ضمیر کی جبری برطرفی کا آسان طریقہ

ایک دن ضمیر ریٹائرمنٹ لے لیتا ہے یا اس کی عدالت بند کر کے اسے جبری برطرف کردیاجاتا ہے۔ آخر کار جب ضمیر کی روح پرواز کرجاتی ہے تو رہاسہا جھاکا بھی ختم ہوجاتاہے۔

کہا گیا ہے ضمیر جعل سازی سے حاصل کی گئی کامیابی میں رکاوٹ نہیں بنتا، البتہ اس کامیابی کا مزہ ضرور کرکرا کر دیتا ہے۔ ہمارا خیال ذرا مختلف ہے کہ اگر ضمیر چالو حالت میں ہو تو وہ جعل سازی اور ناجائز کاموں پر کہنیاں بھی مارتا ہے۔ کبھی تو نیم چالو یا معذور سا ضمیر بھی ہلکی پھلکی کہنی مارنے سے گریز نہیں کرتا۔

ہمیں یقین ہے کہ آ پ خواتین وحضرات نے زندگی بھر ایسی کوئی حرکت کی ہے، نہ کریں گے مگر تجربے کے طور پر، فقط تجربے کے طورپر ذرا کسی یتیم بچے کے مال پر ہاتھ صاف کرنے کا سوچ کر دکھایئے۔ کسی بیوہ کی جائیداد پرناجائز قبضہ کرنے کا ارادہ کیجیے۔ بنک سے پنشن وصول کر کے لاٹھی کے سہارے جانے والے کسی بیمار ضعیف کی جیب تراشی کا منصوبہ بنایئے۔ اپنے گھر میں کام کرنے والی بے آسرا اور کمزور بچی کی کسی غلطی پر اس کے دونوں ہاتھ اپنے آہنی ہاتھوں میں جکڑ کر گرم توے پر رکھ دینے کاخیال دل میں لائیے، یا کسی بے نوا بڑھیا کی جمع پونجی فراڈ سے ہتھیانے کا ارادہ کیجیے۔

ایسے گھناؤنے جرائم کا سوچتے ہی یہ جو آپ نے جھرجھری سی لی ہے، یہ ضمیر کی ماری گئی کہنی ہی تو ہے۔ بس ضمیر کا فرض منصبی اتنا ہی ہے۔ باقی وہ کوئی مولاجٹ تو ہے نہیں کہ گنڈاسا لے کر آپ کے راستے میں کھڑا ہوجائے گا۔ البتہ ضمیر کی کہنی کو لائٹ نہیں لینا چاہیے۔ اگریتیم کا حق مارنے والا سو یتیم خانے بنا کر بھی سکون نہیں پاسکتا تو مخلوق خدا کے ساتھ غیرانسانی سلوک کرنے والا یا مہگائی سے ان پرعرصہ حیات تنگ کر دینے والا اپنی بے گناہی کے حق میں لاکھ بیان حلفی اورہزاروں اخباری بیانات جاری کرے مگر وہ ضمیر کی عدالت سے کبھی بری نہیں ہوسکتا۔ ضمیر کی کہنیاں باتھ روم کے ٹُوٹے نل سے فرش پر مسلسل گرنے والے پانی کے قطروں کی آواز کی طرح ہیں، جو ہمیں ساری رات جگا کر بےچین رکھتے ہیں۔

اللہ کے کرم سے ہم حج وعمرہ کرنے والی دنیا کی دوسری بڑی قوم ہیں۔ دل پر مت لیجیے گا۔ بات آپ جیسے کروڑوں باضمیروں کی نہیں، ہم ایسے چند گناہ گاروں کی ہے، جن کے ضمیر ریٹائرڈ ہو کر’قومی دھارے‘ میں شامل ہوچکے ہیں۔ ہماراشکوہ ہے کی حج کے مبارک موقع پرموٹے تازے افریقی حبشی ہمیں کہنیاں مارتے ہیں۔ یہ ہمار وہم ہے۔ یہ کہنیاں حبشیوں کی نہیں ہمارے ضمیر کی ہوتی ہیں۔ اردوکے بادشاہ کوضمیر ہی کی کہنی پڑی تھی، جو اس نے کہا:

کعبے کس منہ سے جائو گے غالب

شرم تم کو مگر نہیں آتی

حبشوں پر تو ہم اپنی چوریاں چھپانے کی خاطر الزام دھرتے ہیں۔ ورنہ حقیقت یہ ہے طواف کعبہ کے مبارک موقع پر ضمیر ہم جیسوں کو کہنی مار کے پوچھتا ہے کہ کس منہ سے آئے ہو یا اخی! تمہارے پڑوسی کے بچے تو بھوکے سوتے ہیں۔ کس آمدنی سے تشریف لائے ہو یا حبیبی! تم تو دودھ میں بلیچنگ پاؤڈر اوریوریا کھاد سمیت زہریلے کیمیکلز ملا کر بیچتے ہو۔ کہنی مارتا ہے، اھلاً و سہلاً یا رفیق! مگر تمہارا تو وہاں جعلی ادویات کا کارخانہ ہے۔ سرکاری خزانے سے مقدس سرزمین پر آمد مبارک ہو دوست! مگر تمہارے احرام سے تو غریبوں کے ٹیکسوں کی بُو آتی ہے۔ ضمیر کہنی مار کے کہتا ہے کہ خالق کے حضور کس منہ سے گڑگڑا رہے ہو اے ہمدم! مخلوق خدا کو تو مُردار جانوروں کی انتڑیوں سے تیار شدہ کوکنگ آئل میں گدھے کا گوشت بھون کر کھلاتے ہو۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کہنی در کہنی مار کے ہمارے کان میں کھسر پھسرکرتا ہے، کیا مریضوں کو جعلی سٹنٹ ڈالنے کی کمائی سے حج کرنا جائز ہے؟ کیا ذخیرہ اندوزی اورملاوٹ کے مال سے حج قبول ہو جاتا ہے؟ رشوت، کک بیکس اور کمشن کی آمدنی سے خدا کے گھر حاضری سے بخشش ہو جاتی ہے؟ کالے دھن اورکالے من والے کو مدینے کا بلاوا آسکتاہے؟ چائے کی پتی میں چنوں کا برادہ ، مرچوں میں پسی اینٹیں ملاتے ہو اورگوشت کو پانی ملا کر بھاری کرتے ہو اوریہاں آکرقبولیت کی دعائیں مانگتے ہو؟ کہنی مارتاہے،تم تو اغوابرائے تاوان اور گاڑیوں کی چوری کی وارداتوں میں ملوث ہوپیارے ! پھریہاں خداکو دھوکہ دینے آئے ہو یا خود کو؟ شرم تم کو مگر نہیں آتی۔

اب آپ سے کیا پردہ، ہم ڈھٹائی سے کان لپیٹ لیتے ہیں، ضمیر کی ان کہنیوں کو حبشیوں کے کھاتے میں ڈال کر خود کو مطمئن کر دیتے ہیں اور واپس آ کر حاجی صاحب بن جاتے ہیں۔ خدا کا شکر ادا کریں کہ آپ نے کبھی ایسی کسی دونمبری سے خانہ خدا میں حاضری نہیں دی بلکہ ہمیشہ اپنی حق حلال کی کمائی سے یہ سعادت حاصل کی ہے، صد آفریں! باضمیر لوگوں کا یہی چلن ہوتا ہے۔

جیسا کہ شروع میں عرض کیا گیا کہ ضمیر ہردونمبری پرکہنیاں مارتا ہے۔ بجا، مگراپنا ذاتی تجربہ عرض کر دیں کہ ضمیر کی کہنیاں خاطر میں لائے بغیربار بار کی ایسی ’کامیابیاں‘ حاصل کی جائیں تو ضمیر کی کہنیاں کمزور پڑتی چلی جاتی ہیں۔ جب بندہ پہلی مرتبہ ضمیر کو منڈی میں لاتا ہے، غاصب حکمران کی حمایت کا پرچم بلند کرتا ہے، دہشت گردی کے حق میں تاویل گھڑتا ہے، ملاوٹ کا سوچتاہے یا کرپشن کا منصوبہ بناتا ہے تو ضمیر کی کہنیوں سے کھسیانہ سا ضرورہو جاتا ہے۔ تاہم جب وہ ضمیر کے جھانسے میں آئے بغیر ثابت قدمی سے اپنا سفر جاری رکھتاہے تو ان کہنیوں کا عادی ہوجاتا ہے۔

پھر آہستہ آہستہ ضمیر کی کہنیاں کمزور پڑتی چلی جاتی ہیں۔ اس کی سانسیں اکھڑنے لگتی ہیں اورایک دن ضمیر ریٹائرمنٹ لے لیتا ہے یا اس کی عدالت بند کر کے اسے جبری برطرف کردیاجاتا ہے۔ آخر کار جب ضمیر کی روح قف عنصری سے پرواز کرجاتی ہے تو رہاسہا جھاکا بھی ختم ہوجاتاہے، شرم اترجاتی ہے، حیا اڑان  بھر جاتی ہے اور مرزا یاروں کے لیے گلیاں سُنجیاں ہوجاتی ہیں۔ پھر وہ ہم جیسوں کی طرح صاحباں کی گلیوں میں دگڑ دگڑ گھوڑے دوڑاتے پھرتے ہیں۔ آمائش شرط ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ