک انصاف میں افراتفری کسی طور معاملات کو آگے بڑھنے نہیں دے رہی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عمران خان ڈیل اور ڈھیل لینے کو تیار ہیں مگر خاموشی کی صورت ڈیل دینے کو تیار نہیں۔ ڈیل دینے والے بےبس نہیں اور ڈیل لینے والا بےاختیار نہیں۔ تحریک انصاف کے پاس سڑکوں پر نکلنے کا خطرناک آپشن ہمہ وقت موجود ہے جبکہ ’رہائی فورس‘ کی صورت ارادے بھی کچھ اچھے نہیں (گو اس پر پارٹی کے اندر سے بھی تحفظات ظاہر کیے جا رہے ہیں)۔ کچھ ’لو اور دو‘ کی اس لڑائی میں ریاست زیادہ سے زیادہ وقت کے حصول کے لیے کوشاں ہے جبکہ دوسری جانب بھی بازی وقت پر ہی لگائی جا رہی ہے، بہر حال اس کڑے مقابلے میں دیکھتے ہیں پہلے آنکھ کون جھپکے گا؟ ریاست مجبور نہیں تاہم ’ہاؤس اِن آرڈر‘ کرنے کا تقاضا بہر حال موجود ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن اپنی سیاسی کشتیاں جلا چکی ہے اور یہ جاننا مشکل نہیں کہ تحریک انصاف سے راہ نکالنے میں ماضی کی طرح محسن نقوی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں جبکہ ن لیگ ایسے میں عمران خان کے لیے سیاسی پناہ گاہ بننا چاہتی ہے۔ رانا ثنا اللہ کا عمران خان کا ڈیل پر نہ ماننے کا واضح بیان تحریک انصاف کے دل میں گھر کر رہا ہے اور ممکنہ طور پر بقول علی امین گنڈاپور ’مشکل کے ساتھی‘ م

حسن نقوی کے متبادل کے طور پر جگہ بنا سکتے ہیں تاکہ گیم سیاسی لوگوں کے ہاتھ رہے۔ عمران خان کو دی جانے والی دو پیشکشیں محض اسی لیے ناکام ہوئی ہیں کہ بدلے میں عمران خان کوئی ضمانت دینے کو تیار نہیں۔

تحریک انصاف کا سوشل میڈیا خود ان کے لیے ایک ڈراؤنے خواب کی مانند ہے۔ تحریک انصاف کی قدآور شخصیات سوشل میڈیا کے ہاتھوں بونی ہو جاتی ہیں، جبکہ یہ کہنا کہ سوشل میڈیا بےمہار ہے، بالکل غلط ہے۔ سوشل میڈیا کی مہار ان اَن دیکھے ہاتھوں میں ہے جو دکھائی نہیں دیتے مگر سنائی ضرور دیتے ہیں۔ جماعت کے آزاد لوگ بےبس ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کی یہاں بیٹھی قیادت نہ صرف مجبور بلکہ محصور ہو چکی ہے۔

نظام بہرحال اس معاملے کا سیاسی حل نکالنا چاہتا ہے تاہم سرا ان کے ہاتھ بھی نہیں۔ کیا اگلے پانچ برس عمران جیل میں رہیں گے یا آزاد ہوں گے؟ آزاد ہوں گے تو خاموشی کی ضمانت کون دے گا؟ اور جیل میں رہیں گے تو وقت کی ضمانت کون دے گا؟ بات ضمانتوں کی ہے اور سردست ضمانتیں ہی دستیاب نہیں۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر