فن لینڈ کی نئی وزیر اعظم جو 2020 میں ترقی پسندوں کی قیادت کرتی ہیں

گذشتہ ماہ حلف اٹھانے والی سنا مارین ملک کی پارلیمان میں ترقی پسند خواتین کے اتحاد کی سربراہ ہیں اور ان کے ایجینڈے میں ماحول اور تنوع کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔

مارین کے اقتدار تک پہنچنے سے فن لینڈ کے سماجی طور پر آزاد اور میرٹ کو اہمیت دینے والے معاشرے کی مثال قائم ہوئی ہے (اے ایف پی فائل)

سنا مارین نے گذشتہ ماہ فن لینڈ کی نئی وزیر اعظم کا حلف اٹھایا تھا۔ وہ ملک کی پارلیمان میں ترقی پسند خواتین کے اتحاد کی سربراہ ہیں۔ نوجوان اور سوشل میڈیا پر فعال صارف سنا مارین بلاخوف و خطر نوجوانوں کے مفادات کا دفاع کرتی ہیں۔ ان کے ایجنڈے میں ماحول اور تنوع کو مرکزی اہمیت حاصل ہے جو انہوں نے ایک بہتر دنیا کی امید میں قائم کیا ہے۔ وہ ضرورت کے مطابق مختصر بات کرکے اپنے سیاسی بیانیے کی وضاحت کرتی ہیں۔

مارین کے اقتدار تک پہنچنے سے فن لینڈ کے سماجی طور پر آزاد اور میرٹ کو اہمیت دینے والے معاشرے کی مثال قائم ہوئی ہے۔ مارین جس خاندان میں پیدا ہوئیں وہ شراب نوشی اور غربت کے مسائل سے دوچار تھا۔ والدین میں علیحدگی کے بعد انہیں اپنی والدہ اور ان کی گرل فرینڈ کی طرف سے استحکام ملا۔ اسی وجہ سے بعد میں انہوں نے اپنے خاندان کو ’رین بو (دھنک رنگ) خاندان‘ قرار دیا۔ اس قسم میں ماحول میں پرورش نے فن لینڈ کی نئی وزیر اعظم کے اندر سماجی انصاف کا پائیدار جذبہ اور عزم پیدا کیا تاکہ ’ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جا سکے جہاں ہر بچہ کچھ بھی بن سکے اور جہاں ہر شخص وقار سے زندہ رہ اور ترقی کر سکے۔‘

انہوں نے اپنے مشن کا آغاز ایک مضبوط بنیاد سے کیا ہے۔ فن لینڈ دنیا میں سب سے پہلا ملک تھا جہاں 1906 میں خواتین کو ووٹ کا حق دیا گیا۔ آج فن لینڈ کو دنیا میں بھر میں مساوات کے شعبے میں اقدامات پر فخر ہے (فن لینڈ کی پارلیمنٹ میں مرد اور خاتون ارکان کی تعداد  تقریباً مساوی ہے)۔ مارین پہلے ہی اس صورت حال کو بنیاد بنا کر تعمیری سرگرمیوں کا آغاز کر چکی ہیں۔ انہوں نے یورپی یونین میں کابینہ کی خاتون ارکان کو سب سے زیادہ نمائندگی دی ہے۔

مارین ملکی ترقی کے لیے سیاسی طور پر مضبوط ہیں۔ مثال کے طور پر 2035 تک معیشت کو توانائی کے کاربن سے پاک ذرائع پر استوار کرنے کے لیے ان کی پالیسی فن لینڈ کی کوششوں سے مطابقت رکھتی ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ مسائل سے لاتعلق ہیں۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ فن لینڈ اس سال معیشت میں تکنیکی نوعیت کے مسائل سے دوچار ہو جائے گا جس کی وجہ سے مارین کی مختلف معاشرتی مسائل کے حل میں پیش رفت متاثر ہو سکتی ہے۔ ان مسائل میں شہریوں کا بے گھر ہونا شامل ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

2008 میں فن لینڈ بے گھر افراد کو ہاسٹل یا پناہ گاہوں کی سہولت دینے کی بجائے حکومتی امداد سے کرایہ ادا کرنے کی پالیسی متعارف کرانے والا پہلا ملک بن گیا تھا۔ اس پالیسی کی بدولت 11 برس میں بے گھر افراد کی تعداد میں 21 فیصد کمی اور 15 ہزار یورو (16 ہزار پانچ سو ڈالر) فی شہری سالانہ بچت ہوئی۔ یہ ایک ناقابل یقین کارنامہ ہے۔ ایک ایسا کارنامہ جس کی بدولت یورپ میں بھی بڑے پیمانے پر ایسا ہی رجحان پیدا ہوا۔ اس کے باوجود معاشی بحران کے سبب اس کامیابی کے ثمرات ضائع ہونے کا امکان ہے۔

مارین کو صنفی بنیاد پر معاوضہ کا فرق ختم کرنے کے لیے کیے گئے شاندار کام کو آگے بڑھانے کی کوششوں میں مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عالمی اکنامک فورم کے مطابق معاوضے کی ادائیگی میں مردوں اور خواتین کے درمیان فرق کو سامنے رکھا جائے تو اس وقت ملک میں معاوضے کی برابری کی شرح 83.2 فیصد ہے۔ اس لحاظ سے فن لینڈ صرف آئس لینڈ اور ناروے سے پیچھے ہے۔ تاہم معاوضے کی ادائیگی میں تفاوت مزید کم کرنے کے لیے فن لینڈ کو نجی شعبے کے کاروباری اداروں کے عزم کی مدد کی ضرورت ہوگی جو سماجی پالیسی کی زیادہ پرواہ نہیں کرتے۔

مزیدبرآں بعض شعبوں میں صنف کی بنیاد پر نمائندگی متاثر ہوتی رہے گی جیسا کہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینیئرنگ اور ریاضی کے شعبوں کی تعلیم میں ہے جہاں تدریسی عملے کے دو تہائی سینیئر عہدوں پر مرد فائز ہیں جبکہ  60 فیصد خواتین کے پاس ڈاکٹریٹ کی ڈگری ہے۔

مارین تعلیم کو اس مسئلے کا ایک حال سمجھتی ہیں۔ وہ اور ان کا خواتین کی زیرقیادت سیاسی اتحاد ایک ایسے پروگرام کی وکالت کرنے پر تیار ہیں جس کے تحت ابتدائی تعلیم سے لے کر کام کی جگہ تک صنفی اور دیانتداری کے اصولوں کی تعلیم دی جائے گی۔ امید ہے کہ اس طرح ان گھسے پٹے خیالات کو ختم کرنے میں مدد ملے گی جو بعض شعبوں میں موجود ہیں تاکہ ان شعبوں میں خواتین کے داخلے میں حائل رکاوٹیں دور کی جا سکیں۔

مارین کی ترقی کی شدید خواہش کی بدولت فن لینڈ کی سیاست میں نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔ اسے پہلے بھی ایک خاتون ملک کی رہنما رہ چکی ہیں جن میں دو وزیر اعظم اور ایک صدر شامل ہیں۔ اس کے باجود مارین ایک منفرد اور اعتدال پسند نوجوانوں سے تعلق رکھنی والی رہنما ہیں جن کی آواز صاف اور پیغام بامعنی ہے۔ عوامی حاکمیت اور سماجی رجعت پسندی کے پس منظر کے برخلاف مارین فن لینڈ کی سیاست میں تازہ ہوا کا جھونکا ہیں۔

آئندہ چار برس میں انہیں اور ان کی ٹیم کو یقینی طور پر رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ خاص طور پر اس وجہ سے نہیں کہ وہ خواتین ہیں۔ جس وجہ سے وہ جمی رہیں گی وہ یہ حقیقت ہے ان کے پاس پیش کرنے کے لیے ماضی کی انتظامیہ کے مقابلے میں کچھ مختلف ہے: امید کی آواز اور حقیقی سماجی تبدیلی لانے کا عزم۔

ایک بار پھر فن لینڈ نے دوسروں کے لیے مثال قائم کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دوسرے ملک فن لینڈ کی تقلید کریں گے۔

 

مارجہ میکارو ٹیکنالوجی اکیڈمی فن لیںڈ سے تعلق رکھتی ہیں جو ایک ایسا ادارہ ہے جس کے زیرانتظام 10 کروڑ یورو کا میلئنیئم ٹیکنالوجی پرائز ہے۔ 

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ