خیبرپختونخوا میں پولیس حکام نے ممکنہ ہنگامہ آرائی اور پرتشدد مظاہروں کی صورت میں طاقت کے استعمال کا فیصلہ کرتے ہوئے پولیس افسران کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔
آئی جی پولیس ذوالفقار حمید نے ہفتے کی شب خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2017 کے سیکشن 83 ٹو 88 کے تحت صوبے کے تمام پولیس افسران اور اہلکاروں کو تحریری آپریشنل گائیڈلائنز جاری کی ہیں۔
بظاہر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں اور اسی تناظر میں اسلام آباد میں وزیر اعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی جاری ہے۔
اجلاس میں ’صوبے میں دہشت گردی سے پیدا صورتحال اور گورننس سے متعلق امور پر غور کیا جائے گا۔
پاکستان تحریک انصاف نے آج یعنی 11 اکتوبر سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کو آگے بڑھانے کی کال دے رکھی ہے، تاہم تاحال ان کی جانب سے اس بارے میں کوئی تازہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
دوسری جانب پشاور میں انڈپینڈنٹ اردو کی نامہ نگار لائبہ حُسن کے مطابق کینٹ کو جانے والے تمام راستے کنٹینرز لگا کر بند کر دیے گئے ہیں۔
ان کے مطابق ایسا پولیس حکام کی جانب سے جاری ہدایات کے بعد کیا گیا ہے جبکہ پشاور ٹریفک پولیس نے شہریوں کو آگاہ کرنے کے لیے شہر کے راستوں کے حوالے سے تفصیلات بھی جاری کر دی ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آئی جی خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق ’پہلے مرحلے میں وارننگ جبکہ دوسرے مرحلے میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس شیل کا استعمال اور اس کے بعد ربڑ گولیاں استعمال کرنے کا کہا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا پولیس افسر کی جانب سے ’باز نہ آنے کی صورت میں لاٹھی چارج، ہوائی فائرنگ اور مظاہرین کو گرفتار‘ کرنے کے بھی احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
اس تناظر میں پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی ارکان پارلیمان کے بیانات بھی سامنے آئے ہیں جن میں انہوں نے سکیورٹی واپس لیے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔
جس کے بعد سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے صوبائی اسمبلی کے اراکین کی سکیورٹی واپس لینے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخوا کو مراسلہ ارسال کیا ہے۔
اپنے اس مراسلے میں بابر سلیم سواتی نے کہا کہ اراکین کو سکیورٹی کی فراہمی خیبرپختونخوا اسمبلی (اختیارات، استثنیٰ اور مراعات) ایکٹ 2026 کے تحت قانونی تقاضوں سے مشروط ہے۔
مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’کسی بھی رکن کی سکیورٹی مناسب قانونی جواز اور متعلقہ قانون پر عمل درآمد کے بغیر واپس نہیں لی جا سکتی۔
انہوں نے ممبران کی سکیورٹی کو فوری طور پر بحال کیے جانے کا مطالبہ کیا۔