فیس بک: 26 کروڑ صارفین کے یوزر آئی ڈیز اور فون نمبرز لیک

فیس بک کے 26 کروڑ 70 لاکھ صارفین کے نام اور ٹیلی فون نمبرز گذشتہ ہفتے ایک آن لائن ہیکنگ فورم پر ڈاؤن لوڈ کرنے کے قابل بنا دیے گئے تھے۔

 فیس بک نے 2019 میں اپنے صارفین کی معلومات کے غلط استعمال سے متعلق تنازع طے کرتے ہوئے پانچ ارب ڈالرز کا ریکارڈ جرمانہ ادا کیا تھا(اے ایف پی)

سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک کا کہنا ہے کہ وہ اس رپورٹ کی تحقیقات کر رہی ہے جس کے مطابق 26 کروڑ 70 لاکھ صارفین کے نام اور ٹیلی فون نمبرز پر مشتمل ڈیٹا بیس آن لائن دستیاب ہو گیا تھا۔

ویب سائٹ ’کمپیری ٹیک‘ پر پوسٹ بلاگ میں بتایا گیا کہ ڈیٹا بیس گذشتہ ہفتے ایک آن لائن ہیکنگ فورم پر ڈاؤن لوڈ کرنے کے قابل بنا دیا گیا تھا۔ بظاہر یہ فورم مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ایک گروپ کا لگتا ہے۔ 

فیس بک ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’ہم معاملے کی چھان بین کر رہے ہیں لیکن ہمارے خیال میں اس بات کا امکان ہے کہ یہ معلومات ہماری جانب سے صارفین کا ڈیٹا محفوظ بنانے کے لیے گذشتہ چند برسوں میں کیے گئے اقدامات سے پہلے حاصل کی گئیں۔‘ 

کمپیری ٹیک نے بتایا کہ سکیورٹی معاملات پر نظر رکھنے والے بوب ڈیاچینکو نے ڈیٹا بیس کا سراغ لگایا جو آن لائن عام دستیاب تھا۔ ڈیٹا بیس میں فیس بک صارفین کے یوزر نیم، آئی ڈیز اور فون نمبر شامل تھے۔ ڈیٹا بیس افشا ہونے کی رپورٹ دے دی گئی اور جمعرات تک یہ ڈیٹا بیس مزید آن لائن دستیاب نہیں تھا۔

فیس بک صارفین کا ڈیٹا بیس آن لائن ہونے کا انکشاف ان کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد اعتماد سازی اور صارفین کی معلومات کے تحفظ کے حوالے سے تشویش کم کرنا ہے۔

رواں ماہ امریکی اداروں نے کہا کہ برطانوی مشاورتی فرم کیمبرج اینالٹیکا نے، جس کا فیس بک ڈیٹا ہائی جیکنگ سکینڈل میں مرکزی کردار تھا، صارفین کو ’دھوکہ‘ دیا کہ اس نے کس طرح ان کی ذاتی معلومات حاصل کیں اور انہیں کیسے استعمال کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مارچ 2018 میں معاملہ اس طرح انجام کو پہنچا کہ ’سیاست کے میدان میں مشورے دینے والی فرم جو فیس بک کے کروڑوں صارفین کی ذاتی معلومات حاصل کرنے کے لیے دھوکہ دہی میں ملوث تھی، پر پابندی لگا دی گئی۔ صارفین کی معلومات حاصل کرنے کا مقصد ووٹروں کے رجحان کا تعین کر کے انہیں ہدف بنانا تھا۔‘ 

امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن نے کہا کہ برطانوی فرم نے 2016 میں ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم پر کام  کے دوران فیس بک صارفین کو ’شخصیت پر سوال جواب کے مقابلے‘ کے طور پر پیش کر کے ’جعلی اور گمراہ کن‘ دعوے کیے اور کہا کہ صارفین کے نام اور کوئی قابل شناخت معلومات ڈاؤن لوڈ نہیں کرے گی۔

خود فیس بک کی تحقیقات سے سامنے آیا کہ امریکہ اور دوسرے ملکوں میں آٹھ کروڑ 70 لاکھ صارفین کے ڈیٹا کے معاملے میں برطانوی فرم نے سمجھوتہ کیا تھا۔ تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا کہ اس قسم کی کارروائیوں سے سوشل میڈیا نیٹ ورک کی سروس کی شرائط کی خلاف ورزی کی گئی۔

اس سال کے آغاز میں فیس بک نے صارفین کی معلومات کے غلط استعمال سے متعلق متعلقہ ادارے کے ساتھ تنازع طے کرتے ہوئے پانچ ارب ڈالرز کا ریکارڈ جرمانہ ادا کیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی