فی الحال تو یہی بحران چلے گا

ریاست کے مستقل مالکان ملک پر مسلسل تجربات کیے جا رہے ہیں اور اب وہ فارسی کے اس مقولے کی صورتحال سے دوچار ہیں کہ ’نہ جائے ماندن اور نہ پائے رفتن۔‘

وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان ایک ملاقات کا منظر (پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ)

ریاست کے مستقل مالکان 72 سال پہلے بننے والے ملک پر تجربات سے ہرگز نہیں اکتاتے، سو وہ اس پر مسلسل تجربات کیے جا رہے ہیں۔

مشکل یہ ہے کہ نہ تجربات کرنے والے تجربات سے تھکتے ہیں اور نہ کوئی تجربہ کامیاب ہوتا ہے۔ تجربہ گاہ البتہ سکڑتی جا رہی ہے۔ دُم تو سیدھی نہیں ہو رہی لیکن اب نلکی ٹیڑھی ہونا شروع ہو گئی ہے۔ یہی صورتحال ڈیڑھ سال قبل لائی گئی اس سیاسی بساط کی ہے جو چل نہیں پا رہی۔

نواز شریف سرکار میں خامیاں ضرور تھیں لیکن اسے ہٹانے کی وجہ نہ وہ خامیاں تھیں اور نہ نئے نظام میں سابقہ سرکار کی خامیوں کو درست کرنے کی کوئی کوشش کی گئی ہے۔ اگر کچھ خامیاں دور کی گئی ہیں تو وہ وہی خامیاں ہیں جن کی نشاندہی خود نواز شریف نے کی تھی اور جس کی نشاندہی کی پاداش میں ان کی حکومت پر غداری کے فتوے عائد کیے گئے اور جس کی وجہ سے میڈیا پر پابندیاں عائد کی گئیں۔

یقین نہ آئے تو ڈان لیکس کیس کو دوبارہ پڑھ لیں، سب کچھ سمجھ آجائے گا۔ آج وہ تمام لوگوں کی، جو کہتے تھے کہ حافظ سعید اور ان کی جماعت نے کوئی گناہ نہیں کیا اور ان کی جماعت کو قومی دھارے میں لائیں گے اور انہیں اسمبلیوں میں بٹھائیں گے، زبانوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔ نئے اقدامات کے باوجود اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ اگلے ہفتے پیرس سے یہ خبر آئے کہ پاکستان اب ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل کر سفید لسٹ پر آ گیا ہے۔

اب تک ناہنجار حکومتوں کو یا تو مارشل لا کے ذریعے ہٹایا گیا ہے یا کمزور ہائبرڈ حکومتوں کے ذریعے ڈنگ ٹپاؤ سلسلہ چلایا گیا ہے۔ 90 کی دہائی میں صدر کے ذریعے منتخب حکومتوں کو گھر بھیجا گیا لیکن 18ویں ترمیم کے بعد یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف کی عدالت کے ذریعے چھٹی کرائی گئی۔ رہی سہی کسر2014 کے دھرنے اور پاناما سکینڈل کے بعد عدالتوں اور واٹس ایپ جے آئی ٹی نے پوری کر دی تھی۔ سونے پر سہاگہ جولائی 2018 کے انتخابات سے پہلے اور بعد میں میڈیا کے پر کاٹنے اور سیاسی انجینیئرنگ تھی۔

خواب بنانے والوں، بُننے والوں اور بیچنے والوں نے پچھلے انتخابات سے پہلے شفافیت، اچھی حکمرانی، خاندانی آمریت کے خاتمے، کرپشن سے صاف معاشرے، خود انحصاری، قومی سلامتی کے بہترین نظام، شاندار معیشت، اداروں کی از سرنو تعمیر اور بہترین خارجہ پالیسی کے جو سنہرے وعدے کیے تھے ان کا بھانڈا ایسا پُھوٹا ہے کہ دنیا کی کوئی ایلفی اسے جوڑنے کا جتن نہیں کر رہی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب انتخابات کے تقریباً 19 ماہ بعد وہ تمام شعبے جن میں انقلابی تبدیلیوں کے وعدے کیے گئے تھے تباہی کے دہانے پر ہیں۔ سب سے برا حال معیشت کا ہے جس کے لیے نواز دور حکومت میں دانش کدوں میں گفتگو کی جاتی تھی کہ اس میں اصلاحات کی جائیں ورنہ قومی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو جائیں گے۔

ان دانش وروں اور فیصلہ سازوں سے پوچھنا بنتا ہے کہ اب جبکہ معیشت کی شرح نمو چھ فیصد سے گر کر دو فیصد سے بھی کم ہو گئی ہے اور تمام اشاریے یہ بتا رہے ہیں کہ اس میں مزید کمی ہوگی اور نئی سرکار جن کے قائد کی آٹھ ہزار ارب کے محصولات اکٹھا کرنے کے وعدے کی تکمیل کی بجائے اس کے آدھے جمع کرنے پر بھی جان جا رہی ہے اور ان کے لائے ہوئے شبر زیدی پتلی گلی پکڑ کر رفو چکر ہو چکے ہیں، ایک کروڑ کے قریب نئے انسان خط غربت سے نیچے گر گئے ہیں، 22 لاکھ افراد بےروزگار ہوچکے ہیں، سٹاک مارکیٹ آئے دن قطب جنوبی کی طرف گامزن ہے، زراعت اور صنعت روبہ زوال ہیں، 14 فیصد کے قریب شرح سود اور مہنگائی 20 فیصد سے زیادہ ہے، عوام آٹے، چینی اور گھی کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور لوگوں کو راشن کارڈ اور یوٹیلیٹی سٹورز کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، تو قومی سلامتی کتنی مستحکم ہوئی ہے؟

اب صورت حال یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے اتحادی جنہیں گھیر گھار کر حکومت میں شامل کیا گیا تھا، حکومت کا بوجھ اٹھانے سے انکاری ہیں، کابینہ کے اجلاس تو باقاعدگی سے ہوتے ہیں لیکن فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔ کچن کابینہ ہے کہ آئے دن چھوٹی ہوتی جا رہی ہے۔ آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ پنجاب عثمان بزدار کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار نہیں اور عمران خان اس لیے انہیں ہٹانے کے لیے تیار نہیں کہ اس کے نتیجے میں پہلے تخت لاہور ان کے ہاتھ سے جائے گا اور پھر اسلام آباد۔ حکومتی سانپ سیڑھی اب اس مرحلے پر ہے کہ ہر جگہ ’نیچے جایے‘ لکھا ہے۔

18 ماہ سے جاری احتساب کے نام پر انتقام کا رقص اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے۔ آہستہ آہستہ اس کا نشانہ بننے والے سیاست دان اور بیوروکریٹ ایک ایک کرکے باہر آرہے ہیں۔ اب جبکہ احتساب کرنے والوں کی باری آنے کی باتیں چل رہی تھیں تو اس کے دانت نکالنے کی بات ہو رہی ہے۔ اس احتساب کے نتیجے میں سینکڑوں ہزاروں ارب روپے واپس لانے والے غبارے پھٹ چکے ہیں۔

یہی وہ پس منظر ہے جس میں ڈیل، ڈھیل اور بذریعہ ایوان تبدیلی کی باتیں پچھلے سال سے شروع ہوئی تھیں اور اب تک چل رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کا مرحوم اور مقبوض میڈیا بھی اپنی تمام شکست خوردگی اور اونٹ کا پاؤں بنانے کے باوجود اس لڑکھڑاتی سرکار کی حمایت نہیں کر پا رہا۔

بلاگرز کی گمشدگیاں، غداری کے مقدمات، گالم گلوچ بریگیڈ، ننگے ٹرینڈ، مثبت رپورٹنگ۔ کچھ بھی اس سرکار کو مستحکم نہیں کر سکے۔ عمران خان کو آخرکار حصول سکون کی خاطر قبر سے پہلے میڈیا سے گریز کرنے کا نسخہ آزمانا پڑا ہے اور یہی تجویز انہوں نے اپنی کابینہ کے ارکان کو بھی دی ہے۔

اب یہ حال ہے کہ حکمران جماعت کے ارکان اسمبلی جب بھی عمران خان سے ملتے ہیں تو اپنے حلقے کے عوام کے غیظ و غضب کی کہانیاں انہیں سناتے ہیں اور برملا کہتے ہیں کہ وہ اپنے حلقے کے عوام کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔ 

اب یہ عالم ہے کہ خود ن لیگ کے رہنماؤں نے لندن سے بھی اور یہاں پر بھی کہنا شروع کیا ہے کہ وہ اس ایوان میں تبدیلی کے ذریعے حکومت میں آنا نہیں چاہتے کیونکہ کمزور حکومت مسائل حل نہیں کر سکے گی اور موجودہ حالات میں نہ اتحادی چلنے کے لیے آمادہ ہیں اور نہ عوامی غصہ قابو میں آتا دکھائی دیتا ہے۔

یہ وہ پس منظر ہے جس میں غیبی مدد کے ذریعے، خفیہ طور پر پہلے پیمرا کے ذریعے اور اب پی ٹی اے کے ذریعے سوشل میڈیا کو قابو کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ پراجیکٹ عمران کو کسی طرح کا سہارا دیا جا سکے جب تک اس نظام کو دھکا سٹارٹ رکھنے کا کوئی بندوبست کیا جا سکے۔

سوشل میڈیا کمپنیاں تو قابو میں آنے سے رہیں لیکن حکومت اور اس کی غیبی امداد کرنے والوں کی سبکی میں مزید اضافہ ضرور ہو گا۔ نئے انتخابات اس وقت تک نہیں کرائے جا سکتے جب تک نئی حکومت بنانے والوں سے کوئی قبل اعتماد مُک مُکا نہ کر لیا جائے۔ اس سے پہلے انتخابات کا نتیجہ نہ صرف عمران سرکار کا باجہ بجنے کی صورت میں نکلے گا بلکہ اس کے نتیجے میں معلق پارلیمان کا پرانا نسخہ بھی کارگر نہ ہو گا۔

اس لیے فی الحال بحران چلے گا جب تک مسقبل کے نقشہ راہ کا تعین نہ ہو جائے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جس تیزی سے حالات خراب ہو رہے ہیں، خطے میں تبدیلیاں آ رہی ہیں، ان کے پیش نظر سونے کی مرغی ذبح ہونے کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔ فیصلہ ساز فارسی کے اس مقولے کی صورتحال سے دوچار ہیں کہ ’نہ جائے ماندن اور نہ پائے رفتن۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر