پیٹر ماجیار ہنگری کے طویل عرصے تک برسر اقتدار رہنے والے رہنما وکٹر اوربان کے خلاف ایک ڈرامائی جیت کے بعد ملک کے نئے وزیر اعظم منتخب ہو گئے ہیں۔
ماجیار کی قیادت میں دائیں بازو کی اعتدال پسند اور یورپی یونین کی حامی جماعت ٹیسزا پارٹی نے اتوار کی شام ہنگری کے انتخابات جیت لیے۔
انہوں نے اوربان اور فیڈیز پارٹی کو شکست دی، جن کا اقتدار 16 سال پر محیط تھا اور جنہوں نے مسلسل چار انتخابات جیتے۔
انتخابی رات تک ماجیار نے دیہی علاقوں میں انتخابی مہم کے مسلسل دوروں کے ذریعے اوربان کے دیہی ووٹ بینک میں دراڑیں ڈالنے کی کوشش کی۔
45 سالہ پیٹر ماجیار پہلے ایک وکیل تھے جو بعد میں سیاست دان بنے۔
ان کا تعلق ایک ایسے سیاسی خاندان سے ہے جس کے گہرے سیاسی مراسم ہیں، جن میں ان کے بڑے چچا فیرنک ماڈل بھی شامل ہیں جو ہنگری کے سابق صدر رہ چکے ہیں۔
انہوں نے بوڈاپیسٹ کے وسط میں واقع ایک ایلیٹ کیتھولک بوائز ہائی سکول سے تعلیم حاصل کی اور پھر دارالحکومت کی ایک کیتھولک یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔
2006 میں انہوں نے فیڈیز پارٹی کی سابق وزیر انصاف جوڈت ورگا سے شادی کی اور اس جوڑے کے تین بیٹے ہیں۔ البتہ انہوں نے مارچ 2023 میں طلاق لے لی تھی۔
ماجیار نے سب سے پہلے فیڈیز پارٹی میں اس وقت شمولیت اختیار کی جب وہ ابھی کالج میں تھے۔ رفتہ رفتہ وہ پارٹی کے چیف آف سٹاف گیرگیلی گلیاس کے بہت قریب ہو گئے۔
ان کی ملاقات جوڈت ورگا سے 2005 میں ہوئی، جو اس وقت فیڈیز پارٹی کے اندر ایک ابھرتا ہوا ستارہ تھیں اور انہوں نے 2006 میں ان سے شادی کر لی۔
ورگا آخر کار 2019 میں وزیر انصاف بن گئیں۔ تاہم 2024 میں ایک سکینڈل سامنے آنے کے بعد انہوں نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی۔
اس سکینڈل میں ان کی اہلیہ ورگا بھی شامل تھیں اور یہ ایک ایسے شخص کو معافی دینے کے بارے میں تھا جس نے فیڈیز حکومت کی جانب سے ایک بدنام زمانہ پیڈوفائل کے جرائم پر پردہ ڈالنے میں مدد کی تھی۔
ماجیار نے اپنی اہلیہ کی ایک خفیہ ریکارڈنگ جاری کی، جس میں مبینہ طور پر انہیں اس کیس میں حکومتی مداخلت کے بارے میں بتاتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
2024 میں ماجیار نے یورپی پارلیمنٹ کے انتخابات لڑنے کے لیے غیر معروف ٹیسزا پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور گذشتہ جون میں 29 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ ان کی قیادت میں پارٹی نے ’اب نہیں تو کبھی نہیں!‘ کا نعرہ اپنایا۔
انہیں بڑے پیمانے پر فیڈیز پارٹی کے ایک ایسے ’اندرونی شخص‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو اب باغی بن چکے ہیں۔
انہوں نے اس تاثر کو تقویت دیتے ہوئے 2024 میں بی بی سی کو بتایا کہ کچھ عرصے بعد میں کھلم کھلا اور دوستوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ تنقیدی ہوتا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ آج ہم جو فیڈیز دیکھ رہے ہیں وہ اس سے بہت مختلف ہے جس میں انہوں نے 2002 میں شمولیت اختیار کی تھی۔
ماجیار کے مطابق انہیں سیاست دانوں کی جانب سے ہمیشہ بتایا جاتا تھا کہ اقتدار برقرار رکھنا ضروری ہے اور انہوں نے کچھ عرصے تک اسے قبول بھی کیا، لیکن ظاہر ہے کہ اصل موڑ 2024 میں آیا۔
ماجیار کا ’اب نہیں تو کبھی نہیں‘ کا نعرہ انیسویں صدی کے ایک انقلابی شاعر کی وطن کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کی پکار سے ماخوذ ہے۔
انہوں نے بدعنوانی سے نمٹنے، معیشت کو بہتر بنانے اور ہنگری کی پسماندہ روما کمیونٹی کی حمایت حاصل کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
ٹیسزا کے رہنما نے یورپی یونین کے اربوں یورو کے فنڈز حاصل کرنے کا عہد بھی کر رکھا ہے۔
© The Independent