جب ملکہ پکھراج نے جرمانہ دے کر اداکاری سے جان چھڑائی

سروں کی ملکہ، ملکہ پکھراج کی 16ویں برسی پر خصوصی تحریر۔

(پی ٹی وی)

یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ ملکہ پکھراج کے سامنے سُر ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے اور جو بھی گنگناتیں وہ ذہنوں میں نقش ہو جاتا۔ پکے راگ ہوں یا لوک دھنیں ملکہ پکھراج کی ترنم بھری آواز جلترنگ چھیڑ دیتی۔

ان کا تعلق کشمیر سے تھا، موسیقار گھرانے میں آنکھ کھولی تو سُر اور تال کی سمجھ بوجھ بچپن سے خوب آتی گئی۔ کشمیری راجہ ہری سنگھ کے دربار میں راگنیوں کے پھول کھلائے، ملکہ پکھراج ڈوگری اور پہاڑی زبانوں میں نغمہ سرائی کرتیں تو دربار ان کی کھنک اور پاٹ دار آواز کی وجہ سے گونج اٹھتا۔

تاہم ایک وقت آیا جب انہیں احساس ہوا کہ بہتر مستقبل اور شہرت کے لیے انہیں وادی کی تنگ فضاؤں سے نکلنا پڑے گا۔ انہوں نے آبائی علاقے ہمیر پور سدھر کو چھوڑ کر دہلی اور ممبئی کا رخ کیا۔ خوش قسمتی ہی کہیے کہ گلوکاری کی ابتدائی تعلیم بڑے غلام علی خان کے والد علی بخش سے حاصل کی جنہوں نے ملکہ پکھراج کی گلوکاری کی خامیوں کو دور کیا۔

یہی نہیں خان صاحب اختر حسین اور عاشق علی جیسے موسیقاروں کی سنگت بھی رہی۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ شریک سفر کے لیے جس شخصیت یعنی شبیر حسین شاہ کا انتخاب کیا وہ فنون لطیفہ اور موسیقی کی خاصی سمجھ بوجھ رکھتے تھے۔ ملکہ پکھراج کا کہنا تھا کہ شاہ جی (شبیر حسین شاہ) اگر نہ ہوتے تو ممکن ہے کہ وہ گلوکاری میں یہ مقام بھی نہ پاتیں کیونکہ وہ ہر مرحلے پر ان کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کرتے۔ چاہے سٹوڈیو لانا لے جانا ہو، یا پھر کسی اور شہر، ملکہ پکھراج کا شریک سفر ہونے کا انہوں نے بھرپور مثالی حق ادا کیا۔ شبیر حسین شاہ نے ’جھوک سیال‘ بھی تحریر کیا، جسے ڈرامائی شکل میں پاکستانی ٹیلی ویژن پر پیش کیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ملکہ پکھراج نے موسیقی کی بیشتر باریکیاں شوہر سے بھی سیکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’سیکھنے کا عمل کبھی بھی رکنا نہیں چاہیے اور جو یہ تصور کرلے کہ اسے سیکھنے کی اب ضرورت نہیں تو وہ اپنے شعبے میں سب سے پیچھے رہ جاتا ہے۔‘

یہی وجہ ہے کہ ملکہ پکھراج نے کشمیری راجہ ہری سنگھ کے بیٹے کرن سنگھ سے جب راگ پہاڑی ڈوگری سنا، تو ان سے باقاعدہ یہ سیکھا بھی اور اس راگ میں کئی گیت گا کر شہرت پائی۔ یہی نہیں ملکہ پکھراج نے تو گلوکارہ ریشماں اور مہدی حسن کی سنگت اختیار کر کے جو کچھ ان کے پاس ہنر اور فن تھا اس کو ذہن نشین کرنے کی کامیاب کوشش کی۔

ملکہ پکھراج کے مطابق لطف اُس وقت زیادہ آتا ہے جب گانا دوسروں کو پسند آئے، اسی لیے انہوں نے ساری زندگی ایسی غزلوں اور کلام کا انتخاب کیا جووہ سمجھتی تھیں کہ سننے والوں کے دلوں پر اثر کر جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنی ذات کے لیے گانا ہو تو دروازے بند کر کے آئینہ کے سامنے گا کر شوق پورا کر لیں۔
ملکہ پکھراج کے شوہر شبیرحسین شاہ خود ادبی محفلوں کی جان رہے تھے، اسی بنا پر ان کے گھر میں فیض احمد فیض، حفیظ جالندھری کا آنا جانا ہوتا، جن کی صحبت میں بیٹھ کر ملکہ پکھراج کو بھی بہترین کلام کے انتخاب میں آسانی ہوتی گئی۔

ایک قیاس تو یہ بھی کہ حفیظ جالندھری نے ملکہ پکھراج کو ہی ذہن میں رکھ کر اپنا شہرہ آفاق گیت ’ابھی تو میں جواں ہوں‘ لکھا۔ اس رسیلے گیت نے ملکہ پکھراج ہی نہیں ان کی صاحبزادی طاہرہ سید کی شہرت میں بھی اضافہ کیا۔
ملکہ پکھراج کی بڑی خواہش تھی کہ ان کی بڑی بیٹی تسنیم ان کے فن کو آگے بڑھائیں۔ اس کوشش میں ان پر سختی بھی کی گئی لیکن انہوں نے گانا سیکھ کر نہ دیا۔

جبھی تھک ہار کر ملکہ پکھراج نے طاہرہ سید پر توجہ دی جو بڑی بہن کی طرح گلوکاری کو پسند نہیں کرتی تھیں لیکن والدہ کے اصرار پر اپنی خواہش کو منوں مٹی دبا کر باقاعدگی سے گلوکاری کی باریکیاں سیکھنے میں لگ گئیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ملکہ پکھراج نے اپنے چار بیٹوں اور دو بیٹیوں کے نام انگریزی حروف تہجی ’ٹی‘ سے رکھے، ان میں تنویر، طارق، تسنیم، توقیر، تصویر اور طاہرہ نمایاں ہیں۔ ملکہ پکھراج کی خوش قسمتی یہ بھی ہے کہ ان کی دونوں بیٹیوں کے شوہر وکالت کے شعبے سے وابستہ رہے۔ تسنیم، قانون دان، دانشور اور سیاست دان ایس ایم ظفر کی بیگم ہیں جبکہ طاہرہ سید بیرسٹر نعیم بخاری کی شریک سفر رہیں۔
ملکہ پکھراج کبھی بھی خالی نہیں بیٹھتی تھیں۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ قالین پر کشیدہ کاری کر کے ان پر دیدہ زیب اور خوبصورتی مصوری کے فن پارے بنانے میں بھی مہارت رکھتی تھیں۔ یہ شاہکار کوئی ایک دو مہینوں میں نہیں بلکہ برسوں میں تیار ہوتے تھے۔ دست کاری کے ان فن پاروں کی نمائش طاہرہ سید نے نوے کی دہائی میں الحمرا لاہور میں بھی کرائی۔ اس کے علاوہ ملکہ پکھراج گھر میں بھی ’سٹف ٹوائز‘ تیار کرکے پوتے اور پوتیوں کو تحفے میں دیا کرتی تھیں۔

طاہرہ سید کا کہنا ہے کہ والدہ ہمیشہ کہا کرتیں کہ گاناسنانا ہے دکھانا نہیں، اسی لیے وہ دوران گلوکاری، کندھوں، آنکھوں اور سر کو ہلانے سے سختی کے ساتھ منع کرتیں۔ ہاں یہ ضرور تھا کہ ہاتھوں کو لہرانے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں تھا۔
گو ملکہ پکھراج کی ہرمرحلے پر ان کے شوہر شبیر حسین شاہ نے رہنمائی کی لیکن دونوں کے درمیان ایک موڑ پر نظریاتی اختلافات بھی ہوئے۔ 60 کی دہائی میں جب فاطمہ جناح، ایوب خان کے مقابل کھڑی ہوئیں تو ملکہ پکھراج کی تمام تر ہمدردی اور حمایت فاطمہ جناح کے لیے تھی جبکہ شبیر شاہ ایوب خان کے حامی تھے۔ دونوں کے درمیان گھر میں بحث و مباحثہ ہوتا اوراپنے اپنے امیدوار کے لیے گرما گرم تبصرے بھی ہوتے۔
40 کی دہائی میں ملکہ پکھراج کو دیگر گلوکارہ کی طرح یہ شوق بھی چرایا کہ وہ اداکاری کے جوہر دکھائیں۔ اس مقصد کو پانے کے لیے انہوں نے لاہور سے ممبئی کا سفر طے کیا اور باقاعدہ ایک فلم بھی سائن کی، جس کا ایک گانا ریکارڈ کرانے کے بعد وہ اداکاری بھی کرتی رہیں۔ لیکن پھر اکتاہٹ کا شکار ہو گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اداکاری انتہائی بیزار کن اور وقت طلب کام ہے جو ان کے مزاج کے خلاف ہے۔ اسی بنا پر محض دو ہفتے بعد بھی فلم کو ادھورا چھوڑ کر واپس لاہور آ گئیں۔ معاہدے کی خلاف ورزی پر پروڈیوسر نے ان پر ہرجانہ بھی کر دیا۔ بات کورٹ کچہری تک پہنچی اور کم و بیش دو سو روپے جرمانہ ادا کر کے ملکہ پکھراج نے اپنی جان چھڑائی۔

زیادہ پڑھی جانے والی موسیقی