پاکستان: کتنی خوراک صارف تک پہنچنے سے پہلے ضائع ہو جاتی ہے؟

خوراک کے ضیاع اور نقصان سے آگاہی کے عالمی دن کے حوالے سے اس رپورٹ میں جانیے کہ پاکستان کو کیا چیلنجز درپیش ہیں۔

کراچی میں ایک مزدور فروٹ اور سبزی منڈی سے 18 نومبر 2025 کو چند کریٹ اٹھائے جا رہا ہے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

پاکستان میں خوراک کا مسئلہ صرف پیداوار بڑھانے تک محدود نہیں بلکہ پیدا ہونے والی خوراک کو کھیت سے منڈی اور پھر صارف تک محفوظ پہنچانا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

پاکستان کے سرکاری زرعی شعبے کے ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان کے مطابق ملک میں پھلوں اور سبزیوں کی مجموعی پیداوار کا تقریباً 30 سے 40 فیصد حصہ صارفین تک پہنچنے سے پہلے ضائع ہو جاتا ہے۔ بعض پھلوں میں باغ کی سطح پر ہی 20 سے 35 فیصد تک نقصانات رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ منڈی اور نقل و حمل کے دوران مزید نقصان ہوتا ہے۔

ناقص ذخیرہ گاہیں، کولڈ چین کی کمی، غیر مناسب پیکنگ، نقل و حمل کے دوران ہونے والا نقصان اور کمزور سپلائی چین ایسے عوامل ہیں جو بڑی مقدار میں زرعی پیداوار کو صارف تک پہنچنے سے پہلے ضائع کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اناج میں فصل کے بعد ہونے والے نقصانات تقریباً 3 سے 6 فیصد تک ہیں، جبکہ جلد خراب ہونے والی زرعی اجناس میں یہ شرح 25 سے 40 فیصد تک بتائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ خوراک کی تیاری کے بعد گھروں اور ہوٹلوں میں ہونے والا ضیاع بھی ایک الگ بڑا مسئلہ ہے۔

صرف فصل کا نقصان نہیں، کسان اور صارف دونوں متاثر

خوراک کے ضیاع کا براہ راست اثر کسان کی آمدنی پر پڑتا ہے۔ فصل کا کچھ حصہ اگر کھیت سے منڈی یا منڈی سے مارکیٹ تک پہنچنے کے دوران خراب ہوجائے تو کسان کی قابلِ فروخت پیداوار کم ہوجاتی ہے۔

دوسری جانب سپلائی میں کمی، نقل و حمل اور ذخیرہ کرنے کے اخراجات اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر بھی دباؤ ڈالتے ہیں۔

ورلڈ بینک کی پاکستان سے متعلق ایک رپورٹ میں بھی مختلف غذائی اجناس میں فصل کے بعد ہونے والے نقصانات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رپورٹ کے مطابق آڑو اور جاپانی پھل میں تقریباً 25 فیصد، آم میں 30 فیصد جبکہ دودھ میں 15 سے 20 فیصد تک پیداوار کے بعد نقصان رپورٹ ہوا۔

سبزی منڈی آڑھتیان لاہور کے جنرل سیکرٹری رانا محمد عمران نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں کھیت یا باغ سے منڈی اور پھر منڈی سے مارکیٹ تک پھل اور سبزیاں پہنچانے کا نظام مؤثر نہیں۔

ان کے مطابق کئی پھل اور سبزیاں منڈی تک پہنچنے سے پہلے ہی 20 سے 25 فیصد تک خراب ہوجاتی ہیں، جبکہ کولڈ سٹوریج اور جدید ٹرانسپورٹ کی سہولیات بھی محدود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہی صورتحال زیادہ پیداوار کے باوجود پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ بنتی ہے۔

کسان اتحاد کے چیئرمین ملک خالد کھوکھر کے مطابق گندم اور چاول جیسے اناج کی ہارویسٹ کے دوران تقریباً 10 فیصد تک پیداوار ضائع ہوجاتی ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی، بے وقت بارشوں اور بعض علاقوں میں سیلاب سے بھی فصلوں کو نقصان پہنچتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پھلوں اور سبزیوں کو فوری طور پر منڈی تک پہنچانے کے لیے پاکستان میں ٹرانسپورٹ کا معیار ترقی یافتہ ممالک جیسا نہیں، تاہم سب سے بڑا مسئلہ فصلوں کی دیکھ بھال اور مناسب کولڈ یا اسٹوریج سہولیات کا فقدان ہے۔

گھروں اور ہوٹلوں میں بھی خوراک کا بڑا ضیاع

خوراک کا ضیاع صرف کھیت، منڈی یا ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں بلکہ گھروں، ہوٹلوں اور شادی ہالوں میں بھی بڑی مقدار میں کھانا ضائع ہو جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کی 2024 کی فوڈ ویسٹ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گھریلو سطح پر خوراک کے ضیاع کا تخمینہ تقریباً 74 کلوگرام فی فرد سالانہ ہے، جبکہ ملک میں مجموعی گھریلو خوراک کا ضیاع تقریباً 15.95 ملین ٹن سالانہ بتایا گیا ہے۔

پنجاب کے محکمہ تحفظ خوراک کی ترجمان شاہدہ ترین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ فصلوں کی پیداوار اور اس کے بعد کے مراحل میں خوراک کا 10 سے 20 فیصد تک ضیاع ہوتا ہے، جبکہ گھروں اور ہوٹلوں میں کھانے کا ضیاع اس سے کہیں زیادہ ہے۔

ان کے مطابق خوراک کے ضیاع کو کم کرنے کے لیے آگاہی ضروری ہے، کیونکہ لوگوں کو اپنی ضرورت کے مطابق کھانا لینے اور اضافی خوراک ضائع نہ کرنے کی ترغیب دینا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ شادی ہالوں میں بھی بڑی مقدار میں کھانا ضائع ہوتا ہے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے عوامی آگاہی اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اور پانی کا مسئلہ

خوراک کا ضیاع صرف کھانے کا ضیاع نہیں بلکہ اسے پیدا کرنے کے لیے استعمال ہونے والی زمین، پانی، توانائی، کھاد، مزدوری اور ایندھن کے ضیاع کا بھی سبب بنتا ہے۔

پاکستان جیسے زرعی ملک میں یہ مسئلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پہلے ہی فصلوں، پانی کی دستیابی اور زرعی سپلائی چین کو متاثر کررہی ہے۔

ماہر ماحولیات الماس خان کے مطابق بے وقت بارشوں، کلاؤڈ برسٹ اور سیلاب کے باعث ہر سال فصلوں کی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اجناس، پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار کا براہ راست تعلق موسمی حالات سے ہے اور غیر معمولی بارشیں یا سیلاب فصلوں کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ زیرِ زمین پانی کی کمی اور بعض علاقوں میں نہری نظام کی عدم دستیابی بھی زرعی پیداوار کو متاثر کرتی ہے۔

ملک خالد کھوکھر کے مطابق ملک کے دور دراز علاقوں میں جہاں زیرِ زمین پانی کی کمی اور نہری نظام موجود نہیں، وہاں پیداوار پہلے ہی کم ہوتی ہے۔ ایسے علاقوں سے شہروں تک فصلوں کو پہنچانا بھی ایک چیلنج ہے، جس کے دوران مزید پیداوار خراب ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

خوراک کا ضیاع کیسے روکا جاسکتا ہے؟

پنجاب کے محکمہ تحفظ خوراک کی ترجمان شاہدہ ترین کے مطابق حکومت بڑے شہروں میں کولڈ اسٹوریج کی سہولیات بڑھانے پر کام کررہی ہے، تاکہ پھلوں اور سبزیوں کو محفوظ کرکے ضرورت کے مطابق استعمال کیا جاسکے۔

انہوں نے بتایا کہ پھلوں کو زیادہ دیر تک محفوظ رکھنے کے لیے ویکس کوٹنگ کا استعمال بھی کیا جارہا ہے، جس کے ذریعے پھلوں پر ایک مخصوص کیمیکل کوٹنگ کی جاتی ہے تاکہ ان کی شیلف لائف میں اضافہ کیا جاسکے۔

ان کے مطابق جدید پیکنگ، بہتر سڑکوں اور منڈیوں تک رسائی میں بہتری بھی خوراک کے ضیاع کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

شاہدہ ترین کے مطابق اناج میں فصل کے بعد ہونے والا نقصان نسبتاً کم ہے، جبکہ اصل چیلنج پھلوں اور سبزیوں کو محفوظ رکھنا اور گھروں، ہوٹلوں اور دیگر مقامات پر کھانے کے ضیاع کو کم کرنا ہے۔

دوسری جانب رانا محمد عمران کے مطابق پاکستان سے پڑوسی ممالک کو بڑی مقدار میں پھل اور سبزیاں برآمد ہوتی ہیں، تاہم سرحدی تجارت میں رکاوٹوں اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے زرعی پیداوار کی نقل و حمل متاثر ہوتی ہے۔

ان کے مطابق بعض اوقات پیداوار کی قیمت اتنی کم ہوجاتی ہے کہ کسان فصل کو مارکیٹ تک پہنچانے کے بجائے کھیت میں ہی تلف کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے، جس سے ایک طرف خوراک ضائع ہوتی ہے اور دوسری طرف کسان کو مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو فصلوں کی قیمتوں کے تعین، ذخیرہ کرنے کی سہولیات اور مارکیٹ تک رسائی کے نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ طلب اور رسد کے درمیان توازن برقرار رہے اور خوراک کے ضیاع کو کم کیا جاسکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی گھر