ڈاکٹر نجیب اللہ کون تھے اور ان کا انجام کیوں آج بھی یاد کیا جاتا ہے؟

نجیب اللہ نے یہ سمجھ لیا تھا کہ صرف فوجی طاقت سے افغانستان کو نہیں چلایا جا سکتا۔ اسی لیے انہوں نے ’قومی مفاہمت‘ کی پالیسی متعارف کروائی، جس کا مقصد مجاہدین کو مذاکرات کی میز پر لانا تھا۔

آج سے ٹھیک 30 برس قبل27 ستمبر 1996 میں طالبان نے کابل پر پہلی مرتبہ قبضہ کیا تو دنیا نے ایک ایسا منظر دیکھا جو آج بھی افغانستان کی تاریخ کے تاریک ترین ابواب میں شمار ہوتا ہے۔

افغانستان کے سابق صدر ڈاکٹر نجیب اللہ کو اقوام متحدہ کے دفتر سے نکال کر قتل کر دیا گیا اور ان کی لاش کابل کے ایک چوک میں لٹکا دی گئی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر نجیب اللہ کا انجام اتنا المناک کیوں ہوا؟

ڈاکٹر نجیب اللہ 1947 میں افغانستان کے صوبہ پکتیا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کابل یونیورسٹی سے طب کی تعلیم حاصل کی، جس کی وجہ سے انہیں عام طور پر ’ڈاکٹر نجیب‘ بھی کہا جاتا تھا۔ تاہم، عملی زندگی میں وہ ڈاکٹر سے زیادہ سیاست دان ثابت ہوئے۔

نوجوانی میں وہ افغانستان کی بائیس بازو کی کمیونسٹ جماعت، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان یعنی پی ڈی پی اے میں شامل ہو گئے، جو بعد میں سوویت یونین کی حمایت یافتہ حکومت کی بنیاد بنی۔

انیس سو اناسی میں سوویت یونین نے افغانستان میں فوجیں داخل کیں۔ اس دوران نجیب اللہ افغانستان کی خفیہ ایجنسی ’خاد‘ کے سربراہ بن گئے۔ اس دوران ان پر مخالفین کے خلاف سخت کارروائیوں کے الزامات لگتے رہے۔

1986 میں سوویت قیادت نے ببرک کارمل کی جگہ نجیب اللہ کو افغانستان کا رہنما بنایا اور 1987 میں وہ باقاعدہ صدر بن گئے۔ 

سوویت یونین نے دسمبر 1979 میں کابل میں قائم اپنی حامی حکومت کو سہارا دینے کے لیے افغانستان میں فوجی مداخلت کی تھی اور 1989 میں مرحلہ وار انخلا مکمل ہونے تک ایک لاکھ سے زائد فوجی ملک میں تعینات رکھے تھے۔

نجیب اللہ نے یہ سمجھ لیا تھا کہ صرف فوجی طاقت سے افغانستان کو نہیں چلایا جا سکتا۔ اسی لیے انہوں نے ’قومی مفاہمت‘ کی پالیسی متعارف کروائی، جس کا مقصد مجاہدین کو مذاکرات کی میز پر لانا تھا۔ انہوں نے کمیونسٹ شناخت کو ختم کرنے کی بھی کوشش کی اور بعد میں اپنی جماعت کا نام تبدیل کر کے وطن پارٹی رکھ دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

1989 میں پاکستان کے ساتھ جنیوا معاہدے کے تحت سوویت افواج افغانستان سے نکل گئیں۔ کئی مبصرین کا خیال تھا کہ نجیب اللہ کی حکومت چند ماہ سے زیادہ نہیں چل سکے گی، لیکن ان کی حکومت تقریباً تین سال تک برقرار رہی۔

تاہم، 1991 میں سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد کابل حکومت کی مالی اور عسکری مدد تقریباً ختم ہو گئی۔ نتیجتاً 1992 میں نجیب اللہ کا اقتدار بھی ختم ہو گیا اور مجاہدین کابل میں داخل ہو گئے۔

نجیب اللہ افغانستان سے نکل کر انڈیا جانا چاہتے تھے، لیکن وہ ایسا نہ کر سکے۔ اس کے بعد انہوں نے کابل میں اقوام متحدہ کے کمپاؤنڈ میں پناہ لے لی، جہاں وہ تقریباً چار سال تک مقیم رہے۔

ستمبر 1996 میں طالبان نے کابل پر پہلا قبضہ کیا۔ طالبان جنگجو اقوام متحدہ کے دفتر پہنچے، نجیب اللہ اور ان کے بھائی کو وہاں سے نکالا اور انہیں قتل کر دیا۔

ڈاکٹر نجیب اللہ افغانستان کی تاریخ کی ایک پیچیدہ شخصیت ہیں۔ ان کے ناقدین انہیں سوویت حمایت یافتہ حکمران اور سخت گیر سکیورٹی نظام کا معمار قرار دیتے ہیں، جبکہ ان کے حامی کہتے ہیں کہ وہ افغانستان میں قومی مصالحت اور ریاستی استحکام کی آخری بڑی کوشش کرنے والے رہنما تھے۔ ان کے کردار اور انجام کے بارے میں بحث آج بھی جاری ہے۔

قابل بحث سوال یہ ہے کہ اگر نجیب اللہ کی قومی مفاہمت کی کوششیں کامیاب ہو جاتیں، تو کیا افغانستان دہائیوں پر محیط جنگ، خانہ جنگی اور طالبان کے عروج سے بچ سکتا تھا؟ شاید یہ ہی وہ سوال ہے جس کا جواب آج بھی افغان تاریخ تلاش کر رہی ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ