ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی حمایت کریں گے: ترکی

پاکستانی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے جمعے کو خطاب کرتے ہوئے ترک صدر طیب اردوغان نے کہا کہ کشمیر ترکی کے لیے وہی ہے جو پاکستان کے لیے ہے۔

پاکستانی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے جمعے کو خطاب کرتے ہوئے طیب اردوغان نے کہا کہ کشمیر کی حیثیت پاکستان کے لیے ویسی ہی ہے جیسی چنا قلعہ کی ترکی کے لیے ہے (اے پی پی)

 

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے پاکستانی عوام کو یقین دلایا ہے کہ ترک قوم ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر ان کے موقف کی حمایت جاری رکھے گی جبکہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) میں بھی پاکستان کی حمایت کی جائے گی۔

جمعے کو پاکستانی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے طیب اردوغان نے کہا کہ ’کشمیر کی حیثیت پاکستان کے لیے ویسی ہی ہے جیسی چنا قلعہ کی ترکی کے لیے ہے۔‘

ترک صدر کے خطاب کے دوران وزیر اعظم عمران خان، وفاقی وزرا، سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اراکین اور حزب اختلاف کے اراکین بھی موجود تھے۔

یاد رہے کہ ترک صدر رجب اردوغان نومبر 2016 میں بھی پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے دوران پاکستان آئے تھے اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا تھا۔ تاہم عمران خان کی جماعت تحریک انصاف نے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کی مبینہ کرپشن کے خلاف احتجاج کے طور پر 17 نومبر 2016 کو ہونے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا۔

اس اجلاس کے بعد عمران خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ ان کی پارٹی کے اراکین نے اس لیے مشترکہ اجلاس میں شرکت نہیں کی کیونکہ وہ نواز شریف کو ملک کا وزیراعظم نہیں مانتے۔ انہوں نے وضاحت کی اجلاس کا بائیکاٹ صدر اردوغان کی وجہ سے نہیں کیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے قبل جمعرات کو جب ترک صدر اسلام آباد پہنچے تھے تو پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے ایئرپورٹ سے وزیر اعظم ہاؤس تک ان کی گاڑی ڈرائیو کی تھی۔

پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب میں طیب اردوغان نے مزید کہا کہ ترک قوم ماضی میں پاکستانی بھائیوں کی جانب سے ملنے والی امداد اور احسانات کو کبھی نہیں بھول سکے گی۔

انہوں نے کہا کہ تمام تر عالمی دباؤ کے باوجود انقرہ ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔

انہوں نے دہشت گردی کے خلاف پاکستانی ریاست اور قوم کی قربانیوں اور کوششوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترک صدر نے ایک بار پھر واضح کیا کہ کشمیر ترکی کے لیے وہی ہے جو پاکستان کے لیے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا درد ترکی کا درد ہے اور پاکستان کی خوشی ترکی کی خوشی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’بھارت کے یکطرفہ اقدامات سے کشمیریوں کی تکالیف میں اضافہ ہوا لیکن مسئلہ کشمیر کا حل جبری پالیسیوں سے نہیں بلکہ انصاف سے ممکن ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی ترکی کا بھرپور ساتھ دیا۔ 

صدر اردوغان کے مطابق پاکستان اور ترکی دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’انسداد دہشت گردی کے معاملات میں ہم پاکستان کے ساتھ تعاون کو آئندہ بھی جاری رکھیں گے۔‘

اردوغان کی پاکستانی عوام کو علاج کی غرض سے ترکی آنے کی دعوت

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے بعد صدر رجب طیب اردغان نے پاک ترک بزنس فورم کی تقریب سے خطاب کیا اور پاکستانی عوام کو علاج کی غرض سے مغربی ممالک جانے کی بجائے ترکی آنے کی دعوت دی۔

طیب اردوغان نے کہا: ’مجھے معلوم ہے کہ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد علاج کی غرض سے مغربی ملکوں کا رخ کرتی ہے، لیکن میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ترکی میں بھی علاج معالجے کی بہترین سہولتیں موجود ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ہر سال پانچ لاکھ سے زیادہ غیر ملکی علاج کے لیے ترکی آتے ہیں۔

طیب اردغان نے بتایا کہ ترکی میں بہترین ہسپتال موجود ہیں جہاں ہر قسم کے علاج کی اعلیٰ سہولتیں مہیا کی جاتی ہیں۔

پاکستان اور ترکی کے تجارتی تعلقات کو اپنے سیاسی تعلقات کی سطح تک بڑھانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ملک نئے کاروباروں کی راہیں کھولیں گے۔

طیب ادوغان نے مزید کہا کہ اس وقت پاکستان اور ترکی کے درمیان تجارت کا حجم صرف 80 لاکھ ڈالر ہے۔ ’تجارت کا یہ حجم ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ ہماری باہمی آبادی تین ارب سے زیادہ ہے، لہذا ہمیں اپنی تجارت کو اس حد تک پہنچانا ہوگا جس کے ہم مستحق ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ترکی میں پاکستانی سرمائے کے ساتھ 158 کمپنیاں ہیں اور ہم ایسی مزید کمپنیاں دیکھنا چاہیں گے۔‘

اساتھ ہی نہوں نے بتایا کہ فی الحال ہمارے پاس سرمایہ کاروں کو مخصوص شرائط کے تحت ترک شہریت کی پیش کش کے لیے ایک نمونہ موجود ہے۔

ترک صدر نے کہا: ’میں اپنے پاکستانی بھائیوں کو ترکی کی معیشت پر اعتماد کرنے کی دعوت دیتا ہوں، کیوں کہ ترک معیشت کا شمار دنیا کی 20 اعلیٰ معیشتوں میں ہوتا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ترکی پر عوام کا 72 فیصد قرض تھا، جس کو ان کی حکومت 30 فیصد تک لے آئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان