برطانوی پولیس نے پیر کو کہا کہ وہ ایک یہودی تنظیم کے زیر انتظام چلنے والی رضاکار ایمبولینسوں کو آگ لگائے جانے کے بعد ایک مشتبہ آتش زنی کے واقعے کی یہود مخالف ہیٹ کرائم کے طور پر تفتیش کر رہے ہیں۔
لندن میں ان چار گاڑیوں کو آگ لگائے جانے کے بارے میں ہم اب تک جو جانتے ہیں وہ یہ ہے، جس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا اور وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے اس کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’انتہائی افسوس ناک یہود مخالف آتش زنی کا حملہ‘ قرار دیا ہے۔
لندن فائر بریگیڈ نے کہا کہ انہیں رات ایک بج کر 40 منٹ پر (0140 جی ایم ٹی) شمالی لندن کے ایک علاقے گولڈرز گرین کے ہائی فیلڈ کورٹ میں گاڑیوں میں آگ لگنے کی اطلاع ملی، جہاں یہودیوں کی ایک بڑی آبادی مقیم ہے۔
جائے وقوعہ پر بلائے گئے تقریباً 40 فائر فائٹرز نے دیکھا کہ گاڑیوں پر موجود کئی سلنڈر پھٹ چکے ہیں، جس سے ملحقہ بلاک کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔
لندن کی میٹروپولیٹن پولیس فورس نے بتایا کہ جلنے والی گاڑیاں چار ہٹزالہ (Hatzalah) ایمبولینسیں تھیں جو یہودی کمیونٹی ایمبولینس سروس کی تھیں۔
پولیس نے مزید کہا کہ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے اور تمام جگہوں پر آگ بجھا دی گئی ہے۔
احتیاط کے طور پر قریبی گھروں کو خالی کروا لیا گیا جبکہ علاقے کی کچھ سڑکیں بند کر دی گئیں۔
پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ ’آتش زنی کے اس حملے کو یہود مخالف ہیٹ کرائم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔‘
سپرنٹنڈنٹ سارہ جیکسن نے کہا، ’ہم سی سی ٹی وی کا جائزہ لے رہے ہیں اور آن لائن فوٹیج سے بھی آگاہ ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ ہم اس ابتدائی مرحلے میں تین مشتبہ افراد کی تلاش میں ہیں۔‘
تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
برطانیہ میں یہود دشمنی کی نگرانی کرنے والے ایک فلاحی ادارے کمیونٹی سکیورٹی ٹرسٹ (سی ایس ٹی) نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ وہ پولیس کی تفتیش میں مدد کر رہا ہے۔
لندن فائر بریگیڈ نے بھی کہا کہ وہ آگ لگنے کی وجہ کی تفتیش کر رہے ہیں۔
سٹارمر نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ان کی ’ہمدردیاں اس یہودی کمیونٹی کے ساتھ ہیں جو آج صبح اس خوفناک خبر کے ساتھ بیدار ہوئی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’ہمارے معاشرے میں یہود دشمنی کی کوئی جگہ نہیں ہے،‘ اور بعد ازاں برطانیہ کی کمیونٹیز پر زور دیا کہ ’ایسے وقت میں سب مل کر کھڑے ہوں۔‘
شومرم نارتھ ویسٹ لندن، جو ایک فلاحی ادارہ اور رضاکار نیبرہڈ واچ گروپ ہے، نے اس آتش زنی کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک ’ٹارگٹڈ اور انتہائی تشویش ناک واقعہ قرار دیا ہے جس نے مقامی یہودی کمیونٹی کی خدمت کرنے والی ایک اہم ایمرجنسی سروس کو متاثر کیا ہے۔‘
گروپ نے فیس بک پر لکھا، ’ان ایمبولینسوں پر حملہ ہماری کمیونٹی کی حفاظت، فلاح اور استقامت پر حملہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں یہود دشمنی یا نفرت کی کوئی جگہ نہیں ہے۔‘
یہ ایمبولینسیں ہٹزالہ چلاتی ہے، جسے 1979 میں قائم کیا گیا تھا اور اسے رضاکار چلاتے ہیں۔
The antisemitic arson attack in Golders Green is horrifying.
— Keir Starmer (@Keir_Starmer) March 23, 2026
I’ve been in touch with Jewish community leaders this morning and will continue to do so throughout the day.
An attack on our Jewish community is an attack on us all. We will fight the poison that is antisemitism. pic.twitter.com/el2AqQ7F6a
یہ شمالی لندن میں رہنے والوں کو مفت طبی آمدورفت اور ہنگامی امداد فراہم کرتی ہے۔
برطانیہ کے چیف ربی، افرائیم میروس نے ایکس پر کہا، ’ہماری ہٹزالہ رضاکار ایمبولینس کور ایک غیر معمولی سروس ہے، جس کا واحد مقصد زندگی کا تحفظ کرنا ہے، خواہ وہ یہودی ہو یا غیر یہودی۔‘
’دہشت گردی، نفرت اور زندگی کی بے حرمتی کے لیے اس قدر پرعزم لوگوں کی جانب سے ہٹزالہ کو نشانہ بنانا، ان لوگوں کے درمیان جاری جنگ کی ایک انتہائی تکلیف دہ مثال ہے جو زندگی کو مقدس مانتے ہیں اور جو اسے تباہ کرنا چاہتے ہیں۔‘
نگرانی کرنے والے گروپس نے حالیہ برسوں میں برطانیہ میں یہود مخالف اور اسلامو فوبک واقعات میں اضافے کی اطلاع دی ہے، خاص طور پر غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ جنگ کے دوران۔
سی ایس ٹی نے گذشتہ سال برطانیہ بھر میں یہود مخالف نفرت کے 3,700 واقعات ریکارڈ کیے، جو 2024 کے مقابلے میں چار فیصد زیادہ ہیں، لیکن 2023 کے مقابلے میں کم ہیں۔
گروپ نے اس حملے کو بیلجیئم اور نیدرلینڈز میں ہونے والے حالیہ اسی طرح کے واقعات سے تشبیہ دی جہاں سکولوں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
یہودی کمیونٹی تنظیم کے لیے کام کرنے والے 36 سالہ ایڈم واٹرز نے حملے کی جگہ کے قریب اے ایف پی کو بتایا، ’مجھے اس بات پر کوئی حیرانی نہیں ہوئی کہ یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ ایک مسلسل جاری رہنے والی چیز ہے۔‘