کیا پاکستان ایشین گیمز میں پہلی مرتبہ کرکٹ کا طلائی تمغہ جیت سکے گا؟

صاحبزادہ فرحان کا خیال ہے کہ نسبتاً کم تجربہ کار سکواڈ کو کمزور سمجھنا غلط ہوگا۔

صاحبزادہ فرحان 28 فروری 2026 کو ٹی 20 ورلڈ کپ کے میچ کے دوران پالیکیلے میں سری لنکا کے خلاف سینچری بنانے کے بعد (اے ایف پی)

جاپان کے شہر آیچی ناگویا میں شروع ہونے والے ایشین گیمز کی مردوں کی ٹی20 کرکٹ مقابلوں میں پاکستان ایک نئے کپتان، نوجوان کھلاڑیوں اور بڑی امیدوں کے ساتھ میدان میں اترنے جا رہا ہے۔ قومی ٹیم کی نظریں نہ صرف اچھے آغاز پر ہیں بلکہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ان گیمز میں مردوں کے کرکٹ مقابلوں کا طلائی تمغہ جیتنے پر بھی مرکوز ہیں۔

پاکستان کی مردوں کی کرکٹ ٹیم ایشین گیمز 2026 میں اپنی مہم کا آغاز 28 ستمبر 2026 کو کوارٹر فائنل سے کرے گی۔

پاکستان نے روانگی سے قبل کراچی میں چار روزہ خصوصی تربیتی کیمپ لگا کر تیاریاں مکمل کیں۔ ٹیم انتظامیہ نے کوشش کی کہ جاپان کے کوروگی سپورٹس پارک میں متوقع کنڈیشنز کو پاکستان میں ہی دوبارہ تخلیق کیا جائے تاکہ کھلاڑی وہاں پہنچتے ہی مقابلے کے لیے تیار ہوں۔

قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے حال ہی میں ایشین گیمز کے مقام کا دورہ کیا تھا اور وہاں کی پچز اور ماحول کا جائزہ لینے کے بعد ٹیم کی تیاریوں کا منصوبہ مرتب کیا۔ اسی حکمت عملی کے تحت کیمپ میں ایسی پچز تیار کی گئیں جو جاپان کی کنڈیشنز سے مماثلت رکھتی ہیں جبکہ بیٹرز نے سپن کے خلاف کھیلنے پر خصوصی توجہ دی۔

نئے کپتان فرحان پر نظریں

اوپننگ بیٹر صاحبزادہ فرحان پہلی مرتبہ پاکستان کی قیادت کریں گے۔ فرحان کا کہنا ہے کہ ٹیم نے کیمپ کے دوران ایسی شاٹس پر بھی کام کیا جو عموماً ان کے کھیل کا حصہ نہیں ہوتیں۔

انہوں نے کہا کہ جاپان میں سپنرز اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، اسی لیے انہوں نے سوئیپ اور ریورس سوئیپ جیسے شاٹس کی مشق کی ہے۔ ان کے مطابق ٹیم نے مختلف میچ صورت حال پر مبنی پریکٹس میچز بھی کھیلے ہیں تاکہ کھلاڑی ہر چیلنج کے لیے تیار ہوں۔

صاحبزادہ فرحان کے لیے یہ قیادت کا سب سے بڑا امتحان ہوگا۔ اگرچہ وہ ماضی میں محدود سطح پر ٹی20 ٹیم کی کپتانی کر چکے ہیں، لیکن قومی ٹیم کی قیادت ایک مختلف ذمہ داری ہے۔

پاکستان کا سکواڈ تجربہ کار اور ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کا مجموعہ ہے۔ 15 رکنی دستے میں عاکف جاوید، علی رضا، معاذ صداقت اور سعد مسعود ایسے کھلاڑی ہیں جنہوں نے ابھی بین الاقوامی کرکٹ میں ڈیبیو نہیں کیا۔

دوسری جانب صائم ایوب، ابرار احمد، عثمان خان اور صاحبزادہ فرحان رواں سال ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں، جس سے ٹیم کو اہم تجربہ حاصل ہوگا۔

فرحان کا خیال ہے کہ نسبتاً کم تجربہ کار سکواڈ کو کمزور سمجھنا غلط ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ٹیم میں شامل تمام کھلاڑی یا تو بین الاقوامی کرکٹ کھیل چکے ہیں یا پھر ڈومیسٹک کرکٹ اور پاکستان سپر لیگ میں شان دار کارکردگی کے بعد منتخب ہوئے ہیں، اس لیے وہ اپنے ساتھیوں پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں۔

سی پی ایل سے اعتماد میں اضافہ

انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز میں تو پاکستانی کھلاڑیوں کی فارم اچھی نہیں رہی لیکن انفرادی لیگز میں کھلاڑی اچھا پرفارم کر رہے ہیں۔

ویسٹ انڈیز میں منعقد ہونے والی کیریبین پریمیئر لیگ (سی پی ایل) میں صوفیان مقیم نے فائنل میں چار وکٹیں لے کر اپنی ٹیم کو ٹائٹل جتوانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ دوسری جانب معاذ صداقت نے پلے آف مرحلے میں سنچری بنا کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صائم ایوب نے بھی ٹورنامنٹ کے دوران ایک شان دار سنچری سکور کی جبکہ وکٹ کیپر بیٹر عثمان خان بھی لیگ میں ایکشن میں نظر آئے۔

پاکستان ایشین گیمز میں چار سیڈڈ ٹیموں میں شامل ہے، جس کی وجہ سے اسے ابتدائی مرحلے کے میچز کھیلنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

قومی ٹیم 28 ستمبر کو براہ راست کوارٹر فائنل سے اپنی مہم کا آغاز کرے گی۔ پاکستان کا مقابلہ گروپ بی میں دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیم سے ہوگا، جہاں ہانگ کانگ، ملائیشیا اور عمان شامل ہیں۔

کاغذ پر دیکھا جائے تو پاکستان کو فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے، لیکن ٹی20 فارمیٹ کی غیر یقینی صورت حال کسی بھی ٹیم کو خطرناک بنا سکتی ہے۔

سونے کے تمغے کا خواب

پاکستانی کرکٹ نے عالمی سطح پر متعدد فتوحات سمیٹی ہیں، لیکن ایشین گیمز کے مردوں کے کرکٹ مقابلوں میں طلائی تمغہ اب تک قومی ٹیم کی پہنچ سے دور رہا ہے۔

اس بار نوجوان خون، حالیہ فارم، مخصوص تیاریوں اور ایک پرجوش کپتان کے ساتھ پاکستان کو امید ہے کہ وہ جاپان سے تاریخی کامیابی کے ساتھ وطن واپس لوٹے گا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا صاحبزادہ فرحان کی قیادت میں یہ نئی نسل ایشیا کی چوٹی سر کر کے پاکستان کے لیے پہلا ایشین گیمز گولڈ میڈل جیت پاتی ہے یا نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ