کرونا وائرس کے باعث 'ریاست' بھی ریاستی مدد کی منتظر

کرونا وائرس کی وجہ سے ووکیشنل سینٹر بند ہونے کے باعث ریاست بی بی جیسے ہزاروں افراد کا روزگار بھی بند ہو گیا ہے۔

پشاور میں ورسک روڈ سے تعلق رکھنے والی ریاست بی بی کے مطابق وہ دو سال کی تھیں جب انہیں یہ معذوری لاحق ہوئی۔ (تصاویر انیلا خالد)

غربت، بےروزگاری، لوڈ شیڈنگ، تنگ دستی، بیماری، جسمانی معذوری اور اوپر سے کرونا (کورونا) وائرس کی وبا۔ غرض کیا نہ تھا جس کا ریاست ذکر کر رہی تھیں۔

32 سالہ ریاست بی بی کے گھر میں کُل 25 افراد ہیں، لیکن کوئی کمانے والا نہیں ہے۔ ایک بھائی فوت ہوا، باقی چار بھائیوں میں سے دو کو دل کا عارضہ لاحق ہوا۔ دو کی نوکری چلی گئی۔ خود ریاست بھی معذور ہیں۔ 

ریاست کی دن بہ دن بڑھتی ہوئی پریشانیوں نے انہیں اپنا غم کھل کر بیان کرنے کی ہمت دی۔ وہ رنجیدہ اور غمگین تھیں لیکن انہیں اندازہ نہیں تھا کہ اس انٹرویو کے دوران ہی ان کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔ 

وہ دکھی آواز میں بتا رہی تھیں: ’میری مدد کریں میڈم۔ میں آپ کا یہ احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گی۔ میرے والدین نہیں ہیں۔ بھائیوں کا آسرا ہے۔ ان کا بھی کوئی روزگار نہیں رہا ہے۔‘

پشاور میں ورسک روڈ سے تعلق رکھنے والی ریاست بی بی کے مطابق وہ دو سال کی تھیں جب انہیں یہ معذوری لاحق ہوئی۔ وہ چل پھر نہیں سکتی ہیں۔

انہوں نے نہ صرف پانچویں جماعت تک پڑھا اور اس کے بعد سلائی کڑھائی میں بھی مہارت حاصل کی۔ 

’میرے والدین کہتے تھے کہ مجھے بچپن میں بخار ہوا تھا، ڈاکٹر نے کوئی ٹیکہ لگایا تھا، جس کے بعد میں چلنے پھرنے کے قابل نہیں رہی۔‘ سکول گھر سے دور ہونے کی وجہ سے میں پانچویں سے زیادہ نہ پڑھ پائی لیکن میں نے ووکیشنل سینٹر سے سلائی کڑھائی کا کام سیکھ لیا۔

’جو میں نے سیکھا وہ میں آگے دوسری خواتین کو بھی سکھانے لگی۔ اس کام سے میرا اور میری بیوہ بھابھی اور ان کے بچوں کا گزارہ جیسے تیسے ہو رہا تھا لیکن اب کرونا کی وجہ سے سینٹر بند ہو جانے سے میرا روزگار بھی نہیں رہا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ریاست خاموش ہوئیں تو میں نے پوچھا کہ یہ نام کس نے رکھا ہے؟ وہ ہنس کر بولیں: ’میری ایک پھوپھی کہتی ہیں کہ انہوں نے یہ نام رکھا تھا۔‘

اچھا۔ آپ کو پتہ ہے اس کا مطلب کیا ہے؟

اس بار ریاست زور سے ہنسیں اور بولیں: ’حکومت۔‘ ’لیکن کیا فائدہ میڈم۔ کسی کام کی نہیں ہوں۔ نام کا مطلب اتنا بڑا ہے اور پاس کچھ بھی نہیں۔‘

آپ کو کس طرح کی مدد چاہیے؟ 

’ہمارے مالی حالات بہت خراب ہیں۔ ایک بھائی کے دل کا آپریشن ہوا ہے۔ دوسرے کو سٹنٹ لگ گئے ہیں۔ دو بھائی مکینک کی دکان پر قلیل تنخواہ میں کام کرتے تھے لیکن موجودہ حالات کی وجہ سے ان کا روزگار بھی خراب ہو گیا ہے۔ مجھے ملازمت کی ضرورت ہے۔‘

ریاست بی بی کی طرح اپنی معذوری کو شکست دے کر آگے بڑھنے والے افراد کی فہرست طویل ہے۔

پشاور حیات آباد میں معذور افراد کی بحالی سینٹر کے چیف ایگزیکیٹو سید محمد الیاس نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کے پاس دس ہزار معذور گریجویٹس کا ریکارڈ ہے، جن میں سے تقریباً پانچ ہزار معذور افراد خود محنت مزدوری کرکے کماتے ہیں اور ان کا تعلق خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے ہے۔

سید محمد الیاس کے مطابق: ’عالمی ادارہ صحت کے مطابق معذور افراد ہر معاشرے کا دس فیصد ہوتے ہیں۔ اب آپ کسی بھی شہر یا ملک کی آبادی میں سے دس فیصد کا حساب کر لیں، اس کا جو بھی جواب آئے، معذور لوگوں کی تعداد اتنی ہوگی۔‘

انہوں نے بتایا کہ ان کے سینٹر میں مختلف قسم کی معذوری رکھنے والے افراد آتے ہیں، جن پر حکومت کروڑوں خرچ کرکے نہ صرف ان کا علاج کرتی ہے بلکہ ان کی جسمانی صلاحیت کے مطابق انہیں مختلف ہنر سکھا کر خود کمانے کے قابل بناتی ہے۔ 

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اب کرونا وائرس کی وجہ سے ان کا ووکیشنل سینٹر بند ہونے کے باعث ریاست بی بی جیسے ہزاروں افراد کا روزگار بھی بند ہو گیا ہے اور دیگر کے لیے سیکھنے کا عمل بھی رک گیا ہے۔

ریاست بی بی کا مسئلہ جب ہم نے مختلف مکتبہ فکر کی خواتین کے سامنے رکھا تو ان میں رباب نامی نوجوان خاتون نے آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ بحیثیت ایک ذمہ دار شہری کے وہ ان کی مدد کریں گی۔ 

انہوں نے کہا کہ وہ بعض ایسے کاروباری شخصیات اور سماجی کارکنوں کو جانتی ہیں جن کے ذریعے وہ ریاست بی بی کی سلائی کڑھائی کا کام مغربی ممالک کو بھیجا کریں گے۔

’میں پشاور سے دور ہوں لیکن اگر ان کا کام بہت بہترین ہوا، تو بہت اچھے داموں ملک سے باہر بھیجنے میں، میں ان کی مدد کروں گی۔ اگر کام میں ابھی اتنی نفاست نہیں ہے تو ملک کے اندر بہت اچھی قیمت میں ان سے لے کر فروخت کریں گے۔ ‘

رباب نے غریب طبقے کے لیے متعارف کردہ احساس پروگرام پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ ایک بہت اچھا قدم ہے لیکن اس سے بہت سارے مستحق افراد محروم رہ جائیں گے۔

رباب نے ایک گھنٹے کے اندر پشاور میں اپنے جاننے والوں کو متحرک کیا، جنہوں نے ریاست بی بی سے نہ صرف رابطہ کیا بلکہ ان کی پوری فیملی کے لیے فی الفور راشن پہنچانے کا وعدہ بھی کیا۔ کیونکہ موجودہ وقت میں راشن پہنچانا ہی سب سے بڑا ریلیف اور وقت کی ضرورت ہے۔

ریاست بی بی پہلے جتنی غمگین تھیں، اس کے بعد وہ اتنی ہی خوش نظر آئیں اور یہ فرق ان کی آواز سے نمایاں تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین