آئی ایم ایف اور پاکستان میں 1.2 ارب ڈالر کے اجرا پر سٹاف لیول معاہدہ

پاکستان کو رقم کی منتقلی سے قبل آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ کی جانب سے معاہدہ کی منظوری درکار ہو گی۔

26 جنوری، 2022 کو واشنگٹن میں آئی ایم ایف کی عمارت کا بیرونی منظر (اے ایف پی)

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بدھ کو بتایا ہے کہ پاکستانی حکام کے ساتھ ان کا سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے، جو اس عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ اربوں ڈالر کا بیل آؤٹ معاہدہ حاصل کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

اس معاہدے کے تحت پاکستان کو تقریباً ایک ارب 20 کروڑ ڈالر تک رسائی مل جائے گی، تاہم اس کے لیے ابھی آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ کی منظوری درکار ہے۔

آئی ایم ایف کی مذاکرات کار ایوا پیٹرووا نے کہا کہ پاکستانی حکام نے ’مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے اثرات کا کامیابی سے سامنا کیا ہے اور مضبوط پالیسیوں کی بدولت وسیع تر معاشی استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملی ہے۔‘

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم ثالث پاکستان میں مہینوں جاری رہنے والی لڑائی اور توانائی کی عالمی ترسیل میں تعطل کے دوران قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے اس کی پہلے سے ہی کمزور معیشت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

گذشتہ سال کے دوران مظاہرین نے بڑے شہروں میں احتجاج کرتے ہوئے خوراک، ایندھن اور کرایوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمتوں سے ریلیف اور محفوظ روزگار کے حصول میں مدد کا مطالبہ کیا ہے۔

پیٹرووا نے کہا کہ مالی سال 2026 کی پہلی تین سہ ماہیوں میں اس جنوبی ایشیائی ملک میں حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو چار فیصد رہی ہے، ’اگرچہ توانائی کی زیادہ قیمتوں اور ترسیل میں تعطل نے اس رفتار کو کسی حد تک کمزور کیا ہے۔‘

اس مالی سال کی مجموعی شرح نمو کا تخمینہ 3.6 فیصد لگایا گیا ہے۔

پیٹرووا نے مزید کہا کہ ’مئی میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد، ستمبر میں مجموعی مہنگائی کم ہو کر تقریباً 10.3 فیصد رہ گئی، جب کہ بنیادی مہنگائی قابو میں رہی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

روئٹرز کے مطابق آئی ایم ایف ایگزیکٹیو بورڈ سے معاہدے کی منظوری کی صورت میں پاکستان کو ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر اور ماحولیات پر مرکوز ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت 21 کروڑ ڈالر تک رسائی مل سکتی ہے، جس سے ان دونوں پروگراموں کے تحت ملنے والی کل رقم تقریباً 5.7 ارب ڈالر ہو جائے گی۔

زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے پاکستان اب بھی بیرونی مالیاتی امداد پر انحصار کرتا ہے۔ فنڈ نے کہا کہ ’ای ایف ایف کی معاونت سے حکام نے مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے اثرات کا کامیابی سے سامنا کیا ہے اور مضبوط پالیسیوں کی بدولت وسیع تر معاشی استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملی ہے۔‘

تاہم آئی ایم ایف نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی، توانائی کی غیر مستحکم قیمتوں، سخت عالمی مالیاتی حالات اور تجارتی تعطل کی وجہ سے خطرات اب بھی زیادہ ہیں۔

 ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلی جنس کے پرنسپل اکانومسٹ احمد مبین نے قبل ازیں رواں سال کہا تھا کہ خلیجی ممالک سے توانائی کی درآمدات، ترسیلات زر اور خطے سے ملنے والی مالی امداد پر انحصار کو دیکھتے ہوئے، مشرق وسطیٰ کے طویل تنازعے کی صورت میں پاکستان ایشیا بحرالکاہل کی سب سے زیادہ متاثر ہونے والی بڑی معیشت ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت