قرون وسطیٰ کے کیمیا دان سیسے کو سونے میں تبدیل کرنے کے خواب دیکھا کرتے تھے۔ آج ہمیں معلوم ہے کہ سیسہ اور سونا دو مختلف عناصر ہیں اور کوئی بھی کیمیائی عمل انہیں ایک سے دوسری دھات میں تبدیل نہیں کر سکتا ہے۔
ہمارا جدید علم ہمیں سیسے کے ایک ایٹم اور سونے کے ایک ایٹم کے درمیان بنیادی فرق بتاتا ہے یعنی سیسے کے ایٹم میں بالکل تین پروٹون زیادہ ہوتے ہیں۔
تو کیا ہم سیسے کے ایک ایٹم سے صرف تین پروٹون نکال کر سونے کا ایٹم بنا سکتے ہیں؟
جیسا کہ ثابت ہوا ہے، ہم ایسا کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ آسان نہیں ہے۔
بگ بینگ کے فوراً بعد کائنات کی حالت کی نقل کرنے کی کوشش میں سیسے کے ایٹموں کو انتہائی تیز رفتاری سے ایک دوسرے سے ٹکرانے کے دوران، سوئٹزرلینڈ میں لارج ہیڈرون کولائیڈر میں اے لارج آئن کولائیڈر ایکس پیریمنٹ (اے ایل آئی سی) تجربے پر کام کرنے والے طبیعیات دانوں نے اتفاقیہ طور پر تھوڑی مقدار میں سونا تیار کر لیا۔
دراصل یہ مقدار انتہائی کم ہے۔ کُل ملا کر ایک گرام کا تقریباً 29 کھربواں حصہ۔
پروٹون کیسے چرایا جائے؟
پروٹون ایٹم کے مرکزے میں پائے جاتے ہیں۔ انہیں کیسے باہر نکالا جا سکتا ہے؟
دراصل، پروٹونز پر الیکٹرک چارج ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ الیکٹرک فیلڈ انہیں کھینچ یا دھکیل سکتی ہے۔ ایک ایٹمی مرکزے کو الیکٹرک فیلڈ میں رکھنے سے ایسا کیا جا سکتا ہے۔
تاہم، مرکزے ایک بہت ہی مضبوط قوت کے ذریعے آپس میں جڑے ہوتے ہیں جس کی رینج بہت کم ہوتی ہے، جسے تصوراتی طور پر مضبوط ایٹمی قوت کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ پروٹون نکالنے کے لیے ایک انتہائی طاقتور الیکٹرک فیلڈ کی ضرورت ہوتی ہے جو فضا میں آسمانی بجلی پیدا کرنے والی الیکٹرک فیلڈز سے تقریباً 0.1 کروڑ گنا زیادہ طاقتور ہو۔
سائنس دانوں نے اس فیلڈ کو بنانے کا طریقہ یہ اپنایا کہ سیسے کے مرکزوں کی شعاعوں کو ناقابل یقین حد تک تیز رفتاری یعنی تقریباً روشنی کی رفتار سے ایک دوسرے پر فائر کیا۔
قریب سے گزرنے کا جادو
جب سیسے کے مرکزوں کا آمنے سامنے سے ٹکراؤ ہوتا ہے، تو مضبوط ایٹمی قوت عمل میں آتی ہے اور وہ مکمل طور پر تباہ ہو جاتے ہیں۔
لیکن زیادہ تر ایسا ہوتا ہے کہ مرکزے قریب سے گزر جاتے ہیں، اور صرف برقی مقناطیسی قوت کے ذریعے ایک دوسرے کو متاثر کرتے ہیں۔
جیسے جیسے آپ الیکٹرک چارج والی کسی چیز جیسے پروٹون سے دور ہوتے ہیں، الیکٹرک فیلڈ کی طاقت بہت تیزی سے کم ہو جاتی ہے۔
لیکن بہت کم فاصلے پر، ایک چھوٹا سا چارج بھی بہت مضبوط فیلڈ بنا سکتا ہے۔
لہذا جب سیسے کا ایک مرکزہ دوسرے کے بالکل قریب سے رگڑ کھا کر گزرتا ہے، تو ان کے درمیان الیکٹرک فیلڈ بہت بڑی ہوتی ہے۔
مرکزوں کے درمیان تیزی سے بدلتی ہوئی فیلڈ انہیں مرتعش کرتی ہے اور وہ کبھی کبھار کچھ پروٹون باہر نکال دیتے ہیں۔
اگر ان میں سے کوئی ایک بالکل تین پروٹون باہر نکال دیتا ہے، تو سیسے کا مرکزہ سونے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پروٹونز کا شمار
لہذا اگر آپ نے سیسے کے ایک ایٹم کو سونے میں تبدیل کر دیا ہے، تو آپ کو کیسے معلوم ہوگا؟
ایلس تجربے میں، وہ سیسے کے مرکزوں سے نکالے گئے پروٹونز کو گننے کے لیے خصوصی ڈیٹیکٹر استعمال کرتے ہیں جنہیں زیرو ڈگری کیلوری میٹر کہا جاتا ہے۔
وہ بذات خود سونے کے مرکزوں کا مشاہدہ نہیں کر سکتے، اس لیے وہ ان کے بارے میں صرف بالواسطہ طور پر ہی جانتے ہیں۔
ایلس سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ، جب وہ سیسے کے مرکزوں کی شعاعوں کو ٹکرا رہے ہوتے ہیں، تو وہ فی سیکنڈ تقریباً 89,000 سونے کے مرکزے پیدا کرتے ہیں۔
انہوں نے دیگر عناصر کی پیداوار کا بھی مشاہدہ کیا: تھیلیم، جو آپ کو اس وقت ملتا ہے جب آپ سیسے سے ایک پروٹون نکالتے ہیں، اور اسی طرح مرکری یعنی دو پروٹون۔
کیمیا گری کا درد سر
جب ایک بار سیسے کا مرکزہ پروٹون کھو کر تبدیل ہو جاتا ہے، تو وہ اس بہترین مدار پر نہیں رہتا جو اسے لارج ہیڈرون کولائیڈر کے ویکیوم بیم پائپ کے اندر گردش میں رکھتا ہے۔
کچھ ہی مائیکرو سیکنڈز میں یہ دیواروں سے ٹکرا جائے گا۔
یہ اثر وقت کے ساتھ شعاع کی شدت کو کم کر دیتا ہے۔
لہذا سائنس دانوں کے لیے، کولائیڈر میں سونے کی پیداوار دراصل ایک نعمت سے زیادہ درد سر ہے۔
تاہم، اس اتفاقی کیمیا گری کو سمجھنا تجربات کو بامعنی بنانے اور مستقبل کے اس سے بھی بڑے تجربات کو ڈیزائن کرنے کے لیے ضروری ہے۔
قبل ازیں یہ تحریر دا کنورسیشن میں شائع ہو چکی ہے۔
© The Independent