پاکستانی سفارت خانوں کی مشکلات

کوئی سفیر کامیاب ہوتا ہے تو ایسا تمام اداروں کے نمائندوں کے مشترکہ تعاون سے ہوتا ہے، اسی طرح ناکامی بھی مشترکہ ہوتی ہے۔ کامیابی کی صورت میں تو مختلف ادارے اس کا سہرا اپنے سر باندھ لیتے ہیں لیکن ناکامی کو فورا سفیر اور وزارت خارجہ سے جوڑ دیا جاتا ہے۔

کابل میں پاکستان کے سفارت خانے کے باہر ویزہ لینے والوں کا رش (اے ایف پی)

ہمارے سفیر بیرون ملک نہ صرف حکومت بلکہ پورے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں۔ جس ملک میں کسی سفیر کی تعیناتی ہوتی ہے اس ملک کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور عسکری تعلقات کو بہتر بنانے کی ساری ذمہ داری سفیر پر عائد ہوتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ تارکین وطن پاکستانیوں کی مشکلات اور ان کے بیرون ملک قیام کو آرام دہ بنانے میں بھی سفیر اور سفارت خانے کا اہم کردار ہوتا ہے۔ یہ تمام اہم اور مشکل ذمہ داریاں سفیر اکیلے پوری نہیں کر سکتا، اس کے لیے اسے اہل ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف ادارے اور وزارتیں سفارت خانے میں اپنے اپنے نمائندگان کی تقرری کرتے ہیں۔

اگر کوئی سفیر کامیاب ہوتا ہے تو یہ سفارت خانے میں سارے اداروں کے نمائندوں کے مشترکہ تعاون سے ممکن ہوتا ہے۔ اسی طرح ناکامی بھی تمام اداروں کے افسران کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ مگر طرفہ تماشہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں کامیابی کی صورت میں تو مختلف ادارے اس کا سہرا خوشی خوشی اپنے سر باندھ لیتے ہیں لیکن سفارت خانے کی کسی بھی ناکامی کو فورا سفیر اور وزارت خارجہ سے جوڑ دیا جاتا ہے۔

عموماً ایک اہم اور بڑے سفارت خانے میں وزارت خارجہ کے نمائندوں کے علاوہ عسکری ادارے، وزارت تجارت، داخلہ، اطلاعات، خزانہ، تعلیم، بیرون ملک پاکستانی، نادرا، حساس ادارے اور مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ (ایم آر پی) کے اہلکار بھی شامل ہوتے ہیں۔ ایک عام تاثر کے برعکس کسی بھی بڑے سفارت خانے میں وزارت خارجہ کے افسروں سے زیادہ دوسرے محکموں کے افسران شامل ہوتے ہیں۔ مثلاً واشنگٹن میں ہمارے سفارت خانے میں 24 افسروں میں سے نو کا تعلق وزارت خارجہ سے جبکہ اکثریت یعنی 15 افسران دوسرے محکموں سے تعلق رکھتے ہیں۔ کم و بیش یہی تناسب ہمارے دیگر بڑے سفارت خانوں بشمول بیجنگ، لندن، پیرس، برلن، ریاض، ابوظہبی، نیو دہلی، ماسکو اور کابل وغیرہ میں بھی ہے۔

اسی طرح مختلف مالی اور انسانی وسائل بھی دیگر محکموں کے نمائندوں کے پاس وزارت خارجہ کے ماتحت افسران سے زیادہ ہوتے ہیں۔ وزارت خارجہ کے افسران میں صرف سفیر کو سرکاری گاڑی، ڈرائیور اور ذاتی عملے کی سہولت دی جاتی ہے جبکہ ماتحت افسران اس قسم کی سہولتوں سے محروم ہوتے ہیں لیکن دیگر محکموں کے افسران کو سفیر کو دی گئی تقریباً ساری سہولتیں میسر ہوتی ہیں۔ ان میں سرکاری اور ذاتی استعمال کے لیے گاڑی، ڈرائیور اور دفتر کے لیے مکمل عملہ شامل ہے۔ وزارت خارجہ کے افسران ایک دوسرے کے سٹاف یا سفیر کے سٹاف کو دفتر کے کاموں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عملے کی کمی کی وجہ سے ماتحت افسران اکثر اپنا سارا دفتری کام خود ہی کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح وزارت خارجہ کے تمام افسران عموماً ایک عدد سٹاف کار یا ذاتی گاڑی پر سرکاری فرائض ادا کرتے ہیں۔ سٹاف کار سے پاکستان سے آنے والے سرکاری مہمانوں کے پروٹوکول فرائض بھی انجام دیے جاتے ہیں۔

چھوٹے سفارت خانوں میں جن میں صرف وزارت خارجہ کے افسران ہوتے ہیں مثلاً رباط، تیونس، ابوجا، الجیریا، بیروت، بلغراد، ویلنگٹن وغیرہ شامل ہیں۔ ان تمام سفارت خانوں میں وہ کام جو کسی بھی بڑے سفارت خانے میں دیگر محکموں کے افسران سرانجام دے رہے ہوتے ہیں وہ وزارت خارجہ کے صرف دو افسران کو ادا کرنے پڑتے ہیں۔ یہ فرائض وہ ان سہولتوں کے بغیر انجام دے رہے ہوتے ہیں جو دیگر محکموں کے اہلکاروں کو مہیا ہوتے ہیں۔ ان سب مشکلات کے باوجود ان سفارت خانوں اور اہلکاروں سے توقع ہوتی ہے کہ وہ سارے کام انجام دیں جو کہ درجنوں محکموں کے افسران تمام سہولیات کے ساتھ مختلف سفارت خانوں میں ادا کر رہے ہوتے ہیں۔

پاکستانی سفارت خانوں میں مالی وسائل کی شدید کمی ہوتی ہے جس سے انہیں مؤثر طریقے سے پاکستان کے مفادات آگے بڑھانے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ سفارت خانوں کے لیے وزارت خزانہ کی طرف سے مختص بجٹ انتہائی معمولی ہوتا ہے جس کی وجہ سے عموماً بجلی، گیس، ٹیلیفون اور گھروں کے کرائے بھی بروقت ادا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

سفارت خانے کی عمارتوں کی دیکھ بھال اور مرمت کے لیے بھی انتہائی قلیل رقم مہیا کی جاتی ہے جن سے سفارت خانوں کا مجموعی طور پر ناخوشگوار تاثر سامنے آتا ہے۔ اس کے مقابلے میں سفارت خانے کے دیگر محکموں کے پاس وسائل کی بہتات ہوتی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ان محکموں کے افسران اپنی پوسٹنگ کا، جو کہ عام طور پر ایک سے ذیادہ نہیں ہوتی، ذاتی فائدہ اٹھانے کی تگ و دو میں رہتے اور سرکاری وسائل کا بے جا استعمال کرتے ہیں لیکن سفارت خانے کی غیر تسلی بخش کارکردگی کی ذمہ داری صرف وزارت خارجہ اور سفیر پر ڈالی جاتی ہے۔

تارکین وطن کو قونصلر رسائی دینا سفارت خانے کی ایک بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے۔ یہ ذمہ داری امریکہ، کینیڈا، برطانیہ اور خلیجی ممالک میں اور زیادہ اہمیت اختیار کر لیتی ہے جہاں لاکھوں پاکستانی رہائش پذیر ہیں یا روزگار کی تلاش میں آئے ہوئے ہیں۔ وزارت خارجہ کے پاس محدود مالی و انسانی وسائل ہیں اس وجہ سے قونصلر خدمات پر مامور اہلکاروں کی تعداد انتہائی کم ہوتی ہےاور نتیجتاً تارکین وطن کو مشکلات اور قونصلر سہولیات کی رسائی میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

قونصلر اہلکاروں اور مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے مختلف جیلوں میں قید پاکستانیوں کو بھی قانونی امداد مہیا کرنے میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں اور عمومی تاثر یہ ابھرتا ہے کہ سفارت خانہ تارکین وطن کے مسائل پر توجہ نہیں دیتا اور افسران نااہل اور لاپرواہ ہیں۔ وسائل کی کمی کی وجہ سے سفارت خانے میں قونصلر خدمات حاصل کرنے والے افراد کو انتظار کرنے اور بیٹھنے کے لیے مناسب سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے بھی ایک منفی ردعمل دیکھنے میں آتا ہے۔ ان حالات اور تاخیر کی وجہ سے قونصلر سہولیات حاصل کرنے والے افراد ناراضگی کا اظہار بھی کرتے ہیں جس کی وجہ سے کئی سفارت خانوں میں ناخوشگوار واقعات بھی درپیش آئے ہیں۔ ایسے ناپسندیدہ واقعات کی ایک وجہ سفارت خانے میں قونصلر سہولیات مہیا کرنے والے افراد کی تربیت کی بھی کمی ہوتی ہے اور بہت ساری جگہوں پر نادرہ اور ایم آر پی اہلکاروں کا تارکین وطن کے ساتھ نامناسب رویہ اور ان کے مسائل کے بارے میں غیر ہمدردانہ انداز ہوتا ہے۔

یہ مسائل ہمیں ایک بڑے مسئلے یعنی تنظیمی ڈھانچے (Chain of Command) کی طرف لے جاتے ہیں۔ مختلف وجوہات کی بنا پر پچھلی دو دہائیوں میں ہمارے سفیروں کے نظم و ضبط سے متعلق اختیارات میں کافی کمی کی گئی ہے جس سے سفیر کے لیے سرکاری قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں اور نااہل اہلکاروں کے خلاف کسی قسم کی تادیبی کارروائی کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ ان نئی پابندیوں کی وجہ سے سفارت خانوں کی عمومی کارکردگی میں ابتری آنا شروع ہوئی ہے۔ خلیج کے کئی ممالک میں نادرہ اور ایم آر پی کے افسران کے خلاف مختلف شکایات آنے کے باوجود ان کے محکموں کا انہیں واپس نہ بلانا، انہیں نامناسب رویے جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

اسی طرح یہ ایک طرف تو سفیر یا کونصل جنرل کی عمل داری کو کمزور کرتا ہے اور دوسری طرف دیگر محکموں کو بھی نظم و ضبط اور قواعد و ضوابط کی پابندی نہ کرنے کی شہہ دیتا ہے۔ کئی محکموں کے افسران کو ان کے اپنے محکموں کی طرف سے یہ ہدایات ہوتی ہیں کہ وہ اپنا کام سفیر سے ہدایات لیے بغیر آزادی سے کریں اور انہیں سفیر کو اپنے کام کی جزئیات بتانے کی ضرورت نہیں۔ اس محکمانہ مخاصمت نے سفیر اور سفارت خانوں کی کارکردگی پر انتہائی منفی اثر ڈالا ہے اور دیکھنے میں آیا ہے کہ کئی معاملات میں سفیر اور ان محکموں کے نمائندے متضاد مقاصد کے لیے کام کر رہے ہوتے ہیں۔

اس سلسلے میں درج ذیل اقدامات سفارت خانوں کی کارکردگی اور محکموں میں ہم آہنگی بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

      مختلف محکموں کے افسران کو سفیر کی قیادت اور رہنمائی میں پاکستان کے مفادات کو آگے بڑھانا چاہیے اور انہیں سفیر کے سامنے مکمل طور پر جواب دہ ہونا چاہیے۔

      سفارت خانوں کے بجٹ میں وزارت خزانہ کو حقیقت پسندانہ اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔

-       سارے محکموں کے بجٹ سفیر کے زیر انتظام ہونے چاہییں اور وہی اسے مختلف محکموں میں ان کی ضروریات کے مطابق تقسیم کریں۔

-       سفارت خانوں میں موجود تمام وسائل سرکاری ذمہ داریاں نبھانے کے لیے سب افسران کو برابری کی بنیاد پر مہیا ہونے چاہییں چاہے وہ افسران وزارت خارجہ سے ہوں یا دوسرے محکموں سے۔

-       تمام محکموں کے افسران کی کارکردگی کی رپورٹ سفیر کو نہ صرف لکھنی چاہیے بلکہ سفیر کی کسی افسر کی کارکردگی کے بارے میں رپورٹ کو وزن بھی دینا چاہیے اور ان رپورٹوں کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور جی ایچ کیو کو ترقی دیتے ہوئے مدنظر رکھنا چاہیے۔

-       کسی بھی افسر یا سٹاف کو ناقص کارکردگی یا نظم وضبط کی خلاف ورزی پر پاکستان واپس بھیجنے کے اختیارات سفیر کے پاس ہونے چاہییں۔ ان معاملات میں سفارشات پر فوری عمل درآمد ہونا چاہیے۔

ان اقدامات سے نہ صرف سفارت خانوں کی کارکردگی بہتر ہو گی بلکہ بیرون ملک پاکستان کا ایک بہتر تاثر بھی ابھرے گا۔ سفراء اور دیگر افسران ملک کی ترقی کے لیے یکجہتی اور یکسوئی سے کام کر سکیں گے۔ سفارت خانوں کے اندرونی ڈھانچے کی بہتری سے تارکین وطن کی فلاح و بہبود میں بھی بہتری آئے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ