’ہم پاکستانی ہیں اور نہ ہی اردن کے شہری، ہم پھنس چکے ہیں‘

اردن میں کئی نسلوں سے مقیم پاکستانیوں کے بارے میں خصوصی رپورٹ، جنہیں نہ اردن نے اپنا مستقل شہری تسلیم کیا اور نہ ہی وہ اب واپس پاکستان لوٹ سکتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق اردن میں  تقریباً 15 سے 20ہزار پاکستانی آباد ہیں (اے ایف پی)

’ہم درمیان میں پھنس چکے ہیں۔ ہم نہ پاکستانی ہیں اور نہ ہی اردن کے شہری۔ 50 سال بعد زمین پر یہی ہمارا پاکستان ہے۔‘ یہ الفاظ اردن میں کئی نسلوں سے مقیم ایک پاکستانی کے ہیں جو وہاں موجود اکثر ہم وطنوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

اردن میں کئی نسلوں سے مقیم پاکستانی اب نہ اِدھر کے ہیں اور نہ اُدھر کے۔ نہ اردن نے انہیں اتنا طویل عرصہ رہنے کے باوجود مستقل شہری تسلیم کیا اور نہ ہی وہ اب واپس پاکستان لوٹ سکتے ہیں۔ ان کا اب پاکستان میں کوئی رہا ہی نہیں۔

ان کی حالت زار کی جانب توجہ دو دسمبر کی رات دو بجے کے قریب دارالحکومت عمان کے جنوب میں شونیہ کے علاقے کرامہ میں واقع ایک فارم میں ٹین کی چادروں سے بنے ایک چھوٹے مکان میں آگ لگنے کے واقعے نے دلائی۔ اس حادثے میں سات بچوں اور چار خواتین سمیت 13 پاکستانی ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے تھے۔ آتش زدگی کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی گئی تھی۔ متاثرہ افراد وہی بھولے بسرے پاکستانی تھے۔ ہلاک ہونے والوں کو بدھ بعد از معرب اردن میں ہی نماز جنازہ کے بعد دفنا دیا گیا ہے۔

یہ پاکستانی مزدور اردن میں 1960 کے اواخر اور 1970 کے اوائل میں آنا شروع ہوئے تھے۔ اردن میں اس وقت اجناس بہت مہنگی تھیں اور کھیتوں میں کام کر کے اچھا منافع کمایا جا سکتا تھا۔ خاص طور پر تمباکو کی فصل بہت منافع بخش تھی لیکن سال 2000 کے دوران اردن میں تمباکو کی کاشت پر پابندی لگا دی گئی، جس کے بعد وہاں رہائش پذیر پاکستانی کسانوں کی زندگی مشکلات کا شکار ہو گئی۔

اردن میں رہنے والے پاکستانیوں کی تعداد کا درست اندازہ نہیں لگایا جا سکا لیکن محکمہ شماریات کی 2016 کی مردم شماری کے مطابق وہاں رہائش پذیر پاکستانی مزدوروں کی تعداد 7714 تھی۔

عمان میں پاکستانی سفارت خانے کے مطابق یہ تعداد 15 سے 20 ہزار کے درمیان ہے۔ وہاں موجود پاکستانیوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے یہ تعداد 15 ہزار سے زیادہ بتائی۔ اردن میں موجود پاکستانیوں کی اکثریت زراعت کے شعبے میں کام کر رہی ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اردن میں مقیم پاکستانی برادری کے حالات مزید خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ کئی پاکستانی وہاں کام کرنے کے اجازت نامے اور اقامے کے بغیر رہ رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے خلاف جرمانے بھی ہوئے۔

کچھ لوگ اجازت نامے کی درخواست اس لیے نہیں دیتے کہ وہ فیس ادا کرنے کے قابل نہیں جب کہ زیادہ تر پاکستانیوں کے پاس پاسپورٹ اور شناختی کارڈ نہیں۔

اس وجہ سے وہ اقامے اور کام کرنے کے اجازت نامے کی درخواست نہیں دے سکتے۔ اس سے قبل پاکستانی اپنے بچوں کو ان کی ماں کے پاسپورٹ پر رجسٹر کروا دیا کرتے تھے لیکن جب سے مشینی پاسپورٹ متعارف ہوئے ہیں، پرانے پاسپورٹس کی تجدید نہیں کی جا رہی۔ اب بچوں کو بھی مشینی پاسپورٹ درکار ہیں لیکن طویل کاغذی کارروائی کے مسائل کی وجہ سے اردن میں رہائش پذیر پاکستانی شناختی کارڈ اور مشینی پاسپورٹ حاصل نہیں کر سکتے۔

اقامہ حاصل کرنے کے لیے مقامی سپانسر تلاش کرنا مزید مشکل ہو چکا ہے۔ بعض اوقات انہیں500 سے ایک ہزار ڈالرز دے کر سپانسرشپ حاصل کرنی پڑتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دس سال قبل اردن کی حکومت نے غیر ملکی مزدوروں کو ڈرائیونگ لائسنس جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا جس سے پاکستانی مزدور بھی متاثر ہوئے کیونکہ انہیں گاڑی یا گھر خریدنے کی اجازت نہیں تھی۔

بوریرو برادری سے تعلق رکھنے والے خادم حسین کو اردن میں رہتے ہوئے 40 برس سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے۔ وہ زیتون کی کاشت اور اس سے نکلنے والے تیل کی صنعت سے وابستہ ہیں اور ان کا شمار اردن میں پاکستانی برادری کے نمائندوں میں ہوتا ہے۔

خادم حسین کا کہنا ہے ’ہم شہروں سے دور رہتے اور کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ ظاہر ہے ہمیں گاڑی کی ضرورت ہوتی ہے، ڈرائیونگ لائسنس چاہیے ہوتا ہے۔ دس سال پہلے یہ سب بہت آسان تھا۔ اب حکومت نہ گاڑی اپنے نام کرنے دیتی ہے اور نہ ہی لائسنس ملتا ہے۔ کوئی بہت ہی تگڑی سفارش والا ہو یا کوئی مقامی بارسوخ دوست ہو تو لائسنس مل جاتا ہے لیکن گاڑی اپنے نام رکھنا ممکن نہیں۔‘

خادم کے پاس کاروبار کے لیے چار گاڑیاں ہیں۔ ان میں سے دو دس برس پرانی ہیں، جو ان کے اپنے نام پر ہیں جبکہ باقی دو مقامی عربوں کے نام پر خریدی گئی ہیں۔

ان کا حکومتِ پاکستان سے مطالبہ ہے کہ ’وزیر اعظم عمران خان اگر ذاتی طور پر کنگ سے ہمارے لیے بات کریں تو یہ سب بہت آسانی سے ہو سکتا ہے۔ لائسنس اور ملکیتی حقوق پاکستانیوں کو واپس مل جانا کوئی بڑی بات نہیں۔ شاہ حسین کے دور میں پاکستانیوں کے لیے بہت آسانی تھی، لوگ انہیں ہاتھ اٹھا کر دعائیں دیتے تھے۔‘

’ویسے تو اردن حکومت اب بھی بہت اچھی ہے لیکن یونیورسٹیوں سے پڑھ کر جو نئے وزرا تعینات ہو جاتے ہیں، وہ پاکستانیوں کے مسائل سے واقف نہیں۔ حکومتِ پاکستان کو ان سے سفارتی تعلقات مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہیں ہمارے مسائل سے واقفیت ہونی چاہیے۔‘

زیادہ تر پاکستانی بچے کچھ سال کے لیے ہی سکول جاتے ہیں اور ان میں سے بہت کم اعلیٰ تعلیم حاصل کر پاتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود انہیں اچھی ملازمت نہیں ملتی اور انہیں غیر ملکیوں کی طرح ہی سمجھا جاتا ہے۔ بالآخر زیادہ پڑھے لکھے پاکستانیوں کو بھی زراعت کے شعبے میں ہی کام کرنا پڑتا ہے۔

یہاں ایک چھوٹا پاکستانی سکول بھی ہے جس میں بچوں کو سندھی اور اردو زبان میں تعلیم دی جاتی ہے تاکہ ان کے اپنے ملک کے ساتھ تعلق کو زندہ رکھا جا سکے۔ اس سکول کی بنیاد ایک پاکستانی محمد مشتاق نامی شخص نے رکھی جو خود اردن میں پیدا ہوئے تھے۔

جب وہ پاکستان سے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اردن واپس آئے تو انہوں نے بچوں کو اردو اور باقی علاقائی زبانوں میں تعلیم دینے کی ضرورت محسوس کی۔ 2002 میں قائم ہونے والے اس سکول کی حالت اب بہت خراب ہے اور اس میں صرف ایک کمرہ ہے جو مقامی حکام نے رجسٹر بھی نہیں کیا۔

اردن میں مقیم پاکستانیوں کی اکثریت کبھی پاکستان نہیں آ سکی جس کی وجہ ان کی خراب معاشی حالت ہے۔ اس کی ایک اور وجہ پاکستان میں ان کے رشتہ داروں یا زمینوں کا نہ ہونا بھی ہے۔

ان میں سے زیادہ تر اردن میں پیدا ہوئے ہیں اور وہ اردو نہیں بول سکتے، لیکن وہ اپنی علاقائی زبانیں مثلا سندھی اور بلوچی بول سکتے ہیں کیوں کہ یہ زبانیں ان کے گھروں میں بولی جاتی ہیں۔

زیادہ تر پاکستانی عربی زبان بہت روانی کے ساتھ بولتے ہیں۔ ثقافتی طور پر بھی یہ لوگ پاکستان سے بالکل الگ تھلگ ہیں۔ وہ شامی اور مصری موسیقی سنتے ہیں۔ ان کی شادیاں بھی مقامی عرب روایات کے مطابق ہوتی ہیں۔ یہ سب ان کی مستقل پاکستان واپسی کے راہ میں رکاوٹ ہے۔

غیرملکی مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے کی ڈائریکٹر لنڈا کلاش کے مطابق پاکستانی ہنرمند 1960 اور 1970 کے عشروں میں اردن آنے والے پہلے مزدور تھے۔ وہ کہتی ہیں کہ اقامے کے بغیر اردن میں رہنے کے جرمانے میں کسی بالائی حد کا نہ ہونا دوسرے ممالک جیسا ہی ہے۔ جس کی وجہ سے اردن میں مقررہ مدت سے زیادہ رہنا لامتناعی جرمانے کی وجہ بن سکتا ہے۔

لنڈا کلاش کا کہنا ہے کہ عرب ملکوں میں رہنے والے پناہ گزین ’گردشی مہاجر‘ ہیں جو یہاں نوکری کرنے آتے ہیں اور کچھ سال بعد اپنے ملک واپس چلے جاتے ہیں، لیکن اردن میں رہائش پذیر پاکستانی مزدور ایسا نہیں کرتے کیونکہ ان کی نقل مکانی مستقل بنیاد پر ہوتی ہے، جو کہ ان کے قانونی حیثیت نہیں۔

یہاں رہنے والے پاکستانی اردنی حکومت سے بہت بدظن ہیں۔ وہ دہائیوں تک اردن کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں مغربی کنارہ کھونے کے بعد پاکستان نے اردن میں زراعت کے شعبے میں مدد فراہم کی تھی۔

جنگ سے پہلے اردن اپنی زرعی ضروریات کے لیے مغربی کنارے پر انحصار کرتا تھا۔ ایک پاکستانی مزدور کے مطابق جب وہ یہاں آئے تھے تو یہاں صرف جنگلی درندے، درخت، لگڑبھگڑ اور خنزیر پائے جاتے تھے۔ پاکستانیوں نے اس زمین کو آباد کیا لیکن اردن کی حکومت اس حقیقت کی معترف نہیں۔

ایک پاکستانی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ’جب ہم لوگ یہاں آئے تو مستقل رہائش کے لیے نہیں آئے تھے۔ ہم آج واپس جائیں گے، ہم کل واپس جائیں گے۔ ہم اگلے سال واپس جائیں گے، بس یہی سوچتے تھے۔ ہم کبھی واپس نہیں جا سکے اور یہاں رہنے کا بھی ہمیں کوئی فائدہ نہ ہوا۔ کسی نہ کسی وجہ سے ہمیں اردن میں رکنا پڑا۔‘

اردن میں رہنے والے اکثر پاکستانی شکل و صورت اور گفتار میں عربی ہی دکھائی دیتے ہیں۔ بعض اوقات ان کے بڑے خاندان بھی ان کے وسائل کو محدود کرتے ہیں اور وطن واپسی کا سفر مشکل بنا دیتے ہیں۔

اردن کے شہریوں اور پاکستانیوں میں ایک ثقافتی خلا ہے، جو نسل در نسل چلا آ رہا ہے۔ اردن آنے والی پاکستانیوں کی پہلی نسل کے تمام افراد فوت ہو چکے ہیں جبکہ ان کے ساتھ آنے والی دوسری نسل کے پاکستانی کبھی واپس نہیں جا سکے۔ ان کی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو اردن کے علاوہ کسی اور ملک سے واقف ہی نہیں۔

اردن میں رہنے والے محمد آفاق کا خاندان نو برس قبل پشاور سے یہاں آیا تھا۔ ان کے خاندان کا ذریعہ آمدن ہوٹل انڈسٹری اور کپڑے کی صنعت ہے۔

وہ خود ایک سافٹ وئیر انجینیئرہیں۔ ان کا کہنا ہے ’بھٹو دور میں اندرون سندھ سے یہاں آئے پاکستانیوں میں سے بہت کم لوگ اب زندہ ہیں۔ ان کے بچے اور پھر ان کے بچے، وہ لوگ کبھی پاکستان نہیں جا سکے۔ انہیں نہ اردو زبان آتی ہے اور نہ ہی وہ پاکستان کے بارے میں کچھ خاص جانتے ہیں۔ وہ اپنے گھروں میں بھی عربی اور سندھی بولتے ہیں اور ان کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے۔‘

اردن حکومت کی جانب سے ماضی میں غیرقانونی تارکین وطن کے لیے کئی بار ایمنسٹی کی سکیمیں آئیں، جن میں انہیں وطن واپس لوٹنے کے ساتھ ساتھ جرمانے معاف کرنے کی پیشکش ہوئی لیکن یہ لوگ ان سکیموں سے بھی فائدہ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔

حکومتِ پاکستان نے ماضی میں مشرف اور جمالی دور میں ان پاکستانیوں کی حالت زار بدلنے کے لیے اردن سے رابطہ کیا تھا لیکن حکام کا کہنا تھا کہ وہ محض پاکستانیوں کے لیے امتیازی قانون نہیں بنا سکتے۔ اردن میں فلسطینی پناہ گزین جو عربیوں کے ہم زبان بھی ہیں، وہ ایک طویل عرصے سے پاکستانیوں والی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔

عمان میں واقع پاکستانی سفارت خانے کے سیکنڈ سیکرٹری حسنین حیدر سے جب انڈپینڈنٹ اردو نے دریافت کیا کہ پاکستان اپنے شہریوں کے مسائل حل کرنے کے لیے کیا کر رہا ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اس حوالے سے اردن حکومت سے رابطے میں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’سفارت خانہ وکیلوں اور تمام قانونی کارروائی کے اخراجات برداشت کر رہا ہے۔ ہلاک شدگان اور زخمیوں کے علاج معالجے، ان کی میتیں پاکستان پہنچانے کے اخراجات بھی سفارت خانہ ادا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ گذشتہ سال پاکستانی سفیر نے ضرورت مند پاکستانیوں کی مدد کے لیے سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے عہدے داروں کو بھی اردن کا دورہ کرنے دعوت دی تھی۔‘

اردن میں گذشتہ دو دہائیوں سے ایک کاروباری شخصیت کی حیثیت سے بسنے والے پاکستانی خواجہ منصور نے کہا کہ اس عرصے کے دوران وہ خود دو یا تین مرتبہ جا کر ان پاکستانیوں سے ملے ہیں۔ ’اکثر پاکستانیوں کو تو شاید معلوم ہی نہ ہو کہ یہاں ان کا کوئی ہم وطن رہتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا