سوویت یونین کی افغانستان میں مہم جوئی کی کہانی، پانچ کتابوں کی زبانی

سویت جنگ پر سینکڑوں مستند کتابیں لکھی گئیں، جن میں سے کئی کتابوں نے شہرت حاصل کی اور لاکھوں ڈالرز کا بزنس کیا۔

افغانستان میں سویت مہم جوئی پر سینکڑوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں (بک کوررز)

 (سوویت یونین کی فوجوں نے 27 دسمبر 1979 کو افغانستان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ انڈپینڈنٹ اردو نے اس موقعے پر ایک خصوصی سیریز کا آغاز کیا ہے، جس میں آپ اس تاریخ ساز واقعے کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں تحریریں اور تجزیے پڑھیں گے)


روسی فوجی دسمبر، 1979 میں افغان سرزمین پر قبضے کی نیت سے اترے لیکن دس سال بعد شکست خوردہ حالت میں لوٹ گئی۔

تقریباً ایک دہائی تک جاری رہنے والی اس مہم میں ہزاروں ہلاکتیں ہوئیں جبکہ لاکھوں زخمی اور مہاجرین در بدر ہوئے۔

سویت یونین کے ٹوٹنے کے کئی اسباب میں شامل اس جنگ کے دوران اور بعد میں اس مہم کے محرکات، نظریات، نتائج اور اثرات پر سینکڑوں مستند کتابیں لکھی گئیں، جن میں سے کئی کتابوں نے شہرت حاصل کی اور لاکھوں ڈالرز کا بزنس کیا۔

ہم یہاں پانچ ایسی ہی کتابوں کا ذکر کریں گے، جنھیں ناکام سویت جنگ نے کامیابی سی ہمکنار کیا:

دا کائٹ رنر (فکشن)

کہتے ہیں کہ تاریخ کے موضوع پر لکھی گئی دس کتابیں بھی قاری کو اس طرح سے کسی دور کے اندر نہیں پہنچا سکتیں جس طرح ایک اچھا ناول پہنچا سکتا ہے۔ 

کچھ ایسا ہی حال 2003 میں شائع ہونے والے ناول ’دا کائٹ رنر‘کا بھی ہے، جس نے فکشن کا ذوق رکھنے والے قارئین میں بے حد مقبولیت حاصل کی۔

یہ افغان امریکی مصنف خالد حسینی کا پہلا ناول تھا جو دو سال سے زائد عرصے تک نیو یارک ٹائمز کا نمبر ون بیسٹ سیلررہا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ناول کی کہانی کابل کے ایک لڑکے عامر کے گرد گھومتی ہے، جو اپنے بہترین دوست حسن کا ریپ روکنے میں ناکام رہتا ہے۔ اس واقعے کے بعد دونوں کی دوستی ختم ہو جاتی ہے، جس کا دکھ  عامر کو ہمیشہ رہتا ہے۔

تاہم دو دہائیوں بعد قدرت عامر کو اپنے ’گناہ‘کا ازالہ کرنے کا موقع دیتی ہے اور وہ  حسن کے بیٹے کو مشکلات سے نکالتا ہے۔

ناول قاری کو افغانستان میں بادشاہت کے خاتمے، سویت یونین کی فوجی مداخلت اور اس کے نتیجے میں افغانوں کی پاکستان ہجرت اور پھر طالبان دور کی سیر کراتا ہے۔

اس ناول کی صرف امریکہ میں سات کروڑ سے زائد کاپیاں فروخت ہوئیں جبکہ اسی نام سے 2007 میں ایک بے حد کامیاب فلم بنی اور متعدد ڈرامے بھی سٹیج  ہوئے۔

 

گوسٹ وارز (نان فکشن)

معروف رپورٹر اور مصنف سٹیو کول کی یہ کتاب بھی افغانستان میں سویت مداخلت کے معروضی حالات سمجھنے کے حوالے سے معتبر سمجھی جاتی ہے۔

2004 میں شائع ہونے والی اس کتاب میں کول نے سویت یونین کی افغانستان میں مداخلت کے دوران امریکی سی آئی اے کی سرگرمیوں اور پھر ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں  کے بعد کے واقعات کا تفصیل سے احاطہ کیا۔

پیولٹزر پرائز جیتنے والی اس کتاب میں آپ کو سی آئی اے اور پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے درمیان بداعتمادی کی داستان بھی پڑھنے کو ملے گی۔

سٹیو کول مشرق وسطی میں رپوٹنگ کا کئی سال تجربہ رکھتے ہیں اور انھوں نے اپنے اس تجربے کو کتاب میں خوب استعمال کیا۔

اس کتاب کے لیے انھوں نے کئی سالوں تک ماضی میں امریکہ کی خفیہ سرکاری دستاویزات کا مطالعہ کرنے کے ساتھ ساتھ کئی سینیئر امریکی عہدے داروں اور خفیہ ایجنسیوں کے  سربراہان کے انٹرویوز کیے۔

انھوں نے خاص کر افغانستان میں سویت فوج کے خلاف ’جہاد‘ کے لیے سی آئی اے کی فنڈنگ اور خفیہ معاونت کو افشا کیا اور ثابت کرنے کی کوشش کی کہ سی آئی اے کی مداخلت کی وجہ سے ہی اسامہ بن لادن کو اپنا نیٹ ورک بڑھانے کا موقع ملا جس کی وجہ سے 11/9 واقعہ پیش آیا۔

چارلی ولسنز وار (نان فکشن)

سٹیو کول نے ’گوسٹ وارز‘میں یہ بتایا تھا کہ کس طرح سی آئی اے نے افغان ’جہاد‘ کی فنڈنگ اور خفیہ معاونت کی لیکن چارلی ولسز وار آپ کو بتائے گی کہ امریکہ سے یہ فنڈز جاری ہونے کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا۔

یہ کتاب آپ کو ٹیکسس کے کانگرنس مین چارلی ولسن کی داستان سنائے گی کہ  کس طرح سماجی حلقوں میں مشہور ہیوسٹن کی ایک خاتون نے چارلی کی توجہ سویت فوجیوں کے خلاف لڑنے والے وسائل سے  محروم ایک عسکریت پسندوں کے گروہ کی جانب دلائی، جس کے بعد چارلی نے اپنی پوری توجہ افغان ’جہاد‘ پر مرکوز کرتے ہوئے انتہائی طاقت ور کمیٹی ’ہاؤس اپروپری ایشن‘کے ذریعے جنگجوؤں کی ’مدد‘ کے لیے کروڑوں ڈالرز کی منظوری کروائی۔

اس کے علاوہ کتاب میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ کس طرح چارلی نے ایک سی آئی اے ایجنٹ کی مدد سے خفیہ طور پر ہتھیار خرید کر ’مجاہدین‘تک پہنچائے۔

کتاب کی بے پناہ مقبولیت کے بعد اسے فلم میں ڈھالنے کا فیصلہ کیا گیا اور 2007 میں اسی نام سے یہ فلم ریلیز ہوئی جس میں شہرہ آفاق اداکار ٹام ہینکس نے چارلی ولسن کا کردار ادا کیا۔

 

زنکی بوائز (نان فکشن)

افغانستان میں 1979 سے 1989 تک جاری رہنے والی  سویت مہم جوئی کے دوران  50ہزار روسی فوجی اپنی جانوں سے گئے۔ ان فوجیوں کی لاشوں کو زنک سے بنے تابوتوں میں ڈال کر واپس وطن بھیجا جاتا تھا اورانھی زنک کے تابوتوں کی وجہ سے اس کتاب کا نام ’زنکی بوائز‘ رکھا گیا۔

زنکی بوائز اس جنگ کی تلخ اور ناقابل فراموش حقیقتوں کو آشکار کرتی ہے، جس سے سویت حکومت نے کئی سالوں تک آنکھیں بند کیے رکھیں۔

2015 کی نوبیل انعام یافتہ خاتون مصنف سوتلانا الیگزیوچ نے کتاب میں بڑی عمدگی  سے جنگ میں شامل افسروں، سپاہیوں، نرسوں اور ان کے خاندانوں کے تاثرات قلم بند کیے، جنھیں پڑھ کر سمجھ آتی  ہے کہ افغانستان سویت یونین کا ’ویت نام‘ثابت ہوا۔

 

گریٹ گیمبل (نان فکشن)

اگر آپ نے افغان ’جہاد‘ کو خود زمین پر لڑنے والے فوجیوں اور عسکریت پسندوں کے تناظر سے دیکھنا ہو تو گریگوری فائفر کی کتاب ’گریٹ گیمبل‘ضرور پڑھیں۔

گریگوری نے کتاب کے لیے دونوں حریفوں کے لڑنے والوں سے تفصیلی انٹرویو کیے۔ انھوں نے اپنی کتاب میں افغانستان میں لڑی جانے والی سویت جنگ کی باریک بینی سے عکاسی کرتے ہوئے افغانستان پر سویت حملے اور بعد میں عراق اور افغانستان پر امریکی حملے کے درمیان عمدہ موازنہ پیش کیا ہے۔

گریگوری نے کتاب میں روسی  فوجیوں کا مقدمہ پیش کیا کہ ان کی سیاست قیادت پہلے پہل حملے کو اپنی کامیابی تصور کرتی رہی لیکن زمین حقائق اس کے بر عکس تھے اور کئی روسی فوجیوں کی نظر میں یہ تباہ کن شکست تھی جو بعد ازاں سویت یونین کے خاتمے کی صورت میں سامنے آئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ