جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے بدھ کو ایک نئی قومی فوجی حکمت عملی پیش کی، جس کا مقصد روس کے بڑھتے ہوئے خطرے کے ردعمل میں اقدامات کرنا ہے۔
جرمنی کی فوج ’بنڈس ویئر‘ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد ازسرِ نو اسلحہ بندی کے ایک پروگرام سے گزر رہی ہے، جبکہ ملک میں فوجیوں کی تعداد بڑھانے کی کوشش میں جنوری میں رضاکارانہ فوجی سروس بھی دوبارہ متعارف کروائی گئی ہے۔
جرمن نیوز ایجنسی ڈوئچے پریسے ایجنٹور (ڈی پی اے) کے مطابق بورس پسٹوریئس کے دفاعی منصوبے میں جرمنی کی پہلی فوجی حکمت عملی اور بنڈس ویئر کی صلاحیتوں کا تجزیہ شامل ہے، جس میں مسلح افواج کی تنظیم، ڈھانچے اور حجم کا تعین کیا گیا ہے۔
اگرچہ بیشتر تفصیلات خفیہ ہیں تاہم جرمن وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ان منصوبوں میں ’بنڈس ویئر کو یورپ کی سب سے مضبوط روایتی فوج میں تبدیل کرنا‘ شامل ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جرمن فوج میں اصلاحات کی پیش رفت پر برلن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے کہا: ’جرمن فوج (بنڈس ویئر) کی تاریخ میں پہلی بار ہم ایک فوجی حکمت عملی اپنا رہے ہیں اور اس کی معقول وجوہات ہیں۔ شاذ و نادر ہی کسی فوجی حکمت عملی کی اتنی ضرورت رہی ہے جتنی اس تاریخی مرحلے میں ہے۔‘
یوکرین کے خلاف روسی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا: ’خطرات کی صورت حال میں شدت آئی ہے، خاص طور پر یوکرین کے خلاف (روسی صدر) پوتن کی جنگ کے بعد۔ مزید برآں، بین الاقوامی قانونی نظام کو اس حد تک چیلنج کیا جا رہا ہے، جو ایک طویل عرصے سے نہیں دیکھا گیا یا شاید دوسری عالمی جنگ کے بعد سے نہیں۔ دوسرے الفاظ میں، دنیا زیادہ غیر متوقع ہو گئی ہے اور ہاں، یہ بھی کہنا ہوگا کہ زیادہ خطرناک بھی۔‘
برلن میں وزارتِ دفاع روس کو جرمنی کو درپیش بنیادی خطرہ قرار دیتی ہے۔
ڈی پی اے کے مطابق جرمنی کی حکمت عملی میں مغرب کے بارے میں ماسکو کے نقطۂ نظر کو بنیادی طور پر مخالف قرار دیا گیا ہے اور جمہوری ممالک کی نیٹو میں شمولیت کو اس کے محاصرے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ روسی حکومت ٹرانس اٹلانٹک اتحاد کے اندر ہم آہنگی کو کمزور کرنے اور امریکہ کو یورپ سے الگ کرنے کی خواہاں ہے تاکہ یورپ میں ماسکو کے اثر و رسوخ کے دائرے کو وسعت دی جا سکے۔
برلن کی حکمت عملی طویل فاصلے تک مار کرنے والے درست ہتھیاروں اور فضائی دفاعی نظام کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، تاہم اس میں مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ اور روبوٹکس جیسی ٹیکنالوجیز کی ترقی بھی شامل ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے اس کی وضاحت کچھ یوں کی: ’مختصر مدت میں ہم اپنی دفاعی اور استقامت کی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہے ہیں، درمیانی مدت میں ہم صلاحیتوں میں نمایاں اور ہمہ گیر اضافہ چاہتے ہیں اور طویل مدت میں ہم تکنیکی برتری قائم کریں گے۔‘
بورس پسٹوریئس نے کہا: ’بنیادی اصول یہ ہے کہ کم از کم 4 لاکھ 60 ہزار فعال فوجیوں کی مجموعی تعداد حاصل کی جائے، جس میں فعال ڈیوٹی اور ریزرو دونوں افواج شامل ہوں۔
’مطلوبہ فورس میں اضافے کا منصوبہ تین مراحل میں نافذ کیا جائے گا، جو ترتیب وار کے بجائے بیک وقت شروع ہوں گے۔ پہلا مرحلہ 2029 تک فورس میں اضافہ ہے۔ ابتدائی برسوں میں ہمیں اہلکاروں کی تعداد میں تیز رفتار اضافہ درکار ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ پائیداری اور دفاعی صلاحیت کو یقینی بنایا جا سکے۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’دوسرا مرحلہ 2035 تک ساخت کی توسیع پر مشتمل ہے۔ اس مرحلے میں ہم اپنی منصوبہ بندی کے مطابق تمام شعبوں میں صلاحیتوں کو بڑھانے پر توجہ دیں گے، خاص طور پر نیٹو کی صلاحیتی اہداف اور قومی صلاحیتی اہداف کے مطابق تاکہ ہم تبدیلیوں اور جدتوں کا جواب دے سکیں۔‘
2029 سے 2035 کو ’نئے ہتھیاروں کے نظام کے تعارف‘ کے سال قرار دیتے ہوئے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے کہا: ’ہماری خواہش ہے اور ہونی بھی چاہیے۔ یہ (جرمن) چانسلر کا پیغام بھی ہے اور میرا مضبوط ترین یقین بھی کہ ہم یورپ کی سب سے مضبوط روایتی فوج بنیں۔‘