کرونا وائرس: ایک ہولناک مبینہ عالمگیر سازش؟

اصل کہانی شروع ہوتی ہے ایک ویڈیو گیم سے اور 2015 میں کی گئی ایک تقریر سے۔۔۔

(پکسابے)

کیا خدانخواستہ آپ کے جاننے والوں میں سے اب تک کسی کو یہ بیماری ہوئی ہے؟ کبھی آپ نے سنا ہو کہ آپ کے رشتے داروں میں سے کوئی چچازاد، پھوپھی زاد، خالہ زاد، تایا زاد کورونا کا شکار ہوئے ہوں؟

اب بھی الحمدللہ کتنے گھروں سے بزرگ جو ہیں وہ پانچ وقت نماز پڑھنے مسجد جاتے ہیں، کتنی بار آپ خود کم از کم جمعہ پڑھنے تو گئے ہوں گے؟ آپ کو ہوا کبھی کورونا؟ روز بازار میں آپ کے چکر لگتے ہیں، نہیں جاتے تو گھر سودا پہنچانے ہر بار الگ بندہ آتا ہے، اسے پیسے دینے ہوتے ہیں، اس سے پیسے واپس لینے ہوتے ہیں، سو طرح کے اور دھندے ہیں، کبھی آپ کو نزلہ بھی ہوا ہو؟
چند سازشوں سے بات شروع کرتے ہیں۔ چین الزام لگاتا ہے کہ امریکی ملٹری ایتھلیٹس ووہان آئے اور ان کے جاتے ہی یہ پراسرار وبا وہاں پھیل گئی۔ روس کہتا ہے کہ ہانگ کانگ کے مظاہروں سے نمٹنے کے لیے چین اور ساؤتھ کوریا نے یہ بائیولوجیکل ہتھیار استعمال کیا۔ نو مارچ کو سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد اقوام متحدہ کو خط لکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ لیبارٹری میں تیار شدہ ہتھیار ہے اور اسے دنیا کے چند بڑے ملک باقی سب پہ اپنا قابو پانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان سے پہلے ایرانی رہنما امریکہ پہ الزام لگا چکے ہیں کہ قم سے کورونا پھیلنے کے معاملے کو جان بوجھ کر ہائی لائٹ کیا گیا تاکہ اس کا تقدس قائم نہ رہ سکے اور آخر یہ سب کچھ کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد کیوں ہو رہا ہے۔

کچھ ممالک کہتے ہیں کہ سوائن فلو، سارس اور کورونا اسی لیے لائے گئے تاکہ ان کی ویکسین دھڑادھڑ بک سکے۔ اسرائیل میں ویکسین کی تیاری آخری مراحل کی جانب ہے۔ ایرانی رہنماؤں کے مطابق اس کے حلال ہونے پہ بھی سوال ہے اور ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ اس ویکسین میں ایسی مائیکرو چپ ہو گی جو ہر بندے کے جسم میں انسٹال ہونے کے بعد بل گیٹس پوری دنیا کا ڈیٹا اپنے قابو میں کر لے گا۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں چین نے یہ وائرس کینیڈا کی ایک وائرالوجی لیبارٹری سے چرایا ہے، 2019 میں ہی اس کے بارے میں کافی لے دے ہو چکی ہے۔ انگریزوں اور بل گیٹس کی جانب سے دنیا کی آبادی کنٹرول میں لانے کا ایک طریقہ بھی اسے کہا گیا۔

اصل کہانی شروع ہوتی ہے ایک ویڈیو گیم سے اور 2015 میں کی گئی ایک تقریر سے۔ آپ لوگوں نے کبھی ریزیڈنٹ ایول کھیلی ہے؟ کوئی بات نہیں، ننانوے فیصد نے ہو سکتا ہے نہ کھیلی ہو۔ 1993 میں جاپان کے ایک ادارے کیپکام کا مالک اپنے ملازموں کو حکم دیتا ہے کہ ایک ویڈیو گیم تیار کرنی ہے جس کا نام بائیو ہیزرڈ ہو گا۔ اس ویڈیو گیم میں ایک دوا ساز ادارہ ہوتا ہے جو 1968 میں برطانیہ کے ایڈورڈ ایشفورڈ اور آسویل سپینسر نے بنایا ہوتا ہے۔ یہ ایک لمیٹڈ کمپنی ہوتی ہے جو میک اپ کا سامان، صابن اور مختلف چیزیں بناتی ہے لیکن انڈرگراؤنڈ اس کا سارا دھندہ جینیٹک انجنئیرنگ پہ چلتا ہے۔ یہ خفیہ طور پر ایسے ہتھیار بناتے ہیں جنہیں آپ بائیو آرگینک کہہ سکتے ہیں۔ یعنی ان کا سارا کام جراثیم کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ہوتا ہے۔ ان کی سب سے بڑی لیبارٹری راکوون میں ہوتی ہے۔ یہ اچانک ایک دن دنیا کا سب سے خطرناک جراثیم تیار کرنے میں کامیابی حاصل کر لیتے ہیں۔ وہ جرثومہ زندہ انسانوں سمیت ان لوگوں پہ بھی اثرانداز ہو سکتا ہے جو تین چار گھنٹے پہلے مرے ہوں۔ اس کا نام ٹی۔ وائرس ہوتا ہے۔
وائرس ایک دن حادثاتی طور پہ لیک ہو جاتا ہے اور وہیں راکوون لیبارٹری میں کام کرنے والوں سے ہوتا ہوا دنیا بھر میں پھیل جاتا ہے۔ یہ وائرس انسانوں کو خوفناک بلا زومبی میں تبدیل کر دیتا ہے۔ امریکہ اس لیبارٹری کے تمام اثاثے بین الاقوامی طور پہ منجمد کر دیتا ہے، بعد میں وہ شہر بھی تباہ کر دیا جاتا ہے لیکن اب کام پورا ہو چکا ہے۔ ٹی وائرس پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔ پھر دکھاتے ہیں کہ اسی لیبارٹری کے سائنسدانوں میں سے ایک ٹی وائرس کی ویکسین ایجاد کرتا ہے جس کے بعد اس کا اثر ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن اس ویڈیو گیم کو بائیو ہیزرڈ کا نام نہیں الاٹ ہوتا۔ کیا پس پردہ ایلومیناٹی تھی؟ وہ گیم آخر ریزیڈینٹ ایول کہلاتی ہے۔
ویڈیو گیم میں آپ پھر ان زومبی لوگوں کو مارتے ہیں، ان سے خود کو بچاتے ہیں اور بس اس طرح سارا معاملہ آگے بڑھتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ وائرس اتنا خطرناک ہوتا ہے کہ کسی کے قریب جانے سے بھی لگ جاتا ہے اور گیم میں آپ کا ایک چانس مر جاتا ہے۔ یہ وائرس جس لیبارٹری میں بنا تھا اس کا نام تھا امبریلا کارپوریشن۔ امبریلا لیبارٹری کا سلوگن تھا 'ہمارا کاروبار زندگی ہے۔' ان کا ایک مخصوص نشان بھی تھا۔ چار تکونیں سرخ تھیں اور چار گرے سے رنگ کی سفید۔ آٹھ تکونیں آپس میں مل کر ایک پھول بنا دیتی تھیں۔ یہاں بھولیے مت کہ صیہونیوں کے نشان سٹار آف ڈیوڈ میں بھی آٹھ تکونیں ہوتی ہیں۔


جو گیم آپ بھگت رہے ہیں وہ اب شروع ہوتی ہے۔ چین میں جس لیبارٹری پہ کورونا پھیلانے کا شک ہے اس کا بھی عین ایسا ہی نشان ہے۔ جی ہاں، صرف اس کی چار تکونیں سرخ کی جگہ سفید ہیں۔ آر ایل ایس ڈبلیو لیبارٹری کا نشان وہی امبریلا کارپوریشن جیسا آخر کیوں ہے؟ کیوں کورونا وائرس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ آپ کے جسم میں داخل ہوتے ساتھ آپ کے مدافعتی نظام میں ٹی سیلز پہ حملہ آور ہوتا ہے؟ یاد آیا ٹی وائرس؟ کیوں راکوون کے ایک دو حرف آگے پیچھے کریں تو کورونا بن جاتا ہے؟ انگریزی میں بھی Racoon کے لفظ آگے پیچھے کریں تو Corona بن جاتا ہے۔ یہ کوئی خفیہ جنگی ہتھیار ہے یا اتفاقیہ بنایا گیا جراثیم ہے یا قدرتی طور پہ شروع سے پایا جاتا تھا، فیصلہ آپ خود کریں۔ لیکن پہلے سے تھا تو کبھی کسی جانور کو آج تک کورونا کیوں نہیں ہوا؟


سب سے اہم بات جو آپ سے چھپائی گئی ہے، جو میڈیا آپ کے سامنے نہیں لاتا وہ 2015 میں کی گئی بل گیٹس کی ایک تقریر ہے۔ بل گیٹس نے اس تقریر میں دنیا کو وارننگ دی تھی کہ ایک ایسا ہلاکت خیز وائرس آنے والا ہے جو کسی جنگ سے بھی زیادہ دنیا بھر میں تباہی مچائے گا۔ اب کیا یہ تقریر بھی محض اتفاق تھی؟ کریں سرچ گوگل پر، لکھا ہوا ہے، مل جائے گا، اور یہ بھی ڈھونڈ لیں کہ خود بل گیٹس ویکسین بنانے والوں کو کتنے ارب ڈالر دیتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک انسان جو ونڈوز 95 بنانے کے بعد کمپیوٹر وائرسوں سے کھیلتا کھیلتا اصلی وائرس کی دنیا میں آ گیا وہ 2015 کی اس ٹیڈ ٹاک میں آخر کیسے بالکل کرونا وائرس جیسی تصویر اپنی تقریر کے عین شروع میں دکھا رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ دنیا کو ایک ایسی وبا کا سامنا ہو سکتا ہے جس میں ہلاکتیں بہت ہی زیادہ ہوں؟ وہ آٹھ منٹ کی تقریر کورونا وائرس میں پھنسی آج کی دنیا کا ایک ٹریلر ہے۔ آپ یو ٹیوب پہ دیکھیں کہ اس کی پبلشنگ ڈیٹ 2015 ہے اور وہ جو بھی بات کر رہا ہے اس میں سے کوئی ایک ایسی نہیں جو آج ریلیونٹ نہ ہو۔ آخر میں وہ پھر وارننگ دیتا ہے کہ دنیا ہرگز اس کے لیے تیار نہیں ہے۔ یہ سب کیا ہے؟ اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد بل گیٹس آپ کو موت کا فرشتہ لگنے لگ جاتا ہے۔
یہ سارے حسین اتفاق ایک کے بعد ایک کیوں ہو رہے ہیں؟ ویڈیو گیم میں ساری چیزیں ٹھیک ٹھیک دکھانا، بل گیٹس کی تقریر ہونا اور پھر دنیا بھر میں کورونا وائرس کا پھیل جانا اور میڈیا کا بڑھ چڑھ کے اس کا خوف پیدا کرنا؟

اسرائیل میں آج تک کتنی اموات ہوئیں، ٹوٹل دو سو؟ وہاں آج سے مارکیٹیں بھی کھل گئیں، کیسے؟ کیا وہاں بھی کورونا کی یہی دہشت ہے؟ امریکہ کیوں پورے ملک میں اندھا دھند لاک ڈاؤن نہیں کر رہا؟ ٹرمپ ہر روز چین، ایران اور عالمی ادارہ صحت پہ چڑھائی کیوں کر دیتا ہے؟ وہ اسرائیل پہ اس کا الزام کیوں نہیں لگاتا؟ کیا اسرائیل میں عبادت خانے بند ہوئے؟ وہاں ویکسین اتنی جلدی کیسے تیار ہو رہی ہے؟ کیا صیہونیوں نے ہماری طرح گھروں میں بیٹھ کر سب عبادتیں شروع کر دیں؟ دوسری طرف ایران نے ساری کرونا ایمرجنسی اور ہلاکتوں کے باوجود اپنا پہلا سیٹیلائٹ خلا میں بھیج دیا پرسوں، اگر اتنی اموات ہو رہی ہیں تو ایسی ایمرجنسی اور دہشت کے دنوں میں عوامی پیسہ خرچ کر کے سیٹیلائٹ کی تیاری، بجٹ وہ سب کہاں سے آیا؟
یہ جاننا اور اصل حقائق جاننا اب آپ کا اصل کام ہے۔
اور اگر یہ سب اتفاقات ہیں تو حقیقت کیا ہے؟

نوٹ: یہ ایک طنزیہ کالم ہے۔ اس کی بنیاد وہ سازشی تھیوریز ہیں جو مغرب میں اس وقت پھیلی ہوئی ہیں۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ