بلوچستان کو سرداروں کی ضرورت نہیں رہی؟

شاید ہمارے سماج کو سرداروں کی ضرورت نہیں رہی یہی وجہ ہے کہ یہ نظام اپنے ’خاتمے‘ کی جانب گامزن ہے اور اسی لیے اب ہر قبیلے کے تین سے چار سردار بننے لگے ہیں۔

بلوچستان کی سیاست میں کچھ عرصہ قبل اکثر پارلیمانی شخصیات وہ تھیں جو اکثر کسی قبیلے کے سردار یا نواب تھے (انڈپینڈنٹ اردو)

شاید ہمارے سماج کو سرداروں کی ضرورت نہیں رہی یہی وجہ ہے کہ یہ نظام اپنے ’خاتمے‘ کی جانب گامزن ہے اور اسی لیے اب ہر قبیلے کے تین سے چار سردار بننے لگے ہیں۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں کسی زمانے میں سرداروں کا کافی زور تھا۔ کسی بھی علاقے میں کوئی بھی کام ان کی مرضی اور اجازت کے بغیرنہیں ہو سکتا تھا۔

لوگوں کے جھگڑوں اور دیگر مسائل کا حل اب عدالتوں میں ہو رہا ہے۔ اگر کچھ جھگڑے عدالتوں کے باہر بھی حل کیے جاتے ہیں تب بھی اس میں کوئی سردار موجود نہیں ہوتا۔

بلوچستان کے ایک معروف قبیلے ’بنگلزئی‘ میں والد کے مرنے کے بعد پہلے تو دو بھائیوں نے الگ الگ سرداری کا اعلان کیا لیکن پھر خاندان سے الگ قبیلے کے ایک فرد نے تیسرے اور اب چوتھے نے بھی سرداری کا دعویٰ کر دیا ہے۔

سرداری نظام کب وجود میں آیا؟ 

معروف دانشور، محقق اور بلوچستان کے قبائلی معاشرے کے حوالے سے متعدد کتابوں کے مصنف ڈاکٹر شاہ محمد مری نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سرداری نظام کیوں، کیسے بنا اور اس کے تاریخی کیا ہے۔

وہ سمجھتے ہیں کہ کسی بھی چیز کی معدومی کے حوالے سے ہمیں ارتقائی عمل کو دیکھنا پڑتا ہے کیوں کہ سماج میں اکثر چیزیں انسانی ضروریات سے جڑی ہیں۔

ڈاکٹر شاہ محمد مری نے بتایا کہ انسان جس وقت شکار کر کے خوراک حاصل کرتا تھا۔ تو اس وقت اسے کسی رہنما کی ضرورت پڑی اور اس نے ایک طاقتور، زیرک اور جانوروں کا مقابلہ کرنے والے شخص کی ضرورت محسوس کی تو اس نے اپنے میں سے ایک کو رہنما چن لیا جسے بعد میں سردار کہا گیا۔

’تاریخ دانوں کے مطابق یہ سردار جس کو شکار کے لیے چن لیا گیا تھا موروثی نہیں بلکہ صرف شکار کے لیے تھا اور اس کے بعد اس کی ضرورت ختم ہو جاتی تھی۔‘

شاہ محمد مری کے بقول سردار کا کرداراس وقت کھل کر سامنے آتا ہے جب انسان نے ذراعت کا طریقہ سیکھا اور اپنی خوراک کو کاشت کاری سے پورا کرنے لگا۔

’جب خوراک ذراعت سے حاصل ہونےلگی تو یہی سردار بہتر کاشت والی زمین پر حق جتانے لگا اور پیداوار میں سے بھی زیادہ حصہ لینے لگا۔ اس نے اپنے ساتھ کچھ لوگ بھی ملا لیے۔‘

یاد رہے کہ بلوچستان کی سیاست میں کچھ عرصہ قبل اکثر پارلیمانی شخصیات وہ تھیں جو اکثر کسی قبیلے کے سردار یا نواب تھے۔ جن کی تعداد اب کم ہوتی جا رہی ہے۔

شاہ محمد مری کہتے ہیں کہ ان سرداروں نے خود کو طاقتور بنانے کے لیے ساتھ شاعر رکھ لیے۔ جو ان کو جنگوں کے قصے بتاتے اور ان کی تعریف کرتے تھے۔ بعد میں مذہبی پیشوا بھی ان کے ہمراہ ہو گئے جو لوگوں کو ان دیکھی قوتوں سے ڈرانے کا کام کرتے تھے۔

’سرداری نظام بلوچ قوم کے علاوہ ہر اس معاشرے میں رہا ہے جس میں قبائلی نظام تھا۔ اسی کے تحت پھر یہ ایک ادرارے کی شکل اختیار کر گیا اور اس میں سردار کے کاموں کے لیے الگ الگ لوگ رکھے جانے لگے۔ جو بعد میں جاگیردار بن گئے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’سردار جب جاگیر دار بن گیا تو اس نے ٹیکس لینا شروع کر دیا۔ بلوچستان میں جس علاقے سے سردار کا قافلہ گزرتا وہاں سے وہ ٹیکس لیتا جاتا۔ پھر فیصلوں، جھگڑوں کے تصفیے اور شادی بیاہ کے لیے بھی ٹیکس لیا جانے لگا۔‘

سرداری نظام کمزور کب ہونا شروع ہوا؟

بلوچستان میں سرداری نظام صدیوں سے چل رہا ہے۔ اس کو انگریزوں نے بھی اپنے دور میں دوام دیا اور اپنے وفاداروں کو اعزازات خطابات سے نوازا تاکہ ان کا قبضہ مضبوط ہوسکے۔

سرداروں کے خلاف بلوچستان میں سب سے پہلے 1929 میں نواب یوسف عزیز مگسی نے آواز بلند کی اور اس کے خاتمے کے لیے جدوجہد شروع کی۔

یوسف عزیز مگسی 1935 کے تباہ کن زلزلے میں چل بسے جس کے بعد جو بھی تحریکیں چلیں جیسے انجمن اتحاد بلوچاں، قلات سٹیٹ پارٹی وغیرہ سب نے ہی سرداری نظام کے خلاف آواز بلند کی۔

ڈاکٹر مری بتاتے ہیں کہ سرداری نظام کے خلاف پاکستان بننے سے قبل اور 1947 کے بعد بھی سیاسی طور پر یہ آواز توانا ہوتی رہی۔

موجودہ حالات کا اگر تجزیہ کریں تو بلوچستان میں دس سے 12 سالوں میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ شاہ محمد مری کے مطابق جب سردار جاگیردار بنا تو بعد میں وہی اسمبلی کا ممبر بھی بنتا رہا لیکن یہ سلسلہ کچھ عرصہ چلا کیوں کہ سیاست میں ووٹ کا عمل دخل زیادہ ہوگیا۔ فیصلے اس کے ذریعے ہونے لگے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شاہ محمد مری کا ماننا ہے کہ پارلیمانی سیاست نے سردار کو کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ’آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی ارتقائی عمل کا حصہ ہے کہ سماج نے اپنی ضروریات کے مطابق اس کی اہمیت ختم کر دی ہے۔‘

سیاست نے سردار کو کس طرح کمزور کر دیا اس کی وجہ شاہ محمد مری بتاتے ہیں کہ جب سردار کا عروج تھا تو اس کے حکم سے نظام چلتا تھا۔ لوگ اس کے پاس آتے تھے لیکن پارلیمانی سیاست میں اسے عوام کے پاس ووٹ لینے کے لیے جانا پڑے گا۔ جو کچھ وقت انہوں نے طاقت کے زور پر حاصل کرتے رہے لیکن اب یہ ممکن نہیں رہا۔

دانشوروں کا کہنا ہے کہ الیکشن میں پیسے کی ریل پیل اور ٹیکنالوجی نے عوام کی ضروریات بدل دی ہیں۔ دوسری جانب سیاست نے خونی رشتوں کو بھی کمزور کر دیا ہے۔

ڈاکٹر مری نے بتایا کہ سرداری نظام میں یہ توڑ پھوڑ صرف بلوچ معاشرے میں نہیں بلکہ پشتون قوم، افغانستان اور وزیرستان میں بھی یہ نظام ارتقائی عمل کے تحت ختم ہو رہا ہے۔

یاد رہے کہ چند سال قبل تک بھی بلوچستان میں اگردو قبیلوں میں لڑائی چھڑ جاتی تو دونوں اطراف سے کئی لوگ لڑنے کے لیے آجاتے لیکن اب اس طرح کے واقعات کم ہی دیکھنے میں آتے ہیں۔

بلوچستان میں سردار اور نواب کا عہدہ 

بلوچستان کے قبائلی معاشرے میں ابتدا سے سردار کا اثر ورسوخ ہی چلتا رہا ہے لیکن بعد میں اس میں نواب کا عہدہ بھی سامنے آیا جسے دانشوروں کے مطابق انگریزوں نے اپنے دور میں رائج کیا اور انہوں نے لوگوں کو نواب کا لقب دیا۔

ڈاکٹر شاہ محمد مری نے بتایا کہ نواب بلوچ قوم کا عہدہ نہیں ہے بلکہ یہ لاطینی امریکہ لفظ نباب سے نکلا جس کے معنی معزز کے ہیں۔ 

موجودہ دور میں سردار کہاں کھڑا ہے؟

جدت اور ضروریات نے لوگوں کو دیہات سے شہر کی طرف دھکیل دیا ہے۔ اب لوگوں کی ضروریات کا تعلق حکومت سے ہے۔

اب کام کے لیے نوکری کی ضرورت ہے۔ پہلے قبائل سڑک کو تباہی کا ذریعہ سمجھتے تھے لیکن اب وہ بھی کہتے ہیں کہ ہمیں یہ چاہیے۔

ڈاکٹر مری کے مطابق اب سردار کی حالت انتہائی کمزور ہے۔ کیوں کہ جس شان سے وہ رہتا ہے وہاں سے نیچے آنا اس کے لیے مشکل ہے۔ لوگوں کا معیار بدل گیا ہے جس کی وجہ سے اب وہ ایک مظلوم طبقہ بنتا جا رہا ہے۔

’یہ ارتقا کا عمل ہے جس چیز کی ضرورت ختم ہوجاتی ہے اسے ختم ہونا پڑتا ہے۔ اسی طرح ہمارا سردار بھی اسی عمل کا شکار ہوکر خاتمے کی جانب گامزن ہے۔‘  

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان