ایسی خاتون جن کی بدولت ’غزہ کبھی سورج سے محروم نہیں ہو گا‘

غزہ کی پٹی کے 20 لاکھ مکین بجلی کی یومیہ تین گھنٹے کی فراہمی پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل نے 2016 میں علاقے کا محاصرہ کر لیا تھا۔

مجد مشہروی ایک بڑی کاروباری شخصیت اور کمپنی کی چیف ایگزیکٹو افسر ہیں (مجد مشہروی/ دی انڈپینڈنٹ)

ثمر نامی خاتون کے لیے غزہ میں نظام زندگی کو مفلوج بنا دینے والی بجلی کی بار بار بندش کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ وہ خوف زدہ ہو کر اپنے بیٹے کو تیزی سے قریبی ہسپتال لے جائیں تاکہ اس کے پھیپھڑے کام کرنا بند نہ کر دیں۔

ان کا بیٹا پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا ہے جس وجہ سے ان کے سانس لینے کا انحصار مشین پر ہے لیکن یہ مشین بجلی سے چلتی ہے اور غزہ میں بجلی انتہائی کم ہے۔

ثمر کی کہانی کوئی انوکھی نہیں ہے۔ غزہ کی پٹی کے 20 لاکھ مکین بجلی کی یومیہ تین گھنٹے کی فراہمی پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل نے 2016 میں علاقے کا محاصرہ کر لیا تھا۔

بجلی کی بندش کے اوقات میں ہسپتال اور دوسری عمارتیں جنریٹرز پر انحصار کرتے ہیں لیکن ایسا کرنا مہنگا پڑتا ہے اور اب تک جنریٹر وہ عیاشی تھی جس کے اخراجات ثمر برداشت نہیں کر سکتی تھیں۔

مجد مشہروی ایک بڑی کاروباری شخصیت اور کمپنی کی چیف ایگزیکٹو افسر ہیں۔ ان کی کمپنی نے غزہ میں توانائی کے بحران کے بنیادی حل پیش کیے ہیں۔

مجد مشہروی نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا ہے کہ ’میں اپنی برادری کے دو بنیادی مسائل حل کرنا چاہتی ہوں۔ بجلی اور تعمیراتی سامان کی قلت۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے ’سن باکس‘ کے نام سے ایک جنریٹر تیار کیا ہے جو بجلی سے چلتا ہے اور علاقے کے محاصرے کے دوران بجلی کی فراہمی کا ذریعہ ہے۔ یہ جنریٹر ان سولر پینلوں سے منسلک ہے جنہیں غزہ کے مکین اپنی چھت پر نصب کر سکتے ہیں۔ یہ جنریٹر 1000 کلوواٹ بجلی پیدا کرتا ہے۔ اسے مکمل طور پر ریچارج ہونے میں صرف تین گھنٹے لگتے ہیں۔ مجد مشہروی نے مذاق میں کہا کہ ’غزہ کبھی سورج سے محروم نہیں ہو گا۔‘

ثمر کہتی ہیں: ’سن باک جنریٹر شمسی توانائی سے چلنے والے آلے سے بڑھ کر ہے جو میرے بچوں کو روشنی فراہم کرتا ہے تاکہ وہ پڑھ سکیں اور ٹیلی ویژن دیکھ سکیں۔ اس نے میرے بیمار بچے کے لیے برقی آلے کو قابل استعمال بنا کر حقیقت میں میری زندگی بدل دی ہے۔‘

’اب مجھے ہر روز پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ میں ہسپتال جا سکتی ہوں کہ نہیں۔ اس سے پہلے کہ کچھ ہو جائے مجھے اپنے بچے کو آکسیجن لگوانے کے لیے بھاگ کر بروقت ہسپتال نہیں پہنچنا پڑتا۔‘

سن باکس نامی کمپنی چین کے تعاون سے جنریٹروں پر سبسڈی دیتی ہے لیکن اس کے باوجود 450 ڈالر(348 پاؤنڈ) کا جنریٹر غزہ کے بہت سے لوگوں کے لیے بہت مہنگا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق علاقے میں بیروزگاری 47 فیصد ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ شرحوں میں شامل ہے۔

مجد یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’میں نے شمسی توانائی کا سب سے پہلا یونٹ مہاجر کیمپ میں لگایا۔ اگلے روز میں کیمپ میں واپس گئی تو دیکھا کہ اردگرد کے تمام لوگ ہمارے آلے کو استعمال کرتے ہوئے فٹ بال کا میچ دیکھ رہے تھے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ یہ منظر دیکھ کر ان کے دماغ میں ایک خیال آیا: ’دو خاندان ایک یونٹ استعمال کر سکتے ہیں۔ اس طرح ان لوگوں کا خرچہ کم ہو گا جو پہلے سے ہی قریب قریب رہتے ہیں۔‘

وہ اسے’شیئر کرو اور فائدہ اٹھاؤ‘ کی مثال قرار دیتی ہیں۔

ان کی کمپنی نے ابتدائی طور پر 15 خاندانوں کو توانائی فراہم کی لیکن اس تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا اور 2019 کی پہلی سہ ماہی میں ایک ہزار افراد صاف ستھری توانائی کا ذریعہ استعمال کر رہے تھے۔

میونا کے نام سے ایک صارف کو توانائی کے اس ذریعے نے اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ گھر بیٹھ کر درزی کا کام کر سکیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کا چھوٹا سا کاروبار بجلی کے بحران سے بری طرح متاثر ہوا تھا اور وہ اکثر رات بھر بجلی آنے کا انتظار کرتی تھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے کوئی پریشانی نہیں کہ میں کب سوتی اور کب اٹھتی ہوں۔ میں نے توانائی کے ذریعے کا انتظام کرنے کے بارے میں کبھی نہیں سوچا۔ میں آزادی محسوس کرتی ہوں۔‘

سن باکس مجد کا پہلا منصوبہ نہیں ہے جس کے تحت غزہ کے بحرانوں میں سے ایک کا منفرد حل تلاش کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق 2014 کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے نتیجے میں 17 ہزار گھر تباہ ہوئے یا انہیں نقصان پہنچا اور تقریباً ایک لاکھ افراد بے گھر ہو گئے۔

جنگ اور اس سے ہونے والی تباہی نے مجد کو بری طرح متاثر کیا ہے: ’میں نے سوچا ایک انجینیئر کی حیثیت سے میں اپنے لوگوں کے لیے کیا کر سکتی ہوں؟‘

مکانات کو دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت ہے لیکن میری درآمدات پر عائد پابندی کا مطلب ہے کہ غزہ کے لوگ سیمنٹ اور اینٹیں بنانے کے لیے ضروری سامان حاصل نہیں کر سکتے۔

مجد نے اپنے پہلے منصوبے کی بنیاد تباہی اور ملبے پر رکھی۔ ان کے پہلے انقلابی حل کا نام ’سبز کیک‘ تھا، انہوں نے ملبے اور راکھ کو ملا کر ایک سستی اور مضبوط اینٹ تیار کی۔

ان کی ٹیم نے اس اینٹ کو کئی آزمائشی مراحل سے گزارا۔ اینٹ مضبوطی، پانی اور آگ کے خلاف مزاحمت کی آزمائش پر پوری اتری۔ لوگوں نے بڑے پیمانے پر مثبت ردعمل ظاہر کیا۔ ان کے پہلے گاہک نے ان کی ٹیم کو ایک ہزار اینٹوں کی بیرونی دیوار تعمیر کرنے کا کام دیا۔

مجد کہتی ہے کہ ’یہ صرف ایک اینٹ نہیں ہے۔ یہ خواتین کی روائتی ذمہ داریوں میں تبدیلی لا رہی ہے۔‘

مجد کے لیے ان کی ایجادات غزہ کی خواتین کی روائتی ذمہ داریوں کو چیلنج کرنے کا اہم ذریعہ ہیں۔ ان سے دوسری کاروباری خواتین کے لیے راستہ ہموار ہو گا۔

خریداروں کو اکثر یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ سن باکس کی چیف ایگزیکٹو افسر ایک خاتون ہیں اور انہیں یاد ہے کہ غزہ کی اسلامی یونیورسٹی میں انجینئرنگ کی کلاس میں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعداد کی شرح 1۔6 تھی۔

ان امتیازی رویوں نے ان کا حوصلہ مزید بڑھایا: ’آزادی کے لیے جنگ، شائستہ زندگی اور مستقبل کے لیے تعلیم خواتین کا طاقتور ترین ہتھیار ہے۔‘

اب مجد اپنی کمپنی کے لیے نئے گریجویٹس کو تربیت دے رہی ہیں۔ اس ضمن میں خواتین کو بھرتی کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ مجد اپنی برادری میں اچھی طرح جانی پہچانی جاتی ہیں۔ ان کے دفتر کے دروازے سب کے لیے کھلے رہتے ہیں۔ وہ نوجوان تاجروں کو مشورے دیتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ’میں دکھانا چاہتی ہوں کہ ہم غزہ میں صرف متاثرہ افراد نہیں ہیں۔ میں ایک مثال ہوں جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین