1958 سے لاپتہ امریکی خاندان کی باقیات برآمد ہونے سے دہائیوں پرانا معمہ حل

یہ خاندان 1958 میں کرسمس کی سجاوٹ کے لیے سبزہ تلاش کرتے ہوئے لاپتہ ہو گیا تھا اور اب ڈی این اے تجزیے کے ذریعے دریائے کولمبیا میں ڈوبی ہوئی ایک گاڑی سے ملنے والی باقیات سے ان کی شناخت ہو گئی ہے۔

کین مارٹن خاندان کی جانب سے فراہم کردہ کرسمس کی ایک تصویر میں (بائیں سے دائیں) باربرا، کین، باربرا، سو، ڈونلڈ اور ورجینیا کو دسمبر 1952 میں پورٹ لینڈ میں دکھایا گیا ہے (کین مارٹن خاندان بذریعہ اے پی)

امریکی ریاست اوریگن کے ایک خاندان کے گرد گھومنے والا دہائیوں پرانا معمہ بالآخر حل ہو گیا ہے۔ یہ خاندان 1958 میں کرسمس کی سجاوٹ کے لیے سبزہ تلاش کرتے ہوئے لاپتہ ہو گیا تھا اور اب ڈی این اے تجزیے کے ذریعے دریائے کولمبیا میں ڈوبی ہوئی ایک گاڑی سے ملنے والی باقیات سے ان کی شناخت ہو گئی ہے۔

حکام نے جمعرات کو تصدیق کی کہ ریاستی میڈیکل ایگزامنر کے دفتر نے ملبے سے ملنے والی باقیات کی شناخت والدین کینتھ اور باربرا مارٹن اور ان کی بیٹی باربی کے طور پر کی ہے۔ ہُڈ ریور کاؤنٹی شیرف کے دفتر نے اپنی تحقیقات مکمل کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں کسی جرم کے شواہد نہیں ملے۔

فورڈ سٹیشن ویگن، جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ اسی خاندان کی تھی، 2024 میں ایک غوطہ خور نے دریافت کی۔ بعد ازاں گاڑی کے کچھ حصے نکال لیے گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس خاندان کے دو بچوں کی لاشیں ان کے لاپتہ ہونے کے چند ماہ بعد مل گئی تھیں جبکہ دیگر افراد بدستور لاپتہ رہے۔ مارٹن خاندان کی گمشدگی نے اُس وقت قومی سطح پر توجہ حاصل کی، جس سے کسی ممکنہ جرم کے بارے میں قیاس آرائیاں جنم لیں اور ایک ہزار ڈالر انعام کا اعلان بھی کیا گیا۔

1959 میں گمشدگی کے چند ماہ بعد خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ میں یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ ’اگر آپ ہر اُس جگہ تلاش کر چکے ہوں جہاں منطق اور ٹوٹے پھوٹے سراغ اشارہ کرتے ہوں، تو پھر کہاں تلاش کریں گے؟‘

شیرف کے دفتر کے مطابق پانی سے صرف گاڑی کا ڈھانچہ اور اس سے جڑے کچھ حصے ہی نکالے جا سکے کیونکہ ’گاڑی بڑی حد تک تہہ میں جمی مٹی میں دفن ہو چکی تھی۔‘ انہی اشیا کے تجزیے سے تفتیش کار اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ واقعی مارٹن خاندان کی گاڑی تھی۔

بعد ازاں 2025 میں ایک غوطہ خور کو انسانی باقیات ملیں جنہیں بالآخر ریاستی میڈیکل ایگزامنر کے دفتر کے حوالے کر دیا گیا۔

حکام کے مطابق سائنس دانوں نے ان باقیات سے ڈی این اے کے نمونے تیار کیے اور ایک پروفائل بنایا جس کا مارٹن خاندان کے رشتہ داروں سے موازنہ کیا گیا، جس سے شناخت ممکن ہو سکی۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ