حکومت پاکستان نے جمعے کو ایک بیان میں واضح کہا کہ سعودی عرب میں اس کے فوجی اہلکاروں کی خاطر خواہ تعداد تعینات ہے، جو دفاعی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ پہلے بھی واضح کر چکا ہے کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا بنیادی مقصد علاقائی امن، استحکام اور رکن ممالک کی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔
پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے جمعرات کو ایک بیان میں یمن کے حوثیوں کے خلاف پاکستان ایئر فورس کے طیاروں کے استعمال سے متعلق نیویارک ٹائمز کی ایک خبر کو ’جعلی اور من گھڑت‘ قرار دیا تھا۔
امریکی اخبار نے ایک سینیئر پاکستانی فوجی عہدے دار کے حوالے سے خبر شائع کی تھی جس میں انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بدھ کو دعویٰ کیا تھا کہ ’پاکستان ایئر فورس کے جنگی طیارے حوثیوں کے خلاف حملوں میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔‘
نیویارک ٹائمز نے اپنی خبر میں پاکستان میں امریکی فوج کے سابق اتاشی اور امریکی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے سابق اعلیٰ تجزیہ کار کرنل ڈیوڈ او اسمتھ کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ’اگرچہ انہیں خفیہ اعداد و شمار تک رسائی حاصل نہیں، تاہم تجزیہ کاروں میں اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ تقریباً آٹھ ہزار پاکستانی فوجی سعودی عرب میں تعینات ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تاہم پاکستان نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’جھوٹ اور من گھڑت‘ قرار دیا۔
پاکستان فوج کے ترجمان نے بدھ کو مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب میں اپنی افواج کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی فوجی کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں مختلف صلاحیتوں اور شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو میں کہا ’ہم، پاکستان کی افواج، پہلے ہی وہاں موجود ہیں۔ یہ بات میں آپ کے ساتھ شیئر کر سکتا ہوں۔‘
سی این این کے نمائندے ایوان واٹسن نے سوال کیا کہ کیا پاکستانی فوجی یا کسی قسم کا عسکری عملہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہے، جس پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جواب دیا ’جی، پاکستانی فوجی کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود ہیں۔
’وہ سعودی عرب میں متعدد صلاحیتوں میں کئی دہائیوں سے موجود ہیں۔‘
انہوں نے کہا مکہ دفاعی اتحاد اچانک وجود میں آنے والا کوئی انتظام نہیں بلکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مسلسل سفارتی، سیاسی، فوجی اور عوامی سطح کے تعلقات کا نتیجہ ہے۔