جیگوار کی سب سے زیادہ زیرِ بحث الیکٹرک کار متعارف، قیمت بھی حیران کن

متنازع ٹائپ 00 کانسیپٹ کے تقریباً دو سال بعد، جیگوار کی مکمل الیکٹرک ٹائپ 01 جی ٹی سامنے آ گئی ہے، جس کی رینج 725 کلومیٹر تک ہے اور اس کی قیمت تقریباً 4 کروڑ 77 لاکھ پاکستانی روپے (125,000 پاؤنڈ) کے آس پاس متوقع ہے۔

ٹائپ 01 مستقبل کی سمت کا تعین کرتی ہے اور اسے اس مشہور برطانوی برانڈ کو زیادہ باوقار اور زیادہ منافع بخش بنانے کی بنیادی ذمہ داری نبھانا ہوگی (جیگوار ویب سائٹ)

جیگوار نے مکمل الیکٹرک ٹائپ 01 چار دروازوں والی جی ٹی متعارف کرا دی ہے، جو ایک اعلیٰ کارکردگی کی حامل لگژری گاڑی ہے۔ اس میں 1,016 بریک ہارس پاور تک طاقت، تقریباً 450 میل کی متوقع رینج اور تقریباً 4 کروڑ 60 لاکھ پاکستانی روپے کی قیمت متوقع ہے۔ اس کے آرڈر 2027 کے آغاز میں کھولے جانے کا امکان ہے۔

لوگو، گلابی رنگ، ’ووک‘ ہونے یا نہ ہونے اور جیگوار آخر ہونی کیسی چاہیے، ان تمام بحثوں کے تقریباً دو سال بعد اب وہ گاڑی سامنے ہے جسے صارفین حقیقت میں خرید سکیں گے۔ نئی جیگوار ٹائپ 01 کو نیویارک میں پیش کیا گیا اور اس کے بنیادی اعداد و شمار اتنے ہی متاثر کن ہیں جتنی اس کی ظاہری شکل۔

یہ مکمل طور پر الیکٹرک چار دروازوں والی جی ٹی ہے، جس میں 1,016 ہارس پاور تک طاقت، 450 میل تک متوقع زیادہ سے زیادہ رینج اور تقریباً 4 کروڑ 70 لاکھ پاکستانی روپے قیمت متوقع ہے۔

نومبر 2024 میں جیگوار کی تشہیری مہم میں شوخ لباس پہنے ماڈلز تو تھے، لیکن کوئی گاڑی موجود نہیں تھی۔ اس کے بعد دسمبر میں میامی آرٹ ویک کے دوران ٹائپ 00 کانسیپٹ پیش کیا گیا جو گلابی اور نیلے رنگ میں دکھایا گیا تھا۔ حامیوں نے اسے ایک جرات مندانہ تبدیلی قرار دیا جبکہ ناقدین نے سوال اٹھایا کہ وہ جیگوار کہاں رہ گئی جسے وہ جانتے تھے۔

اب مکمل طور پر سامنے آنے والی ٹائپ 01 اس دو دروازوں والی ڈیزائن سٹڈی کے خیالات کو ایک چار دروازوں والی پیداواری گاڑی میں تبدیل کرتی ہے۔ میں اسے کئی بار حقیقت میں دیکھ چکا ہوں، اس کے چھپائے گئے پروٹوٹائپ میں سفر بھی کر چکا ہوں جبکہ اگست میں ہم آپ کو اس کا اندرونی حصہ بھی دکھا چکے تھے۔ اب جب پوری گاڑی کی رونمائی ہو چکی ہے تو اس کا طویل بونٹ، بڑے پہیے اور پچھلی کھڑکی کا نہ ہونا سب برقرار ہے۔ جیگوار کا مشہور لیپر لوگو بھی موجود ہے، جو اب سائیڈ فنشرز پر نظر آتا ہے۔

قیمت میں نمایاں اضافہ بھی جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔ منیجنگ ڈائریکٹر راوڈن گلوور متوقع 4 کروڑ 70 لاکھ پاکستانی روپے کی قیمت کو ’ہماری سابقہ سطح سے دگنا‘ قرار دیتے ہیں، اگرچہ یہ حتمی ابتدائی قیمت نہیں۔ ان کے مطابق 4 کروڑ 58 لاکھ روپے تک کی پریمیم گاڑیوں اور 11 کروڑ 44 لاکھ روپے یا اس سے زیادہ کی لگژری مارکیٹ کے درمیان ایک واضح خلا موجود ہے۔

مگر کیوں زیادہ فروخت ہونے والی ایس یو وی نہیں لائی گئی؟ ایسی گاڑی بھی ضرور آئے گی، لیکن نئی جیگوار متعارف کرانے کے لیے جی ٹی کو اس لیے منتخب کیا گیا کیونکہ یہ برانڈ کے بارے میں تاثر بدلنے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی تھی، نہ کہ اس لیے کہ اس کے سب سے زیادہ فروخت ہونے کی توقع تھی۔

گلوور نے کہا: ’جیگوار ایسی چیز ہونی چاہیے جس کی خواہش کی جائے اور جو ثقافتی اعتبار سے بھی اہم ہو۔ یہ ہی اس کا فطری مقام ہے اور جیگوار دوبارہ اسی جگہ واپس آ رہی ہے۔‘

آرڈرز 2027 کے آغاز میں متوقع ہیں جبکہ پہلے صارفین کو ان کی گاڑیاں اسی سال کے دوسرے نصف میں ملیں گی۔

ٹائپ 00 کے ساتھ دیے گئے اعداد و شمار میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ جیگوار نے ابتدا میں اپنی پیداواری جی ٹی کے لیے 478 میل زیادہ سے زیادہ رینج کا ہدف مقرر کیا تھا، لیکن اب 118 کلو واٹ آور قابلِ استعمال بیٹری سے 450 میل تک رینج کی توقع ہے۔ البتہ چارجنگ کارکردگی بہتر ہوئی ہے۔ اب 200 میل کی اضافی رینج حاصل کرنے کے لیے صرف 13 منٹ درکار ہوں گے جبکہ 2024 میں یہ وقت 15 منٹ بتایا گیا تھا۔

نئے آغاز کی تمام باتوں کے باوجود، نئی شکل کے نیچے کچھ مانوس جیگوار تصورات موجود ہیں۔

مثال کے طور پر لگژری گیپ۔ میں اسے بینڈ ہیون 17 کے ایک البم کے طور پر جانتا ہوں، لیکن کار ڈیزائنرز کے لیے اس کا مطلب اگلے پہیے کے مرکز اور سامنے والے دروازے کے ابتدائی کنارے کے درمیان فاصلہ ہے۔ یہاں یہ 898 ملی میٹر ہے، جو گاڑی کی کل لمبائی کا 17 فیصد بنتا ہے، تقریباً وہی تناسب جو کبھی ای ٹائپ میں تھا۔

تناسب (Proportions) کا موضوع ان لوگوں کے ساتھ میری گفتگو میں بار بار سامنے آیا جو اس گاڑی کی تیاری میں شامل تھے۔ 5,235 ملی میٹر لمبی اور اگلے و پچھلے پہیوں کے درمیان تقریباً 3,200 ملی میٹر فاصلے کے ساتھ ٹائپ 01 ایک بڑی گاڑی ہے، لیکن اس کی اونچائی صرف 1,403 ملی میٹر ہے۔ اگلے پہیوں کے سامنے باڈی ورک نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ عقب خاصا لمبا ہے۔ معیاری 23 انچ پہیوں اور ٹائروں کا قطر 763 ملی میٹر ہے، جو گاڑی کی اونچائی کے نصف سے بھی زیادہ ہے، البتہ 21 انچ کا ایک چھوٹا متبادل بھی دستیاب ہوگا۔

گاڑی کے اگلے حصے پر چار روشنیوں پر مشتمل مخصوص ڈیزائن مستقبل میں جیگوار کی شناخت بن جائے گا۔ برانڈ کی اب تک کی سب سے باریک ہیڈ لائٹس صرف 84 ملی میٹر اونچی ہیں۔ ہر ہیڈ لائٹ میں 17 ہزار پکسلز ہیں جو روشنی کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرتے ہیں۔ عقب میں لائٹس ان افقی پٹیوں کے اندر چھپی رہتی ہیں اور صرف آن ہونے پر ظاہر ہوتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس منفرد پچھلے حصے کی تیاری محض ڈیزائنر کے قلم کا نتیجہ نہیں تھی۔ پچھلی سائیڈ ونڈو کے گرد انتہائی تیز خم رکھنے والے باڈی پینل کے لیے جیگوار نے جسے ’امپاسیبل پینل‘ کا نام دیا، اسے تیار کیا گیا۔ انجینیئرز نے اسے بنانے کا طریقہ نکالنے میں 1,500 گھنٹے سے زیادہ وقت صرف کیا اور بالآخر چار منزلہ بلند مشین میں چھ مراحل پر مشتمل پریسنگ عمل اختیار کیا گیا۔ بغیر فریم کے دروازے کسی نمایاں ربڑ سیل یا اضافی ٹرم کے بغیر براہِ راست باڈی سے بند ہوتے ہیں، جبکہ باڈی کے برابر آنے والے ہینڈلز بظاہر 4 ملی میٹر موٹی برف کو بھی چیر کر باہر آ سکتے ہیں۔

اندرونی حصے میں یہ نچلی چھت مزید نمایاں محسوس ہوتی ہے۔ چیف انجینیئر جون ڈارلنگٹن نے مجھے بتایا: ’اہم بات یہ ہے کہ آپ جیگوار کے اندر بیٹھتے ہیں، اس کے اوپر نہیں۔‘ ٹائپ 01 میں جیگوار کی اب تک کی سب سے باریک نشستیں نصب کی گئی ہیں۔ میں عموماً اپنی نشست کو زیادہ سے زیادہ نیچے کرتا ہوں لیکن یہاں مجھے اسے اوپر اٹھانے پر مجبور ہوا، کیونکہ ورنہ ایسا لگتا تھا جیسے کسی گہرے باتھ ٹب میں بیٹھا ہوں۔ ایک مرکزی ستون کیبن کو چار الگ مقامات میں تقسیم کرتا ہے، جس پر اور دروازوں کے اوپری حصے پر پیتل نما سجاوٹ موجود ہے۔

پچھلی کھڑکی کا نہ ہونا ایک عملی حل کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اور یہ میری کمزور ہوتی بینائی کے لیے خاص طور پر مؤثر ثابت ہوا۔ جیگوار نے ایسا سکرین سسٹم استعمال نہیں کیا جو روایتی عقبی آئینے کی جگہ لگایا جاتا ہے۔ اس کا ClearSight ڈسپلے ونڈ سکرین کے نچلے حصے میں، سائیڈ آئینوں کی سطح پر نصب کیا گیا ہے۔ میں دور کی نظر والا شخص ہوں اور قریب کی سکرینیں دیکھنے کے لیے عموماً چشمے استعمال کرتا ہوں، اس لیے اضافی فاصلے نے تصویر دیکھنا آسان بنا دیا۔

یہ سکرین ایک ساؤنڈ بار میں نصب ہے جس میں Meridian آڈیو سسٹم کے 38 سپیکرز میں سے 13 سپیکرز موجود ہیں۔ باقی 25 سپیکرز کیبن میں مختلف مقامات پر نصب ہیں، جن میں چھت کی اندرونی تہہ، پچھلے دروازے اور ہیڈ ریسٹ شامل ہیں جبکہ اگلے دروازوں میں کوئی سپیکر موجود نہیں۔ اگلی نشستیں موسیقی کی دھن کے ساتھ ہلکی تھرتھراہٹ پیدا کر سکتی ہیں جبکہ ہیڈ ریسٹ سپیکرز سڑک کے شور کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ جیگوار کی اپنی مخصوص صوتی فضا بھی شامل کی گئی ہے۔

جیگوار نے جرمنی کی آخن یونیورسٹی کے ساتھ مل کر تحقیق کی کہ لوگ گاڑی کے اندرونی حصے کے ساتھ کس کیا کرتے ہیں۔ 24 انچ OLED ڈسپلے کے بیرونی حصے پر ڈرائیور کی معلومات اور مرکزی حصے میں میڈیا اور نیویگیشن دکھائی جاتی ہے۔ سامنے اور عقب میں موجود الگ 7 انچ پورٹریٹ ٹچ سکرینیں درجہ حرارت، نشستوں اور موسیقی کو کنٹرول کرتی ہیں۔ جیگوار کے مطابق زیادہ تر افعال صرف دو ٹچ کے اندر دستیاب ہیں جبکہ صوتی احکامات کے ذریعے چارجنگ فلیپ بھی کھولا جا سکتا ہے۔

Nvidia سے چلنے والا کمپیوٹر جیگوار کی گذشتہ نسل کی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں 10 گنا تیز ہونے کا دعویٰ رکھتا ہے اور اوور دی ایئر اپ ڈیٹس کو سپورٹ کرتا ہے۔ وائرلیس ایپل کار پلے اور اینڈرائیڈ آٹو معیاری طور پر دستیاب ہیں۔ دو فونز کی چارجنگ اور آٹھ ڈیوائسز کے لیے ہاٹ سپاٹ بھی موجود ہے۔ سٹریمنگ اور گیمنگ ایپس دستیاب ہیں جبکہ پارکنگ کے دوران اگلی سکرین پر ویڈیو بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ البتہ وارنٹی ختم ہونے کے بعد بعض منسلک خدمات کے لیے سبسکرپشن کی تجدید درکار ہوگی۔

کپ ہولڈرز اور ایئر وینٹس ضرورت پڑنے پر ہی ظاہر ہوتے ہیں، سٹوریج خانے رنگوں کی جھلک دکھاتے ہیں اور معیاری پینورامک شیشے کی چھت میں الیکٹرانک سن شیڈ موجود ہے۔

چاروں نشستیں گرم اور ٹھنڈی کی جا سکتی ہیں، ان میں 12 سمتوں والی برقی ایڈجسٹمنٹ اور اگلی نشستوں میں ہاٹ سٹون طرز کی مساج کی سہولت موجود ہے۔ چار زون کلائمیٹ کنٹرول، فضائی صفائی، خوشبو پھیلانے والا نظام اور کیبن موڈ سیٹنگز بھی شامل ہیں۔

سامان رکھنے کے لیے بھی خاصی جگہ موجود ہے۔ برقی ٹیل گیٹ کھلنے پر 450 لیٹر سے زیادہ بوٹ سپیس دستیاب ہوتی ہے، جو پچھلی نشستوں کو 50:50 تناسب سے فولڈ کرنے پر 1,000 لیٹر تک بڑھ جاتی ہے۔ فرش کے نیچے اضافی سٹوریج بھی موجود ہے جبکہ بونٹ کے نیچے ہنگامی سامان رکھنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔

جہاں تک اس کے چلانے کے انداز کا تعلق ہے، انجینیئرز نے الہام کے لیے کلاسک V12 انجن والی XJC کا رخ کیا تاکہ کارکردگی اور آرام کے امتزاج کا مطالعہ کیا جا سکے۔ ٹائپ 01 جیگوار کی اب تک کی سب سے طاقتور سڑکوں پر چلنے والی گاڑی ہے، جو 0 سے 62 میل فی گھنٹہ کی رفتار صرف 3.2 سیکنڈ میں حاصل کر لیتی ہے، تاہم ٹیم خاص طور پر اس کی 62 سے 112 میل فی گھنٹہ رفتار صرف چار سیکنڈ میں بڑھانے کی صلاحیت کا ذکر کرتی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ گاڑی کے چلنے کے بعد بھی اس میں طاقت بھرپور موجود رہے، نہ کہ صرف ٹریفک سگنل سے تیزی سے روانہ ہونے پر توجہ دی جائے۔

تین الیکٹرک موٹرز آل وہیل ڈرائیو اور 1,365 نیوٹن میٹر ٹارک فراہم کرتی ہیں۔ ایک موٹر سامنے جبکہ دو موٹریں عقب میں نصب ہیں۔ طاقت کی تقسیم عام طور پر 30:70 کے تناسب سے پچھلے پہیوں کے حق میں رہتی ہے جبکہ ڈائنامک موڈ میں یہ تناسب 87 فیصد تک عقب کی جانب جا سکتا ہے۔ وزن اگلے اور پچھلے حصے میں یکساں تقسیم کیا گیا ہے جبکہ معطلی کے نظام میں ڈبل وش بون فرنٹ سسپنشن، انٹیگرل لنک ریئر سسپنشن، متغیر ایئر سپرنگز اور ڈوئل والو ایڈاپٹو ڈیمپرز شامل ہیں۔ پیریلی نے اس گاڑی کے لیے خصوصی ٹائر تیار کیے ہیں۔

جب میں جیگوار کے چیسیس ماہر میٹ بیکر کے ساتھ ٹائپ 01 میں سفر پر گیا تو مجھے حیرت ہوئی کہ اتنی بڑی اور بھاری گاڑی کس قدر پھرتیلی محسوس ہوئی۔ اس کے باوجود JLR کے ٹیسٹ ٹریک کی انتہائی خراب سڑکوں پر بھی یہ خاصی آرام دہ رہی، بالکل ویسے ہی جیسے برسوں پہلے XJC ہوا کرتی تھی۔

اس بڑی گاڑی کو موڑنے کے لیے پچھلے پہیے چھ ڈگری تک مڑ سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اس بڑی جی ٹی کا 11,500 ملی میٹر وال ٹو وال ٹرننگ سرکل بنتا ہے، جو ایک کمپیکٹ خاندانی گاڑی کے برابر ہے۔ اطراف میں نصب کیمرے ریئر ویو ڈسپلے کے ساتھ مل کر تنگ جگہوں پر گاڑی گھمانے میں مدد دیتے ہیں۔ معاونتی نظام 10 بیرونی کیمروں، پانچ ریڈارز اور 12 الٹرا سونک سینسرز پر مشتمل ہے جبکہ اگلا ریڈار گرم کیے جانے والے جیگوار بیج کے پیچھے نصب کیا گیا ہے۔

ڈرائیور کے لیے Jaguar، Dynamic، Efficient اور Ice & Snow موڈز دستیاب ہیں جبکہ Curated موڈ میں اپنی پسند کے مطابق سیٹنگز یکجا کی جا سکتی ہیں۔ توانائی بحال کرنے والی بریکنگ کے بھی تین درجے موجود ہیں اور ایک علیحدہ ون پیڈل ڈرائیونگ سیٹنگ بھی دی گئی ہے۔

سرخیوں میں آنے والی رینج کے علاوہ جیگوار اتنا جرات مندانہ دعویٰ بھی کر رہی ہے کہ مستقل 75 میل فی گھنٹہ رفتار پر گاڑی 320 میل تک سفر کر سکتی ہے، اگرچہ ظاہر ہے میں ایسا نہیں کروں گا۔ جیگوار کے مطابق 9 لاکھ 20 ہزار JLR گاڑیوں کے سفر کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ 99.7 فیصد نے 303 میل سے زیادہ فاصلہ طے نہیں کیا۔

موزوں فاسٹ چارجر پر ٹائپ 01 زیادہ سے زیادہ 350 کلو واٹ چارجنگ قبول کر سکتی ہے جبکہ 10 سے 80 فیصد چارج ہونے میں تقریباً 22 منٹ لگتے ہیں۔ اس کا 850 وولٹ نظام بیٹری کو دو حصوں میں چارج کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے، جس کے باعث موزوں 400 وولٹ چارجر سے 250 کلو واٹ تک چارجنگ حاصل کی جا سکتی ہے۔ جیگوار کے مطابق امریکی مارکیٹ کی گاڑیوں میں Tesla Supercharger کے لیے NACS مطابقت بھی ہوگی۔

سب سے سادہ مگر مفید خصوصیات میں سے ایک پارکنگ کے دوران جھنجھٹ کم کر سکتی ہے۔ گاڑی کے دونوں اطراف اے سی چارجنگ ساکٹس فراہم کیے گئے ہیں، جو برقی فلیپس کے پیچھے موجود ہیں اور 22 کلو واٹ تک چارجنگ قبول کرتے ہیں۔ جیسا کہ توقع کی جا سکتی ہے، جیگوار کا ایک خاص سٹائلش گھریلو وال باکس بھی دستیاب ہوگا جبکہ نئی جیگوار ایپ شیڈول شدہ چارجنگ، روٹ پلاننگ اور عوامی چارجنگ سٹیشنوں کی دستیابی کے بارے میں معلومات فراہم کر سکے گی۔ برطانیہ اور یورپ کے شریک عوامی نیٹ ورکس کو ایک ہی ماہانہ بل میں یکجا کرنے کا انتظام بھی موجود ہوگا۔ گاڑی اتنی ذہین ہے کہ چارجنگ سٹیشن پر پہنچنے سے پہلے بیٹری کا درجہ حرارت مناسب سطح پر لے آتی ہے اور موٹروں سے پیدا ہونے والی حرارت کو کیبن یا بیٹری گرم کرنے کے لیے دوبارہ استعمال کرتی ہے۔

اتنی بڑی بیٹری کو اتنی نچلی گاڑی میں شامل کرنا ان وجوہات میں شامل ہے جن کی بنا پر جیگوار نے بالکل نیا پلیٹ فارم تیار کیا۔ نشستوں کے نیچے مزید سیلز لگا کر چھت بلند کرنے کے بجائے انجینیئرز نے 200 نکل سے بھرپور سیلز میں سے 32 سیلز مسافروں کے حصے کے آگے نصب کیے، جنہیں ایک نئے حفاظتی فرنٹ کریش سٹرکچر سے محفوظ بنایا گیا۔ یہ اضافی سیلز 70 میل تک اضافی رینج اور 148 ہارس پاور تک اضافی طاقت فراہم کرتے ہیں جبکہ فرش کے نیچے بیٹری پیک میں موجود خالی جگہیں پچھلی نشستوں کے مسافروں کے لیے مناسب فٹ سپیس مہیا کرتی ہیں۔

لگژری گیپ دراصل Heaven 17 کا البم نہیں بلکہ جیگوار ٹائپ 01 میں پہیے کے مرکز اور اگلے دروازے کے درمیان موجود فاصلہ ہے۔ اس حصے میں جیگوار کے لیپر لوگو کے ساتھ پیتل نما آرائش بھی شامل کی گئی ہے۔

ٹائپ 01 کے لیے کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے والی حکمتِ عملی کے باعث جیگوار کو اپنا پلیٹ فارم خود تیار کرنا پڑا۔ نئی Jaguar Electric Architecture کا 73 فیصد حصہ ایلومینیم پر مشتمل ہے جبکہ بیٹری برانڈ کے اب تک کے سب سے مضبوط باڈی اینڈ بیٹری ڈھانچے کا حصہ بنتی ہے۔ حتیٰ کہ برقی جنکشن باکس بھی اگلی سسپنشن کے لیے تقویتی ڈھانچے کا کردار ادا کرتا ہے۔

ڈیزائن ٹیم نے واضح طور پر اپنے انجینیئرنگ ساتھیوں کے سامنے کچھ انتہائی مشکل اہداف رکھے تھے، لیکن وہ اب بھی ان کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ حتمی نتیجہ ایک بے حد خالص اور خوبصورت ڈیزائن کی صورت میں سامنے آیا ہے جس میں کئی ہوشیار انجینیئرنگ حل شامل ہیں۔ مثال کے طور پر اگلے پہیے کے محراب اور بونٹ کے درمیان صرف 133 ملی میٹر کا فاصلہ ہے، جو F-Type سپورٹس کار کے مقابلے میں 100 ملی میٹر کم ہے، لیکن اس کے باوجود پہیوں کی اوپر نیچے حرکت کے لیے 22 ملی میٹر زیادہ جگہ دستیاب ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ترقیاتی کام کے دوران 360 سے زائد پیٹنٹ درخواستیں دائر کی گئیں۔

موٹروں میں جیگوار کے چیمپیئن شپ جیتنے والے فارمولا ای پروگرام کی کنٹرول ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے جبکہ گیئرنگ کو مؤثر بلند رفتار سفر کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ جب مکمل کارکردگی درکار نہ ہو تو پچھلی موٹریں بند کی جا سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں 18 میل تک اضافی رینج حاصل ہوتی ہے۔

گاڑی کے باڈی ڈیزائن میں کی جانے والی چھوٹی تبدیلیوں نے بھی مدد فراہم کی ہے۔ 7,000 سے زیادہ ونڈ ٹنل ٹیسٹوں کے بعد گاڑی کا ڈریگ کوایفیشنٹ 0.23 حاصل کیا گیا، جو جیگوار کی تاریخ کا سب سے کم ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ گاڑی کی شکل میں کی جانے والی کوئی بھی انفرادی ایروڈائنامک تبدیلی 8 ملی میٹر سے زیادہ نہیں تھی۔ اگلے کونوں اور اطراف میں ترامیم سے 12 میل اضافی رینج حاصل ہوئی جبکہ اگلے حصے پر نصب کھلنے والے وینز 27 میل تک اضافی رینج فراہم کرتے ہیں۔ تمام پہیوں کے ڈیزائن میں ہلکے وزن کے ایروڈائنامک انسَرٹس شامل ہیں جبکہ تین مراحل پر مشتمل پچھلا سپوئلر ہائی وے رفتار پر گاڑی کی اونچائی میں 15 ملی میٹر کمی کے ساتھ کام کرتا ہے۔

یہ ذہین ایروڈائنامکس گاڑی کے عقب میں ہوا کے دباؤ سے ایک ہلکا سا آگے کی سمت دھکا بھی پیدا کرتی ہے، جو تقریباً 87 میل فی گھنٹہ کی رفتار پر 4 کلوگرام قوت کے برابر ہے اور مجموعی فضائی مزاحمت کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔

خریداروں کے لیے آٹھ بیرونی رنگ دستیاب ہوں گے جن میں میٹ بلیو اور کاپر شامل ہیں جبکہ اندرونی حصے کے لیے تین رنگوں کے امتزاج پیش کیے جائیں گے جو اون اور چمڑے یا Ultrafabrics NeoGrain متبادل کے ساتھ ہوں گے۔ لانچ ہونے والی Design Vision Edition میں سیٹن سلور رنگ، خصوصی 23 انچ پہیے، پیتل نما سائیڈ فنشرز جن پر ابھرا ہوا جیگوار لیپر لوگو ہوگا، اور Orchid White یا Dusk Grey کیبن شامل ہوں گے۔ Chromatic Moments Collection دنیا بھر میں صرف 60 گاڑیوں تک محدود ہوگی اور French Ultramarine Blue یا London Red رنگوں میں دستیاب ہوگی۔

جیگوار ٹائپ 01 مکمل طور پر برطانیہ میں ڈیزائن اور انجینیئر کی گئی ہے اور اس کی تیاری سولی ہل، ویسٹ مڈلینڈز میں کی جائے گی۔

اس گاڑی کے پیچھے سوچ عوامی بحثوں سے بہت پہلے شروع ہو چکی تھی۔ پروجیکٹ پینٹیرا کا آغاز 2021 میں ہوا تھا، جو اس سے پہلے جاری پروجیکٹ رینیسانس کے بعد سامنے آیا۔ اس دوران تین ڈیزائن ٹیموں نے نئی سمت تلاش کرنے کے لیے مجموعی طور پر 18 ماڈلز تیار کیے تھے۔ گلوور کے مطابق ممکنہ خریداروں کی ترجیحات میں پاور ٹرین کی قسم صرف آٹھویں نمبر پر تھی اور صرف 20 فیصد افراد ایسی گاڑی کو مسترد کرتے تھے جس میں روایتی ایندھن والا انجن موجود نہ ہو۔ ٹائپ 01 کا نام جیگوار کی نئی Type سیریز، زیرو ٹیل پائپ اخراج اور نئی نسل کی پہلی گاڑی ہونے کی علامت ہے۔

برطانیہ میں مکمل طور پر ڈیزائن اور انجینیئر کیے جانے کے بعد ٹائپ 01 کو سولی ہل میں Range Rover اور Range Rover Sport کے ساتھ تیار کیا جائے گا۔ اگرچہ کچھ لوگوں کے لیے یہ تشویش کا باعث ہو سکتا ہے کیونکہ ان دونوں ماڈلز کی اعتباریت کی شہرت بہترین نہیں رہی، تاہم جیگوار کے انداز اور عزائم پر ہونے والی تمام بحثوں کے بعد گلوور ایک اور ترجیح کے حوالے سے دو ٹوک ہیں: ’ہمیں معیار کو ہر صورت درست بنانا ہوگا۔‘

یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ آیا یہ تمام عناصر مل کر جیگوار کے لیے کامیاب نسخہ ثابت ہوتے ہیں یا نہیں۔ اسی دوران اس بات پر بھی خاصی محنت کی گئی ہے کہ حالیہ نسبتاً غیر فعال برسوں کے باوجود جیگوار کے ساتھ وابستہ رہنے والے ڈیلرز اور شورومز پر گاڑی کو کس انداز میں فروخت کیا جائے۔

یقیناً ایک گاڑی کسی کمپنی کو نہیں بناتی اور ٹائپ 01 کے بعد غالباً ٹائپ 02 اور ٹائپ 03 بھی آئیں گی۔ ان میں سے ایک غالباً زیادہ عملی نوعیت کی کراس اوور گاڑی ہوگی جبکہ دوسری ایک ایس یو وی ہوگی۔ لیکن ٹائپ 01 مستقبل کی سمت کا تعین کرتی ہے اور اسے اس مشہور برطانوی برانڈ کو زیادہ باوقار اور زیادہ منافع بخش طبقے میں منتقل کرنے کی بنیادی ذمہ داری نبھانا ہوگی۔

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی