جنیوا سوئٹزرلینڈ کا وہ شہر ہے جس کی آبادی تو صرف پانچ لاکھ ہے مگر دنیا کے کروڑوں لوگوں، حکومتوں، سیاست دانوں اور سفارت کاروں کو اس کا نام ازبر ہے۔
یہاں ریڈ کراس کا قیام ہوا، لیگ آف نیشنز یہاں بنی جو بعد میں اقوامِ متحدہ کی شکل اختیار کر گئی، ویت نام کی جنگ کا اختتامی معاہدہ یہاں ہوا، اور کیمیائی ہتھیاروں پر مباحثے اور پابندیاں یہیں سے لگیں۔ مشہورِ زمانہ جنیوا کنونشن نے دنیا کے جنگی کلچر میں انسانیت کے راستے ڈھونڈے۔
شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے جنگوں کے بعد جنیوا سے یورپ کے ابھرتے ہوئے عالمی یکجہتی کے پیغام سے متاثر ہو کر ’مکہ اور جنیوا‘ نظم لکھی۔ ایسے ہی اقبال کا ایک شعر بہت سنایا جاتا ہے:
تہران ہو گر عالمِ مشرق کا جنیوا
شاید کرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے
لیکن وہی جنیوا حالیہ کچھ برسوں میں غیر ضروری، غیر اہم اور لاتعلق لگنے لگا ہے۔ یہ خبر بھی بغیر کوئی بریکنگ نیوز بنائے خاموشی سے آئی اور چلی گئی کہ گذشتہ برس فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے سربراہوں سمیت یورپی یونین کے اہم افراد ایرانی حکام سے جنیوا میں ملے۔ بات چیت کا لبِ لباب ایران اور اسرائیل کی ممکنہ جنگ کو ہونے سے پہلے روکنا تھا۔
ابھی اس بات چیت کو 24 گھنٹے بھی نہیں ہوئے تھے کہ اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملہ کیا اور جنگ شروع ہو گئی۔ فرانس، جرمنی اور برطانیہ جو بڑے کروفر سے جنیوا میں سفارت کاری کر رہے تھے، وہ اپنا سا منھ لے کر رہ گئے کیونکہ ان کے اتحادی امریکہ نے انہیں بتایا تک نہیں اور اگلے ہی دن طبلِ جنگ بجا دیا۔ تہران کو یونہی نہیں اسلام آباد کی اہمیت کا اندازہ ہوا، کوئی وجہ ہے۔
ہم نے یورپ سے اٹھتے ٹھنڈے موسم بہت دیکھ لیے، محسوس یوں ہوتا ہے کہ اب مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو دیکھنے کا وقت آ گیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے اور ایرانی جوابی حملوں کے بعد جو نئی دنیا نظر آتی ہے، اس میں یورپ کسی انتظار گاہ میں بیٹھا نظر آ رہا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
برسلز کی گلیاں جو دنیا بھر سے آئے سفارت کاروں کا گویا مستقل ٹھکانہ ہوا کرتی ہیں، سونی پڑی ہیں۔ اوسلو کے درجنوں ڈپلومیٹک ادارے جو سب کے سب امن اور مذاکرات کے ایجنڈے پر مصروف رہتے ہیں، اس وقت وہ بھی آپ ہم سب کی طرح میڈیا سے خبریں سن رہے ہیں کہ تیسری عالمی جنگ ٹلی یا نہیں۔ سوئٹزرلینڈ کا مشہور سفارت کاری کا ادارہ ورلڈ اکنامک فورم اس وقت خود بحران کا شکار ہے۔ اور آدھی دنیا کو اپنی کالونی بنانے والا برطانیہ خود اپنے وزیراعظم کو دل پر نہیں لیتا تو باقی دنیا سے ان کی کون سنے گا۔
ناروے جس نے فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان متنازع لیکن مشہور اوسلو معاہدہ کروایا تھا، اس وقت خاموش بیٹھا ہے۔ اوسلو کے پاس اس وقت کہنے کو مذمت کے چار لفظ ہیں جو وہ ہر ہفتے کسی روبوٹک انداز میں جاری کر دیتے ہیں۔
دنیا کو سفارت کاری سکھانے والا یورپ اس وقت دنیا کو بچانے کی حیثیت کھو چکا ہے، یہ اپنی ساکھ ہی بچا لے تو بڑی بات ہے۔ امریکی صدر بلا ناغہ ناشتے میں کسی ایک یورپی ملک کی عزت افزائی فرماتے ہیں اور یورپی لیڈر جھینپ کر اپنی مقامی زبان میں منمناتے رہ جاتے ہیں۔ ایران سے امریکہ نے جنگ شروع کی تب بھی یورپ کو اعتماد میں نہیں لیا اور اب اگر مستقل جنگ بندی ہوئی تب بھی یورپ کو کوئی نہیں پوچھ رہا۔
لبنان فرانس کی سفارتی شطرنج میں اہم مہرہ سمجھا جاتا ہے، لبنانی آرمی کو فرانس ہتھیار فراہم کرتا ہے اور خطے میں موجودگی قائم کرتا ہے لیکن حال یہ ہے کہ لبنان کے ساتھ اسرائیل کے مذاکرات میں فرانس کو کھڈے لائن لگا دیا گیا ہے۔ اسرائیل نے فرانس سے ہتھیاروں کی خرید بند کر دی ہے اور فرانسیسی صدر میکرون کو اس صورتحال میں ایک مکمل اندھیرے میں دھکیل دیا گیا ہے۔
سپین اور اٹلی آہستہ آہستہ مخصوص یورپی منافقانہ خاموشی سے باہر نکل رہے ہیں اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر یورپ کا یہ حال ہے کہ یہ اسرائیل کے کھل کر حمایتی نہیں اور اسے ناراض بھی نہیں کر سکتے۔
ہم نے مانا کہ سفارت کاری لچک دکھانے کا کام ہے، لیکن تھالی کے بینگنوں کو کوئی کہاں تک اہمیت دے سکتا ہے۔ نئی دنیا اب نہ یورپی قراردادوں سے چل رہی ہے نہ ہی امن معاہدوں کے لیے جنیوا کی جانب دیکھ رہی ہے۔ اور یہ نئی دنیا یورپ کی جائزہ رپورٹ برائے انسانی حقوق جیسی فائلیں پڑھنے میں بالکل دلچسپی نہیں رکھتی۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔