'بھارتی حکومت نے ہمارے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا'

بھارت کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کی طرف سے گذشتہ برس کشمیر سے الگ کیے جانے والے خطہ لداخ کے شیعہ مسلمان اس وقت کافی ناراض ہیں۔

12 مارچ 2020 کو لی گئی اس تصویر میں بھارتی شہری  تہران میں واقع اپنے ملک کے سفارت خانے کے باہر احتجاج میں شریک ہیں (تصویر: کیوان شاہ)

بھارت کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کی طرف سے گذشتہ برس کشمیر سے الگ کیے جانے والے خطہ لداخ کے شیعہ مسلمان اس وقت کافی ناراض ہیں اور ان کی ناراضگی کی وجہ بھارتی حکومت کا کرونا (کورونا) وائرس سے متاثرہ ملک ایران میں پھنسے 800 سے زائد لداخی زائرین کے ساتھ ناروا سلوک ہے۔

ایران میں پھنسے لداخی زائرین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت نے ہمارے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا اور ہمیں یہاں تنہا و بے یار و مددگار چھوڑا، جس کے نتیجے میں تین زائرین ڈپریشن اور دوسری بیماروں کا شکار ہوکر انتقال کرگیے۔

لداخی زائرین کے ایک گروپ لیڈراصغر علی عباسی نے ایران کے شہر قم سے انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ جہاں بھارتی حکومت نے ہماری کوئی مدد نہیں کی وہیں ایرانی حکومت نے بحران کے باوجود زائرین کے قیام و طعام کے لیے بہترین انتظامات کیے ہیں۔

انہوں نے بھارتی حکومت کے رویے پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا: ’بھارت نے ہمارے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا۔ یہ ایرانی حکومت ہے جس نے ہمیں فٹ پاتھوں سے اٹھاکر ہوٹلوں میں منتقل کیا، ہمارے لیے کھانے اور طبی سہولیات کا انتظام کیا۔ اب اگر بھارتی حکومت ہمارے گھر سونے سے بھی بھر دے گی پھر بھی ہمیں خوش نہیں کرپائے گی۔‘

اصغر علی عباسی نے بتایا کہ اگر بھارتی حکومت نے لداخ اور کشمیر کے زائرین کو وقت پر وہاں سے نکالا ہوتا تو تین زائرین کی موت واقع نہ ہوتی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’قرنطینہ میں رہنے کا عرصہ ختم ہونے کے باوجود ہمیں یہاں سے نہیں نکالا جارہا۔ ہماری جانوں کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔ ہمیں یہ سازش نظر آتی ہے۔‘

اصغر علی عباسی نے کہا کہ انہوں نے بھارتی حکومت کے رویے کی شکایت اقوام متحدہ میں درج کرا دی ہے اور لداخ واپس لوٹنے پر اس حکومت کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم ساتھ ہی ان کا کہنا تھا ’ہم حسینی ہیں اور ہمیں صبر کرنا آتا ہے۔ ہم میں حسینیت اور یزیدیت میں فرق کرنے کی سمجھ ہے۔ بھارت جن لوگوں کو غیر مسلم ممالک سے لایا انہیں نوئیڈا کے فائیو سٹار ہوٹلوں میں قرنطینہ میں رکھا اور جن کو مسلم ممالک سے لایا جاتا ہے انہیں فوجی کیمپوں میں رکھا جاتا ہے۔‘

گلزار بالاگی نامی ایک اور گروپ لیڈر نے بھی شہر قم سے انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کچھ ایسے ہی تاثرات کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر ایران کی حکومت ان کی مدد نہیں کرتی تو مرنے والے لداخیوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی۔

لداخ سے صحافی سجاد کرگلی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’لداخ اور کشمیر کے زائرین کے ساتھ جو کچھ پیش آیا یہ انتہائی افسوسناک ہے۔ یہ بہت بڑی ناانصافی ہے۔ یہ نا اہلیت کی انتہا ہے۔ وہ پچھلے کئی ہفتوں سے گوہار لگا رہے ہیں کہ ہم آپ کے شہری ہیں اور ہماری واپسی یقینی بناؤ۔ یہاں تک ایران کی فضائی کمپنی ماہان نے گذشتہ ہفتے بھارت کو پیشکش کی کہ ہم غیر تجارتی بنیادوں پر آپ کے زائرین کو بھارت پہنچائیں گے لیکن بھارت نے پیشکش کو مسترد کر دیا۔‘

انہوں نے کہا کہ اب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا دفتر اور وہاں کی حکومت نے لداخی زائرین کے لیے دو موبائل ہسپتال قائم کیے ہیں اور ان کے رہنے کا انتظام کیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا: ’شرمناک بات یہ ہے کہ پچھلے دنوں تہران میں قائم بھارتی سفارت خانے کی جانب سے ایک ٹویٹ کی گئی جس میں یہ کہا گیا کہ بھارتی زائرین کو ہم کھانا فراہم کررہے ہیں جبکہ بعد میں زائرین نے ہی اس جھوٹ کا پردہ فاش کیا۔‘

سجاد کرگلی نے کہا کہ اب ایران از خود بھارتی زائرین کو واپس بھیجے گا جس سے بھارتی حکومت کے زائرین کے تئیں ناروا سلوک کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ایران اب وہاں سے پروازیں چلانے جا رہا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس حکومت کو اپنے شہریوں کی کوئی فکر نہیں ہے۔ یہ اتنا بڑا ملک ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس سب سے بڑی فوج ہے۔ یہ تو اپنے ہی لوگوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ہمارے زائرین کو واپسی کے لیے بھیک مانگنی پڑتی ہے۔‘

لداخ میں کرونا وائرس

لداخ، جموں وکشمیر کی نسبت کرونا وائرس سے زیادہ متاثر ہے۔ لداخ میں فی الوقت کرونا وائرس کے 13 مثبت کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ جموں وکشمیر میں اب تک صرف چار کیس درج ہوئے ہیں جن میں سے تین جموں خطے میں اور ایک کیس کشمیر میں درج ہوا ہے۔

چین کا ہمسایہ ہونے کے پیش نظر سمجھا جاتا تھا کہ لداخ میں اسی ملک سے یہ وائرس پھیل گیا ہے لیکن بعد ازاں معلوم ہوا کہ وائرس سے متاثرہ ملک ایران سے زائرین کی واپسی اس وائرس کے پھیلاؤ کا باعث بن گئی جنہیں قرنطینہ میں نہیں رکھا گیا تھا۔

لداخ جس کا سال میں بیشتر اوقات بیرون دنیا سے زمینی رابطہ منقطع ہی رہتا ہے، دو اضلاع  کرگل اور لیہہ پر مشتمل ہے۔ کرگل شیعہ مسلمان اکثریتی والا ضلع ہے جبکہ ضلع لیہہ میں بدھ مذہب سے وابستہ لوگوں کی اکثریت ہے۔

لداخ کے لوگوں کا الزام ہے کہ کرونا وائرس کے ٹیسٹ کرنے کے لیے یہاں کوئی سہولت موجود نہیں ہے اور نمونوں کو ٹیسٹ کرنے کے لیے بھارتی دارالحکومت دہلی بھیجا جاتا ہے۔

صحافی سجاد کرگلی لداخ میں کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے لیبارٹری نہ ہونے پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا نام لیے بغیر کہتے ہیں کہ ’56 انچ کی چھاتی والے کہتے ہیں کہ لداخیوں کے ساتھ سب نے امتیازی سلوک کیا تھا اور ہم نے ان کو یونین ٹیریٹری دی۔ کرونا وائرس کے پہلے مثبت کیسز لداخ میں ہی سامنے آئے لیکن آج کی تاریخ میں یہاں پر کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے کوئی لیبارٹری نہیں ہے۔ نمونے تشخیص کے لیے دہلی بھیجے جا رہے ہیں۔ کچھ نمونے راستے میں ہی گم ہوجاتے ہیں۔‘

لداخ انتظامیہ نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لیے دونوں اضلاع لیہہ اور کرگل کو لاک ڈاؤن کردیا ہے۔ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہے اور بازار گذشتہ چار روز سے بند پڑے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا