منظور پشتین رہا ہوتے ہوتے کیسے رہ گئے؟

سوموار تمام قانونی لوازمات پورے کرنے کے بعد منظور پشتین کی روب کار سینٹرل جیل ڈیرہ اسماعیل خان کو جاری ہونی تھی کہ مزید ایف آئی آر سامنے آگئی اور یوں ان کی رہائی نہ ہوسکی۔

ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑ نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ منظور پشتین پر جتنے بھی کیس بنائے گئے ہیں وہ بالکل بے بنیاد ہیں(اے ایف پی)

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے سربراہ منظور پشتین کی چھ ایف آئی آرز میں ضمانتیں مکمل ہوگئی تھیں۔ بالآخر تین ہفتے سینٹرل جیل ڈیرہ اسماعیل خان میں گزارنے کے بعد سوموار کو بائیسویں روز عدالت سے رہائی کا پروانہ ملنے ہی والا تھا کہ ملزم کے کے خلاف مزید دو ایف آئی آر سامنے آگئیں۔

منظور پشتین کو 27 جنوری کو پشاور کے علاقے شاہین ٹاؤن سے گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کا موقف تھا کہ پشتین ڈیرہ پولیس کو مطلوب تھے اور اسی بنا پر یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔ 28 جنوری پیر کی صبح پی ٹی ایم سربراہ کو جب عدالت میں پیش کیا گیا تو پشاور کی مقامی عدالت نے ان کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے 14 دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر انہیں سینٹرل جیل ڈیرہ اسماعیل خان بھیج دیا تھا۔ اس کی وجہ ان کے خلاف ڈی آئی خان پولیس کے پاس پرچہ درج ہونا تھی۔

 منظور پشتین پر ملک بھر میں تقریباً 46 سے زائد مقدمات درج ہیں لیکن جن آئی ایف آرز میں انہیں پشاور سے گرفتار کیا گیا تھا ان میں زیر دفعات  188 پی پی سی (جب ڈی سی جلسے جلوسوں میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہیں تو اس کی خلاف ورزی پر یہ دفعہ لگائی جاتی ہے) 123 اے، (نظریہ پاکستان کی نفی کرنا) 153 اے (ملک میں مختلف لسانی گروہوں میں منافرت پھیلانا) اور 16 ایم پی او، 120 بی، 506 وغیرہ  شامل ہیں۔

منظور پشتین کے وکیل اسد عزیز محسود نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ منظور پشتین کے خلاف ڈیرہ اسماعیل خان میں درج ایف آئی آر کی ضمانتیں گذشتہ جمعہ کے دن ہوگئی تھی جن کے ضمانت نامے بھی جمع ہوگئے تھے اور ریلیز آرڈر بھی سینٹرل جیل پہنچ چکے تھے۔ جبکہ پچھلے ہفتے  بروز ہفتہ ضلع ڈیرہ کی تحصیل پہاڑپور اور ضلع ٹانک کی عدالت میں بھی ضمانتیں منظور ہوگئی تھی لیکن فرد جائیداد لف کرتے وقت کوئی تکنیکی مسئلہ پیدا ہوگیا، جس سے قانونی کارروائی مکمل نہیں ہوسکی اور یوں منظور پشتین کی رہائی ہفتہ کے روز نہیں ہو پائی تھی۔

لہذا سوموار تمام قانونی لوازمات پورے کرنے کے بعد منظور پشتین کی روب کار سینٹرل جیل ڈیرہ اسماعیل خان کو جاری ہونی تھی کہ مزید ایف آئی آر سامنے آگئی اور یوں ان کی رہائی نہ ہوسکی۔

15 فروری کو پشتون تحفظ موومنٹ نے ڈیرہ اسماعیل خان رتہ کلاچی سٹیڈیم میں منظور پشتین کی رہائی کے لیے احتجاجی جلسے کا انعقاد کیا جس میں علی وزیر، بشری گوہر، افراسیاب خٹک وغیرہ سمیت مختلف مقررین نے منظور پشتین سمیت تمام افراد کی رہائی پر زور دیتے ہوئے مبینہ ریاستی جبر کے خلاف ہر قانونی و آئینی حد تک جانے اور اپنے حقوق کے حصول تک اپنی کوششیں جاری رکھنے کا ناصرف خود عہد کیا بلکہ مظاہرین کو بھی پرامن احتجاجی جدوجہد جاری رکھنے کو کہا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑ نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ منظور پشتین پر جتنے بھی کیس بنائے گئے ہیں وہ بالکل بے بنیاد ہیں۔ ’میں عدلیہ سے خصوصی درخواست کرتا ہوں کہ وہ پابند بنائیں کہ اس طرح کے جھوٹے کیس کسی پر بھی نہ بنائے جائیں۔ میری کوشش ہوگی کہ قومی اسمبلی میں اس پر کوئی ایسی قانون سازی لے آؤں جس میں اگر پولیس یا حکومت کسی سیاسی ورکر پر کوئی بےبنیاد کیس بنائے تو اس پر بھی کوئی سرزنش ہونی چاہیے تاکہ اس چیز کی روک تھام ممکن ہو۔‘

اس کے علاوہ انہوں نے احتجاجی جلسہ میں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست نے پی ٹی ایم اور منظور پشتین پر جتنے غداری کے مقدمات بنائے ہیں اتنے تو انہوں نے دہشت گردوں کے خلاف بھی نہیں بنائے ہوں گے۔ ’ہم بھاگنے والوں میں سے نہیں ہیں۔ اور ہماری جدوجہد اپنے آئینی حقوق کے حصول تک ہمیشہ جاری رہے گی۔‘

پی ٹی ایم کور کمیٹی کے ممبر فدا محمد نے بتایا کہ ان کے احتجاجی جلسہ میں بنوں، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کے لوگوں نے بھرپور شرکت کی لیکن ایک طرف ہمیں ڈی سی آفس سے این او سی جاری کی گئی اور دوسری طرف دفعہ 144 بھی نافذ تھا۔ ’ممکنہ طور پر ہمیں ذرائع سے پتا چلا ہے کہ ہمارے پرامن جلسہ کے خلاف مزید ایف آئی آر ہوسکتی ہیں۔ اور اگر واقعی ایسا ہوا تو پی ٹی ایم اس کی سختی سے مذمت کرتی ہے۔‘

پی ٹی ایم کے سرگرم رہنما و ممبر قومی اسمبلی علی وزیر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کے تمام نوجوانوں پر جتنی بھی جھوٹی ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں انہیں فی الفور ختم کیا جائے۔

سماجی کارکن مینا گبینا کے مطابق پشتون تحفظ موومنٹ کا کوئی ایسا غلط ایجنڈہ نہیں ہے۔ ’ریاست کو چاہیے ان لوگوں سے بات کرے اور ان کے زخموں پر مرہم رکھے۔ ناکہ سچائی سے بھرپور سوال کرنے والے نوجوانوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں بند کرے اور ان پر دہشت گردی کے چارج لگائیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست