حرمین شریفین کے دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں: وزیر مذہبی امور

مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ اگر تینوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدہ ہوا ہے تو پاکستان اور ترکی کو بھی اس پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے منگل کو کہا کہ سعودی عرب اور حرمین شریفین کا تحفظ پاکستانیوں کے ایمان کا حصہ ہے اور پاکستانی عوام ان کے دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔

اسلام آباد میں پاک سعودی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کی مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ اس معاملے پر حکومت اور عوام کا مؤقف یکساں ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

یہ پریس کانفرنس ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ستمبر 2026 سے یمن کے ایران نواز حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر ڈرون اور بیلسٹک و کروز میزائل حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

 ان حملوں میں ہوائی اڈوں، شہروں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ متعدد سعودی اور دیگر ممالک کے شہری جان سے گئے ہیں۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ

سردار محمد یوسف نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے ایک معاہدہ کیا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر دفاع بھی ہر لحاظ سے سعودی عرب کا ساتھ دینے کا اعلان کر چکے ہیں۔

واضح رہے کہ سات اگست 2026 کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ’اس معاہدے سے پہلے بھی پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل حرمین شریفین کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور کوئی مسلمان یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ حرمین شریفین یا وہاں آنے والے زائرین پر حملہ کیا جائے۔‘

سردار محمد یوسف نے مزید کہا کہ سعودی عرب پر حملوں کے معاملے میں تمام پاکستانیوں کا متفقہ مؤقف ہے اور عوام حرمین شریفین کے دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔

دفاعی معاہدے پر عمل درآمد ہونا چاہیے: عبدالغفور حیدری

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے معاملے پر حکومت اور عوام کا مؤقف ایک ہے۔

ان کے بقول حوثی اتنی بڑی طاقت نہیں ہیں، تاہم انہیں جدید اسلحہ اور ٹیکنالوجی میسر ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے دفاعی معاہدے پر بعض قوتوں کو تکلیف ہوئی، جن میں ان کے بقول اسرائیل بھی شامل ہے۔

مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ اگر تینوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدہ ہوا ہے تو پاکستان اور ترکی کو بھی اس پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب محض ایک ملک نہیں بلکہ مسلمانوں کے لیے مقدس حیثیت رکھتا ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو اس کے دفاع کے لیے اقدامات کرنے چاہییں۔

مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ خلیجی ممالک سمجھتے تھے کہ خطے میں امریکی موجودگی انہیں تحفظ فراہم کرے گی، لیکن ان کے بقول امریکہ حملوں کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ امریکہ کو اپنا دوست سمجھنے کے حوالے سے اپنی سوچ پر نظرثانی کریں۔

سعودی عرب اور بیت اللہ پاکستانیوں کی ریڈ لائن ہیں: حافظ عبدالکریم

مرکزی امیر جمعیت اہل حدیث پاکستان اور سینیٹر حافظ عبدالکریم نے بھی سعودی عرب میں عمرہ زائرین اور شہریوں پر حملوں کی مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور بیت اللہ تمام پاکستانیوں کے لیے ریڈ لائن ہیں۔

حافظ عبدالکریم کے مطابق حوثیوں نے ریاض کے ہوائی اڈے پر حملہ کیا، جس میں پاکستانی، بنگلہ دیشی اور دیگر ممالک کے عمرہ زائرین جان سے گئے۔

انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین اور زائرین کی سلامتی کے معاملے پر پاکستانی قوم متحد ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ ایمان اور محبت کا ہے: عبدالرحمن لدھیانوی

مولانا عبدالرحمن لدھیانوی نے کہا کہ سعودی عرب عالم اسلام کا مرکز جبکہ پاکستان عالم اسلام کا قلعہ ہے۔

ان کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان محبت اور ایمان کا رشتہ ہے اور پاکستانی عوام سعودی عرب کے دفاع کے لیے وہاں پہنچنے کو تیار ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے حوثیوں کا موازنہ اسرائیل سے کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور ایران کی حمایت کے بغیر حوثیوں کی کوئی حیثیت نہیں۔

مولانا عبدالرحمن لدھیانوی نے پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ 22 اکتوبر کو اسلام آباد میں ایک اجتماع منعقد کیا جائے گا۔

حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے مسلم ممالک کا بلاک بنانے کا مطالبہ

جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما شاہ اویس نورانی نے کہا کہ سعودی عرب پر حملوں کے باعث پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔

انہوں نے مدینہ منورہ پر حملے اور ریاض کے ہوائی اڈے پر عمرہ زائرین کے زخمی اور ہلاک ہونے کے واقعات پر افسوس کا اظہار کیا۔

شاہ اویس نورانی نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سے مطالبہ کیا کہ حرمین شریفین کے خلاف مبینہ سازشوں کا سدباب کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے مسلمان ممالک پر مشتمل ایک مشترکہ بلاک تشکیل دیا جانا چاہیے تاکہ مقدس مقامات اور وہاں آنے والے زائرین کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان