نیپال دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سے برسوں سے جاری کوڑا کرکٹ جمع کرنے کی ڈپازٹ سکیم کو ختم کرنے والا ہے، کیونکہ حکام کے مطابق یہ سکیم پہاڑ پر جمع ہونے والے فضلے میں کمی لانے میں ناکام رہی ہے۔
یہ منصوبہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل متعارف کرایا گیا تھا جس کے تحت کوہ پیماؤں سے 4,000 ڈالر (2,960 پاؤنڈز) کی رقم بطور قابل واپسی ڈپازٹ یعنی ضمانت کے طور پر رکھی جاتی تھی اور وہ اپنی مہم کے اختتام پر کم از کم 8 کلوگرام کچرا واپس لانے کی صورت میں یہ رقم وصول کرسکتے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس پالیسی نے کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں دیا، خاص طور پر اُن بالائی کیمپوں میں جہاں کچرا سب سے زیادہ نظر آتا ہے اور اسے ہٹانا سب سے مشکل ہوتا ہے۔
سیاحت کی وزارت کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سکیم کو ختم کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ ’کوئی ٹھوس نتیجہ دکھانے میں ناکام رہی‘ اور وقت کے ساتھ ساتھ ایک انتظامی بوجھ بنتی گئی، حالانکہ زیادہ تر کوہ پیما اپنا ڈپازٹ واپس حاصل کرتے رہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مسئلہ وہیں موجود ہے جہاں کچرا جمع ہوتا ہے۔ اگرچہ کوہ پیما عام طور پر نچلے کیمپوں سے کوڑا کرکٹ واپس لاتے ہیں، لیکن خوراک کے ڈبوں، چھوڑے گئے ٹینٹوں، آکسیجن کی بوتلوں اور انسانی فضلے جیسا کچرا خاطر خواہ مقدار میں اب بھی اونچائی پر رہ جاتا ہے۔
ساگرمتھا پولیوشن کنٹرول کمیٹی کی چیف ایگزیکٹو، شیرنگ شرپا، جو ایورسٹ پر فضلے کی نگرانی کرتی ہے، کا کہنا ہے کہ کوہ پیما اکثر اونچے کیمپوں سے آکسیجن سلنڈر واپس لانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دیگر چیزیں جیسے ٹینٹ، کین اور پیک شدہ خوراک و مشروبات کے ڈبے زیادہ تر وہیں چھوڑ دیے جاتے ہیں، اسی لیے ہم وہاں اتنا زیادہ کچرا جمع ہوتے دیکھتے ہیں۔‘
ایک اوسط کوہ پیما ایورسٹ کی مہم کے دوران، جو عموماً کئی ہفتوں تک جاری رہتی ہے، تقریباً 12 کلوگرام فضلہ پیدا کرتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کمرشل کوہ پیمائی نے ماؤنٹ ایورسٹ کو دنیا کا سب سے بلند کوڑے کا ڈھیر بنا دیا ہے۔
حکام محدود نگرانی کو ایک بڑی خامی قرار دیتے ہیں۔ کھمبو آئس فال کے اوپر موجود ایک چیک پوائنٹ سے آگے، پہاڑ کے بالائی حصوں میں فضلے کے انتظام کی نگرانی نہ ہونے کے برابر ہے، جہاں عملدرآمد مشکل اور خطرناک ہوتا ہے۔
اب حکام اس قابلِ واپسی ڈپازٹ کی جگہ 4,000 ڈالر (£2,960) کی ناقابلِ واپسی صفائی فیس متعارف کرانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، جس کی پارلیمان سے منظوری باقی ہے۔
اس رقم کو مزید چیک پوائنٹس قائم کرنے اور بلند کیمپوں میں فضلے کی نگرانی کے لیے پہاڑی رینجرز تعینات کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
سیاحت کے حکام کا کہنا ہے کہ نیا نظام نفاذ اور صفائی کے لیے ایک مخصوص فنڈ مہیا کرے گا، بجائے اس کے کہ ناکام ڈپازٹ اسکیم پر انحصار کیا جائے، جو لوگوں کے رویوں میں تبدیلی لانے میں کامیاب نہ ہو سکی۔
یہ فیس نیپال کی اہم چوٹیوں پر فضلے سے نمٹنے کے لیے حال ہی میں شروع کیے گئے پانچ سالہ ماؤنٹین کلین اپ ایکشن پلان کا حصہ ہوگی۔
اگرچہ کوئی جامع مطالعہ یہ نہیں بتا سکا کہ ایورسٹ پر کتنا فضلہ موجود ہے، لیکن بڑے پیمانے پر اندازہ ہے کہ یہ درجنوں ٹن میں ہے، جس میں انسانی فضلہ بھی شامل ہے جو منجمد درجہ حرارت میں تحلیل نہیں ہوتا۔
ایورسٹ پر چڑھنے کی کوشش کرنے والے کوہ پیماؤں کی تعداد حالیہ برسوں میں مسلسل بڑھ رہی ہے، جو اب سالانہ اوسطاً تقریباً 400 ہے، جبکہ ان کے ساتھ سینکڑوں گائیڈز اور معاون عملہ ہوتا ہے۔
ماحولیاتی گروہوں اور مقامی حکام کا کہنا ہے کہ اگر مسلسل نگرانی اور سخت عملدرآمد نہ ہوا، تو کوئی بھی صفائی مہم نچلے کیمپوں تک محدود ہونے کا خطرہ رکھتی ہے، جبکہ پہاڑ کے بلند حصوں میں فضلے کا جمع ہونا بدستور جاری رہے گا۔