خلیل الرحمٰن قمر کے نام ایک مایوس فین کا خط

آپ کے نزدیک ایک عورت اگر چِیٹ کرتی ہے تو وہ غلط ہے، لیکن اگر کوئی مرد چِیٹ کرتا ہے تو بھی عورت ہی غلط ہے۔ ایک عورت کو دوسری عورت سے ہی خطرہ ہوتا ہے۔ مرد تو انکار کر ہی نہیں سکتا۔ مرد تو جیسے دودھ کے دھلے، اللہ میاں کی گائے ہوتے ہیں۔

خلیل الرحمٰن قمر    کا دعویٰ ہے کہ وہ سب سے بڑے فیمنسٹ ہیں۔ (ویڈیو سکرین گریب)

مجھے نہیں معلوم میں فیمنسٹ ہوں یا نہیں۔ میں نے کبھی خود کو فیمنسٹ نہیں کہا۔ ہاں لیکن آفس سے آنے کے بعد جب میرا چھوٹا بھائی مجھ سے گرم کھانے یا چائے کا تقاضا کرتا تھا تو مجھے بہت غصہ آتا کہ میں کیوں کھانا گرم کروں؟ کیوں اس کے لیے چائے بناؤں؟ جب میں آفس سے آنے کے بعد اپنے لیے کھانا خود ہی گرم کرتی ہوں، اپنے سمیت باقی گھر والوں کے لیے چائے بھی بناتی ہوں اور کبھی کبھار برتن بھی دھو لیتی ہوں تو وہ کیوں نہیں اپنے لیے کھانا گرم کرسکتا۔ لیکن یہ سوچ شاید کچھ دیر کے لیے ہوتی اور بعد میں خود ہی کچن جا کر اس کے لیے کھانا گرم کر دیتی۔ کیوں؟ اس کا جواب مجھے خود بھی نہیں معلوم۔

شاید یہ ایک بہن کی بھائی کے لیے محبت تھی یا معلوم نہیں کچھ اور؟ لیکن دل میں اسے برا بھلا بولنے کے بعد بھی میں اس کے لیے کام کر دیتی تھی۔ میں نے اسے کبھی انا کا مسئلہ نہیں بنایا۔ اس کی دو وجوہات تھیں۔ ایک تو یہ کہ اگر میں انکار کر دیتی تو کھانا گرم کرتے ہوئے اس نے لازماً کچن کاؤنٹر گندا کرنا تھا، جسے وہ صاف کر بھی دے تو بھی وہ گندا ہی لگتا تھا۔ میں اس ایکسٹرا خواری سے بچنا چاہتی تھی۔ دوسرا یہ کہ اگر کل کو مجھے اس سے کچھ کام پڑ گیا (جو کہ اکثر و بیشتر پڑتا ہی رہتا تھا) تو وہ میرا کام نہیں کرے گا۔

یہ مثال یہاں میں نے اس لیے دی کیوں کہ فیمنسٹوں پر ہمارے ہاں یہ ٹیگ لگایا جاتا ہے کہ وہ ’اپنا کھانا خود گرم کرو‘ کے اصول پر کاربند ہوتے ہیں۔ اگر کسی کا یہ اصول ہے بھی تو یہ اس کا ذاتی فعل ہے۔ دیکھا جائے تو میرا اصول بھی شاید یہی ہے، لیکن اس سب کے باوجود بھی میں نے کبھی خود کو فیمنسٹ نہیں کہا۔

میرے نقطہ نظر سے بہت سوں کو اعتراض ہوسکتا ہے لیکن مجھے ہر معاملے میں برابری نہیں پسند۔ میں نہیں چاہتی کہ جب سودا سلف لینے جاؤں تو بھاری بھرکم تھیلے میں اٹھاؤں، کیونکہ آپس کی بات ہے، سودے کے بڑے بڑے شاپنگ بیگ اٹھانا میرے بس کی بات ہے بھی نہیں۔ دوسرا ابو نے ہمیشہ سے یہ کہہ کہہ کر اور نکما کر دیا کہ ’تمہارے چھوٹے چھوٹے ہاتھ ہیں، تم یہ کام مت کرو۔‘ بہت سی عورتیں ایسا کرتی ہیں، سودے سلف کے تھیلے خود اٹھا کر گھر تک بھی لاتی ہیں اور میں ان کی ہمت کو سلام بھی کرتی ہوں لیکن اس بات کو بھی انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔

مجھے اپنے اوپر کوئی مخصوص ٹیگ نہیں لگوانا، خصوصاً اُن لوگوں کی طرح جو دعوے تو بڑے بڑے کرتے ہیں لیکن اندر سے بانس کی لکڑی کی طرح بالکل کھوکھلے ہوتے ہیں۔ ایک دم سطحی!

فیمنسٹ ہونا یا نہ ہونا کسی بھی فرد کی ذاتی صوابدید ہے، لیکن فیمنسٹ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے دیگر فیمنسٹوں کو یہ چیلنج کرنا کہ وہ اگر برابری کے حقوق مانگتی ہیں تو انہیں چاہیے کہ کسی مرد کا گینگ ریپ کرکے دکھائیں، ایک الگ ہی لیول کا پھکڑ پن ہے۔

چند روز قبل ملک کے ایک چوٹی کے ڈراما رائٹر کے منہ سے یہ سب باتیں سن کر حقیقتاً غصہ آیا۔ موصوف نے اغوا اور گینگ ریپ کو ’بہادری کے کارناموں‘ کی طرح بیان کرتے ہوئے خواتین کو خصوصاً فیمنسٹوں کو چیلنج کیا کہ اگر مردوں کی برابری کرنی ہے تو وہ کوئی بس لوٹیں، کسی مرد کو اغوا کر لیں، گینگ ریپ کریں۔ یعنی ان کے نزدیک وہ مرد جو یہ سب غلط کام کرتے ہیں، وہ بہادر ہیں۔ اگر یہ بہادری ہے تو ہماری طرف سے ایسے مردوں کو سات سلام۔

ڈیئر خلیل الرحمٰن قمر! میں آپ کی اُس وقت سے فین تھی، جب 'لنڈا بازار' میں بالی اور ذُہرا کو دیکھا کرتی تھی۔ ’پھر کب ملو گے‘، ’پیارے افضل‘ اور ’صدقے تمہارے‘ کے بھی بہت سے ڈائیلاگز دل پر نقش ہوئے۔ کسی ڈرامے کے ڈائیلاگز اور ان کی ادائیگی کے انداز سے بغیر دیکھے ہی یہ بتاسکتی ہوں کہ یہ خلیل الرحمٰن قمر کے الفاظ ہیں۔ ان کے جملوں میں واقعی بہت گہرائی ہوتی ہے، لیکن اس گہرائی میں ڈوب کے آپ نے جس طرح اب عورتوں کی تشریح کی ہے، وہ سراسر ناانصافی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اپنے ڈراموں میں آپ شوہر کو چھوڑنے والی عورت کو تو ’دو ٹکے‘ کی ’بری عورت‘ کہہ دیں گے، لیکن بیوی کو دھوکہ دینے والے مرد کے لیے کبھی کچھ نہیں لکھا جائے گا۔ کیوں؟ کیونکہ وہ تو ایک مرد ہے اور ویسے بھی ورغلایا تو اسے عورت نے ہی ہے ناں۔ سبحان اللہ!

آپ کے نزدیک ایک عورت اگر چِیٹ کرتی ہے تو وہ غلط ہے، لیکن اگر کوئی مرد چِیٹ کرتا ہے تو بھی عورت ہی غلط ہے۔ ایک عورت کو دوسری عورت سے ہی خطرہ ہوتا ہے۔ مرد تو انکار کر ہی نہیں سکتا۔ مرد تو جیسے دودھ کے دھلے، اللہ میاں کی گائے ہوتے ہیں۔ سارے غلط کام ان سے عورتیں ہی کرواتی ہیں، جنت سے بھی تو ایک عورت نے ہی نکلوایا تھا ناں، لیکن حوروں کی پھر بھی آس لیے بیٹھے ہیں، وہ بھی تو شاید خواتین کی ہی کوئی قسم ہوں گی، لیکن نہیں، چاہییں پھر بھی۔

ڈیئر خلیل الرحمٰن! آپ ایک کام کریں، آپ ’اچھی عورتوں‘ کے لیے مت لڑیں کیونکہ آپ کے نزدیک جو ’اچھی عورتیں‘ ہوتی ہیں، وہ تو کچھ غلط کرتی ہی نہیں ہیں۔ نہ وہ کچھ غلط کرتی ہیں، نہ ان کے ساتھ برا ہوتا ہے۔ آپ نے اگر کچھ کرنا ہے ہی تو ’بری عورتوں‘ کے لیے کریں، انہیں ’سدھاریں‘، تاکہ وہ معصوم مردوں کو نہ ورغلائیں، نہ انہیں ذلیل و رسوا کروائیں۔ تب ہم آپ کو سب سے بڑا فیمنسٹ مانیں گے۔

ہاں اب اس تنقید پر آپ ہمیں ’جیلس‘ مت کہیے گا، کیونکہ بچپن سے آپ کے فین رہے ہیں۔ بس یہ آپ کا جھوٹا فیمنزم برداشت نہیں ہوا۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ