اسلام آباد میں کچرا اٹھانے کے بھی پیسے دینا ہوں گے، ترک کمپنی کو 18 ارب روپے کا کنٹریکٹ

منگل کو وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ اسلام آباد میں ویسٹ مینجمنٹ پالیسی متعارف کرائی جا رہی ہے، جس کے تحت صفائی کی سہولت کے عوض شہریوں سے فیس وصول کی جائے گی۔

16 جولائی 2019 کو لی گئی اس تصویر میں اسلام آباد میں ایک بلدیاتی کارکن کچرا اٹھا رہا ہے (اے ایف پی)

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کچرا اٹھانے اور صفائی کے لیے اب شہریوں کو بھی فیس ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

منگل کو وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ اسلام آباد میں ویسٹ مینجمنٹ پالیسی متعارف کرائی جا رہی ہے، جس کے تحت صفائی کی سہولت کے عوض شہریوں سے فیس وصول کی جائے گی۔ اس منصوبے پر عمل درآمد کا آغاز دیہی علاقوں سے ہو چکا ہے، جہاں کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے کچرا اٹھانے اور اسے ٹھکانے لگانے کا کام شروع کر دیا ہے۔

سی ڈی اے نے اسلام آباد میں صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے یہ کام نجی شعبے کے حوالے کیا ہے۔ سی ڈی اے کے ترجمان کے مطابق، منصوبے کے تحت ترک کمپنی پر مشتمل جوائنٹ وینچر کو چار سال کے لیے تقریباً 18 ارب روپے کا کنٹریکٹ دیا گیا ہے، جس میں شہری اور دیہی علاقوں سے کچرا جمع کرنے اور اسے ٹھکانے لگانے کا نظام شامل ہے۔

سی ڈی اے نے دیہی علاقوں میں صفائی کے نظام کے لیے 30 اپریل 2026 کو ٹینڈر جاری کیا۔ تکنیکی جانچ اور مالی بولیوں کے مراحل کے بعد ترک کمپنی پر مشتمل جوائنٹ وینچر کی بولی اپنے حریف جوائنٹ وینچر کی بولی سے تقریباً 38 کروڑ روپے کم سامنے آئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سی ڈی اے کے مطابق، اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں کچرا اٹھانے کا مستقل اور منظم نظام موجود نہیں تھا، جبکہ شہری علاقوں میں صفائی کے لیے پہلے سے انتظامات کیے جا رہے تھے۔ اسی وجہ سے منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں دیہی آبادیوں کو ترجیح دی گئی۔

منصوبے کے تحت گھروں اور دکانوں سے کچرا جمع کیا جائے گا، اسے سیکٹر آئی الیون کے ٹرانسفر اسٹیشن منتقل کیا جائے گا اور وہاں سے لاسر لینڈ فل سائٹ تک پہنچایا جائے گا۔ گاڑیوں کے روٹس کی نگرانی اور کچرے کو الگ کرنے کے انتظامات بھی اس منصوبے کا حصہ ہیں۔

مجموعی طور پر اسلام آباد کی 65 دیہی یونین کونسلوں تک صفائی کا نظام توسیع دینے کا ہدف بتایا گیا ہے۔ دیہی علاقوں میں کام کا آغاز ہو چکا ہے، جبکہ شہری سیکٹرز میں اس نظام کی توسیع اگلے مرحلے میں متوقع ہے۔

طلال چوہدری کی جانب سے ویسٹ مینجمنٹ کے لیے یوزر فیس کا ذکر کیے جانے کے بعد یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ شہریوں کو صفائی کی سہولت کے عوض کتنی رقم ادا کرنا ہوگی۔

سی ڈی اے بھی تاحال فیس کی حتمی شرح، وصولی کے طریقۂ کار اور نفاذ کی تاریخ کی تصدیق نہیں کر سکی۔ یہ بھی واضح ہونا باقی ہے کہ فیس گھروں، دکانوں اور تجارتی مراکز سے الگ الگ وصول کی جائے گی یا اس کے لیے کوئی یکساں نظام متعارف کرایا جائے گا۔

اس سے پہلے بھی اسلام آباد کی خوب صورتی بڑھانے کا کام ایک ترک کمپنی کو دیا گیا تھا، جس نے شہر کے مختلف مراکز، سڑکوں کے کناروں اور سیدپور گاؤں میں خوب صورتی بڑھانے کے لیے کام کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات