ہمارا انتخابی نیلام گھر

کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم پاکستان میں سے ہر کسی کو انتخابات جتوانے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور اگر کوئی یہ کہنے کی جرات کرے گا تو ہم چوہدری نثار کی طرح سے ایک عبرتناک انتخابی شکست سے دوچار کروا دیں گے، یا اس کی ضمانت ضبط ہو جائے گا یا پاسپورٹ۔

ترکوں سے خاص محبت کا اظہار انہوں نے طیب ادروان کو یہ خصوصی، تاریخی تحفہ دے کر کیا کہ ترکوں نے ہندوستان پر 600 سال حکومت کی ہے (پی آئی ڈی)

وزیر اعظم عمران خان کی سیاسی دانشوری بےمثال ہے۔ وہ پاکستان میں ہر آنے والے مہمان کو یہاں سے الیکشن جیتنے کی خوش خبری سنا دیتے ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے بھارتی شہری نوجوت سدھو کو کچھ ایسا کہہ کر متاثر کر رہے تھے کہ وہ پاکستان میں کتنے مقبول ہیں۔ سدھو کے بارے میں شاید یہ کہنا اس وجہ سے بنتا ہو کیوں کہ ان کو جنرل قمر جاوید باجوہ نے گلے سے لگایا تھا۔ اس کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو بھی یہی خبر دی کہ اگر وہ پاکستان سے انتخابات لڑیں تو ان کی جیت یقینی ہے۔ اب طیب اردوغان کو بھی یہی نوید مسرت دی ہے کہ وہ پاکستان میں اپنی مقبولیت کو اپنی یقینی انتخابی جیت سے جانچ سکتے ہیں۔

ترکوں سے خاص محبت کا اظہار انہوں نے طیب ادروغان کو یہ خصوصی، تاریخی تحفہ دے کر کیا کہ ترکوں نے ہندوستان پر 600 سال حکومت کی ہے۔ طیب اردوغان ملک واپس جا کر اپنے تمام معاونین کو الٹا لٹکا کر پوچھیں گے کہ اتنی بڑی تاریخی حقیقت ترک قوم سے ابھی تک کیوں چھپی رہی؟ اور وہ کون سی تاریخ کی کتاب ہے جو پاکستان کے وزیر اعظم کو ایسی خفیہ معلومات فراہم کرتی ہے؟

غیرملکیوں کا پاکستان میں انتخابات جیتنا کچھ ایسا غیرمعمولی واقعہ بھی نہ ہو گا۔ ہم نے ایک ایسا لچک دار نظام بنایا ہوا ہے جس کے ذریعے کوئی بھی کسی وقت بلا خوف و خطر انتخابی مراحل کو طے کر کے اس قوم کا نمائندہ بن سکتا ہے۔ آپ کو شوکت عزیز تو یاد ہوں گے۔ بین الاقوامی بینکنگ کی دنیا کا یہ چھیل چھبیلا نہ صرف ملک کا وزیر اعظم بنا بلکہ اٹک اور تھرپارکر جیسے مشکل انتخابی حلقوں سے بغیر کسی تکلیف کے جیت کر ملک میں عوامی نمائندگی کے اعلیٰ منصب پر فائز بھی رہا۔

یہ علیحدہ بات ہے کہ شوکت عزیز کو اٹک اور اندرون سندھ میں مقیم پاکستانی شہریوں کے بارے میں اتنا ہی علم تھا جتنا ایک غیر ملکی پاکستان کے دور دراز اضلاع کے بارے میں جان سکتا ہے، لیکن آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ انہوں نے پاکستان سے الیکشن نہیں جیتا۔

اگر شوکت عزیز جیت سکتا ہے تو اردوغان اور دیگر کیوں نہیں؟

الیکشن جتوانے اور ہروانے کے داؤ پیچ ہمارے اداروں نے سیکھ لیے ہیں ان کی حیثیت آفاقی ہے۔ وہ زمان و مکان کی قید سے آزاد ہیں۔ آئین، قانون، ثقافت اور سیاست کی قدغنیں ان پر لاگو نہیں ہوتیں۔ یقیناً آزادی حاصل کرنے کے بعد اگر ہمارے یہاں کسی صنعت نے ترقی پائی ہے تو وہ انتخابات جتوانے اور ہروانے کی ہے۔ اس صنعتی شعبے میں کی گئیں ایجادات ہمیں دنیا میں خاص مقام عنایت کرتی ہے اور وہ یہ کہ ہم جمہوری ہونے کے باوجود جمہوریت کے بین الاقوامی پیمانے پر پست ترین مقام رکھنے والے ممالک کے ساتھ کھڑے ہیں۔

کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم پاکستان میں سے ہر کسی کو انتخابات جتوانے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور اگر کوئی یہ کہنے کی جرات کرے گا تو ہم چوہدری نثار کی طرح سے ایک عبرتناک انتخابی شکست سے دوچار کروا دیں گے یا اس کی ضمانت ضبط ہو جائے گا یا پاسپورٹ۔ اسحاق ڈار کی طرح ملک بدر کر دیا جائے گا اور دنیا بھر میں مارا مارا پھرے گا۔

انتخابات جتوانے اور ہروانے کی اس کاری گری کے اور پہلو بھی ذہن میں ہونے چاہیں۔ ضروری نہیں ہے کہ ہم الیکشن جتوا کر ہی کسی کی مہمان نوازی یا خاطر تواضع کریں۔ ہم نے مقبولیت جانچنے کے لیے کچھ اور معیار بھی مقرر کیے ہوئے ہیں جن کا انتخابات سے قطعاً کوئی تعلق نہیں۔

مثلا آپ مقبول پہلے ہو سکتے ہیں اور منتخب بعد میں۔ ایوب خان اس کی اعلیٰ مثال ہیں۔ پہلے مقبول ہوئے، پھر آئین بنایا پھر منتخب ہوئے۔ ضیا الحق نے مقبول ہونے کے بعد انتخابی عمل کے ذریعے آئین میں اپنا نام ڈلوا دیا۔ جنرل مشرف نے اپنی مقبولیت کو پاکستان ٹیلی وژن کی دیواریں پھلانگ کر ساری دنیا کے سامنے ثابت کیا اور بعد میں انتخابی عمل کی زحمت سے اپنی قیمتی شخصیت کو گزارتے ہوئے صدر بن گئے۔

ایک اور فارمولا بھی ہماری اپنی ایجاد ہے جس کے تحت آپ مقبول یا منتخب ہوئے بغیر خود کو اتنی طاقت دے سکتے ہیں کہ ملک و قوم کی قسمت اپنے ہاتھ سے بنائیں یا بگاڑیں۔ ڈاکٹر حفیظ شیخ اور سٹیٹ بینک کے گورنر رضا باقر اس کی بہترین مثال ہیں۔ پاکستان سے کوئی لینا دینا نہیں۔ بچے، بیویاں، بینک اکاؤنٹس، پیسے، جائیدادیں، اپنی باقی زندگی اور آنے والی نسلوں سے متعلق پلاننگ سب کچھ پاکستان کی سرحدوں سے باہر۔ مگر طاقت کا یہ عالم ہے کہ ساڑھے 22 کروڑ عوام کی معیشت کو پٹخ کر چور چور کر دیں تو بھی کوئی ہاتھ پکڑنے کی جرات نہیں کر سکتا۔

اسلام آباد کی سڑکوں پر ایسے دندناتے پھرتے ہیں کہ ’رابرٹ کلائیو‘ کی روح بھی حسد کا شکار ہو جائے۔

اس قسم کا ایک اور فارمولا کچھ یوں ہے کہ آپ کو اپنی عوامی اہمیت کا احساس کرنے کے لیے نہ کوئی عہدہ چاہیے نہ انتخاب اور نہ ایسے اقدامات اٹھانے کی ضرورت کہ جن سے جسم و جاں کو کوئی کوفت ہو۔ آپ کا یہ سمجھ لینا ہی کافی ہے کہ آپ مقبول ہیں۔

لہذا آپ پاکستان میں سب کچھ کر سکتے ہیں۔ جنرل راحیل شریف کے دور میں یہی فارمولا لاگو تھا۔ کہا جاتا تھا کہ چوں کہ ہمیں پتہ ہے کہ جنرل راحیل شریف بہت مقبول ہیں لہذا ان کو ازخود یہ اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ اس ملک کی سمت درست کرنے کا بندوبست کریں۔ وہ تو بھلا ہو سعودی عرب کا انہوں نے جنرل راحیل شریف کی انقلابی سوچوں کو ایک قیمتی نوکری کے ذریعے کوئی اور رخ دے دیا۔ ورنہ آج شاید جنرل راحیل کی نوکری کا ساتواں سال ہوتا اور جنرل باجوہ اپنے پاکستان بچانے کی مہم پر وقت صرف کرنے کی بجائے ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہوتے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیر اعظم عمران خان ان تمام فارمولوں سے بخوبی واقف ہیں۔ ان میں سے بہت سے فارمولے وہی ہیں جن کو وہ اپنے کرکٹ کیریئر کے دوران گیند کو ریورس سوئنگ کروانے کے لیے استعمال کیا کرتے تھے۔ لیکن ریورس سوئنگ کے وہ فارمولے اب موثر نہیں رہے کیوں کہ کمبخت کیمرے ہر جگہ موجود ہیں۔ وہ بوتل کے ڈھکن اور ریگ مال جیسے اضافی اوزار فوراً فلم بند کر لیتے ہیں۔ نہ ناخن مارے جا سکتے ہیں اور نہ جیب کے اندر لگا ہوا کھردرا کپڑا۔ لہذا اب ہم سے گیند سوئنگ نہیں ہوتی۔

لیکن چوں کہ انتخابی نظام گھر کی باندی ہے اور ہم اس سے کچھ بھی کام کروا سکتے ہیں لہذا اس کی ایجادات سے ہم اب بھی مستفید ہو رہے ہیں۔ جبھی تو ہم دیکھتے ہیں کہ اچھی بھلی چلتی ہوئی حکومت جھٹ سے گر جاتی ہے۔ پارٹیاں ٹوٹ جاتی ہیں۔ نئے اتحادی دھڑے جادو کی نگری کی طرح آباد ہو جاتے ہیں۔ تعریفوں کے ڈھول پیٹنے والے تنقید کے ٹپے گانے لگتے ہیں اور جن کو ان کے ہمسائے خیرات نہیں دیتے وہ خزانوں کے مالک بن جاتے ہیں۔

کرسی پر بیٹھا عمران خان جیسا وزیر اعظم بھی اپنی کارکردگی اور اہمیت اجاگر کرنے کے لیے یہ بیان دیتا ہے کہ فوج علم رکھتی ہے کہ وہ کتنا محنتی انسان ہے۔ یہ انہی فارمولوں کا صدقہ ہے کہ درجنوں بےگناہ ضمانت کے بغیر برسوں اور مہینوں قید میں پڑے رہتے ہیں اور مافیاز لوٹ کھسوٹ کرنے کے باوجود اپنی معصومیت کے اشتہار ذرائع ابلاغ پر چلاتے ہیں۔ ایسے فارمولے کہیں اور نہیں پائے جاتے۔ یہ صرف ’میڈ ان پاکستان‘ ہیں۔ لہذا آپ حیران نہ ہوں کہ اگر کبھی تفریحا طیب اردوغان نے پاکستان سے انتخاب جیتنے کی خواہش کا اظہار کیا تو ہم ان کو بے مثال کامیابی سے نواز دیں۔ ہم تو ان کو انتخاب جتوائے بغیر ہی اہم عہدے دلوا دیں گے۔

ہمارے مہمانوں کو اس قسم کی پیشکش پر حیرانی ہوتی ہو گی ہمیں نہیں۔ یہ کھیل ہم بائیں ہاتھ سے کھیلتے ہیں اور پھر جب پیشکش عمران خان کریں تو اس کو اور بھی سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ آخر وہ خود بھی تو وزیر اعظم بن گئے ہیں۔ ان کا اس نظام کے بارے میں اعتماد اور اس کی صلاحیتوں پر یقین غلط نہیں ہو سکتا۔ ان کے اندازے صرف دوسروں کے انتخابات کے حوالے سے غلط ثابت ہوتے ہیں۔ جبھی تو انہوں نے کہا تھا کہ اگر نریندر مودی انتخاب جیت گیا تو بھارت و پاکستان کے درمیان امن قائم کرنے میں آسانی ہو گی اور کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کی راہیں کھل جائیں گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ