بلوچستان: سی ٹی ڈی کا کارروائی میں 10 عسکریت پسندوں کی موت کا دعویٰ

بارکھان میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی کارروائی میں دو سی ٹی ڈی اہلکار زخمی۔

12 مارچ 2025 کو صوبہ بلوچستان کے ضلع سبی میں ایک ریلوے سٹیشن پر نیم فوجی دستے پہرہ دے رہے ہیں (بنارس خان / اے ایف پی)

بلوچستان کے ضلع بارکھان کے علاقے راڑہ شم میں ہفتے کو محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی کارروائی میں 10 مسلح افراد کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ دو سی ٹی ڈی اہلکار زخمی ہوئے۔

سی ٹی ڈی بلوچستان کے ترجمان اعتزاز احمد گورایا کے مطابق بارکھان کے علاقے راڑہ شم میں مسلح افراد کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا۔ کارروائی کے دوران مسلح افراد کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

سی ٹی ڈی نے مارے جانے والے افراد کی شناخت یا ان کی کسی مخصوص کالعدم تنظیم سے وابستگی کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز، پولیس اور سی ٹی ڈی بلوچستان میں عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کا کارروائی پر اطمینان

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بارکھان میں سی ٹی ڈی کی کارروائی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے سے عسکریت پسندی کے مکمل خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز، پولیس اور سی ٹی ڈی کا عزم غیر متزلزل ہے۔

ان کے مطابق بلوچستان میں امن و امان برقرار رکھنے اور عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔

سرفراز بگٹی کے بقول ’فتنہ الہندوستان‘ کے عزائم ناکام بنانے کے لیے سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

راڑہ شم عسکریت پسندوں کی کارروائیوں کا نشانہ کیوں بنتا رہا ہے؟

راڑہ شم بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً 300 کلومیٹر شمال مشرق میں لورالائی اور بارکھان کے سنگم پر واقع ایک زرعی علاقہ ہے۔

یہ علاقہ بین الصوبائی شاہراہ این 70 پر واقع ہونے کی وجہ سے اہمیت رکھتا ہے۔ ماضی میں کالعدم تنظیموں سے وابستہ مسلح افراد اس مقام پر شاہراہ کی ناکہ بندی اور مسافروں کے اغوا جیسی کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔

اگست 2024 میں اسی علاقے میں مسلح افراد نے شاہراہ پر ناکہ لگا کر پنجاب جانے والی بسوں اور ٹرکوں کو روکا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس حملے میں شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد 23 مسافروں کو گاڑیوں سے اتار کر قتل کر دیا گیا تھا، جبکہ 35 گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی تھی۔

اس واقعے نے بلوچستان کی بین الصوبائی شاہراہوں پر مسافروں کی سلامتی سے متعلق سنگین خدشات پیدا کیے تھے۔

علاقے میں ماضی کے سکیورٹی آپریشن

ستمبر 2024 میں بھی راڑہ شم کے مقام پر سکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی کے دوران چار مسلح افراد کو مارنے کا دعویٰ کیا تھا۔

سکیورٹی فورسز کے مطابق یہ افراد مبینہ طور پر سڑک کنارے دھماکہ خیز مواد نصب کر رہے تھے۔

اسی طرح 2024 اور 2025 کے دوران علاقے میں متعدد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے، جن میں حکام کے مطابق کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے کمانڈر سلیم، بخت اور اکبر سمیت کئی مسلح افراد مارے گئے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان