برطانیہ میں ’سیکس ٹورشن‘ کے کیس دگنے، 95 فیصد متاثرین لڑکے

’سیکس ٹورشن‘ کے تحت مجرم کم عمر بچوں اور نوجوانوں کو اپنی نامناسب یا برہنہ تصاویر شیئر کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور پھر ان ہی تصاویر کی بنیاد پر انہیں بلیک میل کرتے ہیں۔

برطانیہ کی سیکریٹری برائے ثقافت لیزا نینڈی نے کہا تھا کہ اگر ٹیکنالوجی کمپنیاں خود اقدامات نہ کر سکیں تو حکومت 18 سال سے کم عمر بچوں کی برہنہ تصاویر تک رسائی روکنے کے لیے قانون سازی کرے گی (اے ایف پی)

برطانیہ میں ایک ہیلپ لائن کو موصول ہونے والی ’سیکس ٹورشن‘ کی رپورٹس رواں سال پچھلے 12 ماہ کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہوگئے ہیں۔

انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن (IWF) کے اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 کے اختتام تک اس کی ’رپورٹ ریموو‘ سروس کے ذریعے 462 کیسز رجسٹر کیے گئے، جن میں شامل متاثرین میں سے 95 فیصد لڑکے تھے۔

یہ تعداد 2025 کے پورے سال میں ریکارڈ کیے گئے 394 واقعات سے زیادہ ہے جبکہ 2024 میں ایسے واقعات کی تعداد 151 تھی۔

’سیکس ٹورشن‘ اس عمل کو کہا جاتا ہے جس میں شکاری عناصر بچوں اور نوجوانوں کو اپنی نامناسب تصاویر یا ویڈیوز شیئر کرنے پر قائل کرتے ہیں اور بعد ازاں انہیں بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

آئی ڈبلیو ایف کی چیف ایگزیکٹو کیری سمتھ نے کہا: ’یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ آن لائن دنیا میں نوجوانوں کو درپیش ہولناک خطرات ختم نہیں ہو رہے۔‘

انہوں نے کہا: ’یہ مسلسل بگڑتی ہوئی صورت حال کی نشاندہی کرتے ہیں اور اگر یہ ہی رجحان برقرار رہا تو اس کے نتیجے میں نوجوانوں کی زندگیوں میں مزید تباہی، اذیت اور نقصان پیدا ہوگا۔‘

’لیکن ہمیشہ کی طرح یہ اعداد و شمار پوری کہانی بیان نہیں کر سکتے۔ ان میں سے ہر رپورٹ کے پیچھے ایک پریشان حال بچہ یا نوجوان موجود ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہر بچے اور نوجوان کے پیچھے ایک خاندان بھی ہوتا ہے۔ اور یہ اعداد و شمار دراصل کسی بڑے طوفان کا محض پیش خیمہ ہیں۔ ہم کبھی بھی اس مسئلے کی حقیقی وسعت نہیں جان سکیں گے، نہ ہی یہ کہ کتنے متاثرین ایسے ہیں جنہیں وہ مدد نہیں مل پاتی جس کی انہیں ضرورت ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گذشتہ ماہ برطانیہ کی سیکریٹری برائے ثقافت لیزا نینڈی نے کہا تھا کہ اگر ٹیکنالوجی کمپنیاں خود مؤثر اقدامات نہ کر سکیں تو حکومت 18 سال سے کم عمر بچوں کی برہنہ تصاویر تک رسائی روکنے کے لیے قانون سازی کرے گی۔

کیری سمتھ نے مزید کہا: ’ہم بچوں کے آلات پر برہنگی کو بلاک کرنے والی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے عزم کا خیرمقدم کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مزید وقت ضائع کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔‘

’ہر گزرتے دن کے ساتھ مجرم اپنے جال مزید وسیع کر رہے ہیں اور ہزاروں بچوں کو نقصان دہ اور ممکنہ طور پر جان لیوا پھندوں میں پھنسانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

’رپورٹ ریموو‘، جسے آئی ڈبلیو ایف اور این ایس پی سی سی (NSPCC) مشترکہ طور پر چلاتے ہیں، برطانیہ میں 18 سال سے کم عمر بچوں اور نوجوانوں کو یہ سہولت فراہم کرتا ہے کہ اگر ان کی برہنہ یا جنسی نوعیت کی تصاویر آن لائن شیئر کی گئی ہوں یا شیئر کیے جانے کا خدشہ ہو تو وہ اس کی رپورٹ کر سکیں، تاکہ ایسی تصاویر کو بلاک کر کے ہٹایا جا سکے۔

این ایس پی سی سی میں آن لائن بچوں کے تحفظ کی سربراہ رانی گوویندر نے کہا: ’جب کسی نوجوان کو جنسی بلیک میلنگ یا سیکسٹورشن کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کے اثرات اس بچے اور اس کے خاندان کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا: ’یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ اگر آن لائن پلیٹ فارمز فوری اقدامات نہ کریں تو مزید بچے اس خوفناک جرم کا شکار ہوتے رہیں گے۔‘

رانی گوویندر نے مزید کہا: ’گزشتہ ماہ حکومت کی جانب سے بچوں کے آلات پر برہنگی روکنے والی ٹیکنالوجی لازمی قرار دینے کے لیے قانون سازی کے وعدے کے بعد اب ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنے دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے ضروری تبدیلیاں لانا ہوں گی۔‘

’ٹیکنالوجی کمپنیوں اور حکومت دونوں کی جانب سے فوری اور مؤثر اقدامات کے بغیر یہ بدسلوکی مزید بڑھتی جائے گی۔ غیر فعال رہنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔‘

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل