کیا 2020 کے عالمی بحران میں سعودی عرب واحد فاتح ہے؟

اگرچہ 2020 کو تیل پیدا کرنے والے ممالک کے لیے 'قاتل سال' کے طور پر یاد کیا جائے گا تاہم اس صورت حال میں کم سے کم ایک ایسا ملک ہے جو معاشی اور جغرافیائی سیاست کے لحاظ سے کامیابی سے اس بحران سے نکل آئے گا، وہ ملک ہے سعودی عرب۔

(اے ایف پی)

کرونا (کورونا) وبا کی وجہ سے دنیا بھر میں تقریباً چار ارب افراد کے لاک ڈاؤن میں چلے جانے کے بعد پٹرول، جیٹ ایندھن اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی مانگ میں کمی کی وجہ سے تیل کی قیمتیں زمین بوس ہو گئیں۔

قیمتوں میں گراوٹ اس قدر بھیانک تھی کہ انسانی تاریخ میں پہلی بار فروخت کنندگان کو خریداروں کو تیل کے ساتھ ساتھ رقم بھی ادا کرنا پڑی، مطلب تیل کی قیمتیں منفی حد تک گر گئی تھیں۔ اس کے نتیجے میں تیل پر انحصار کرنے والی معیشتیں زوال کا شکار ہیں۔

معروف جریدے 'فارن پالیسی' کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والے ملک امریکہ میں صرف دو ماہ کے دوران تیل کے کنوؤں کی کھدائی میں 50 فیصد تک کمی واقع ہوچکی ہے۔ اسی طرح تقریباً 40 فیصد تیل اور گیس کی فروخت متاثر ہونے سے اس صنعت میں کام کرنے والے دو لاکھ 20 ہزار ملازم اپنی ملازمتوں سے محروم ہو جائیں گے۔

دنیا بھر میں نائجیریا سے عراق اور قازقستان سے وینزویلا تک تیل پیدا کرنے والے ممالک اس صورت حال میں اپنی بقا کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور ان کی کرنسیاں تاش کے پتوں کی طرح ڈھیر ہو رہی ہیں۔

اگرچہ 2020 کو تیل پیدا کرنے والے ممالک کے لیے 'قاتل سال' کے طور پر یاد کیا جائے گا، تاہم اس صورت حال میں کم سے کم ایک ایسا ملک ہے جو معاشی اور جغرافیائی سیاست کے لحاظ سے کامیابی سے اس بحران سے نکل آئے گا، اور وہ ملک ہے سعودی عرب۔

سب سے پہلے سعودی عرب یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس کی معیشت اس طرح کے طوفان کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ درحقیقت تیل کی کم قیمتیں اس ملک کے لیے بھی اتنی ہی تکلیف دہ ہیں جتنا باقی تیل پیدا کرنے والے ممالک کے لیے۔

ریاض کو اپنے عوامی بجٹ کو متوازن بنانے کے لیے تیل کی قیمت کو تقریباً 80 ڈالرز فی بیرل تک لے جانے کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مالیاتی ادارے موڈی نے گذشتہ جمعے سعودی عرب کی مالی رینکنگ کم کردی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سعودی عرب کو 2020 کی پہلی سہ ماہی میں نو ارب ڈالرز کے خسارے کا سامنا ہے۔ دوسری قوموں کی طرح سعودی عرب میں بھی ٹیکس کی آمدنی میں کمی دیکھی گئی ہے کیونکہ اس نے بھی باقی دنیا کی طرح کرونا وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے معاشی پابندیاں عائد کی ہیں۔

گذشتہ ہفتے سعودی وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ سرکاری اخراجات کو انتہائی کم کرنے کی ضرورت ہوگی اور ولی عہد کے ویژن 2030 کے اقتصادی منصوبوں کے کچھ حصے تاخیر کا شکار ہو جائیں گے۔

اس سب کے باوجود زیادہ تر تیل پیدا کرنے والے دوسرے ممالک کے برعکس سعودی عرب نے نہ صرف اپنے مالی ذخائر کو استعمال کیا ہے بلکہ قرض لینے کا ارادہ بھی ظاہر کیا ہے۔

22 اپریل کو سعودی وزیر خزانہ نے اعلان کیا تھا کہ 2020 میں سلطنت 58 ارب ڈالرز کا قرض لے سکتی ہے۔ بیشتر دوسری معیشتوں کے مقابلے میں سعودی عرب کی قرض کی شرح اس کے جی ڈی پی کے تناسب سے کم ہے، 2019 کے آخر تک یہ شرح 24 فیصد تھی، حالانکہ اس کے بعد ان اعداد و شمار میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔

سلطنت کے وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب اپنے مالی ذخائر سے 32 ارب ڈالرز نکال لے گا۔ مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 474 ارب ڈالرز موجود ہیں جس نے اس کی کرنسی ریال کو گرنے سے بچا رکھا ہے۔

دوسرا یہ کہ عالمی اقتصادی بحران کے نتیجے میں پیداواری کٹوتیوں اور شٹ ڈاؤن کی وجہ سے سعودی عرب کے تیل کی کم آمدنی عالمی منڈیوں میں استحکام آنے کے بعد دوبارہ بڑھ جائے گی۔

آنے والے برسوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ سعودی عرب کے لیے بڑھتی ہوئی آمدنی کی بنیاد رکھتا ہے۔ اگرچہ مستقبل میں تیل کی طلب کے بارے میں تخمینہ انتہائی غیر یقینی ہے تاہم ایک بار جب دنیا اس بحران سے نکل آئی گی تو تیل کی فراہمی کے مقابلے میں طلب میں تیزی سے اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

کرونا وبا کے بعد سعودی عرب کے ساتھ ساتھ کچھ دیگر خلیجی ریاستوں اور روس کو نہ صرف قیمتوں سے زیادہ فائدہ ہوگا بلکہ در حقیقت مارکیٹ کے حصص میں اضافے اور مزید تیل فروخت کرنے کے مواقعے ملیں گے۔

اب ان حالات میں بھی جب قیمتوں میں شدید گراوٹ کا سامنا ہے، سعودی عرب اور کویت اپنے مشترکہ آئل فیلڈ سے مزید تیل مارکیٹ میں لانے پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

اس سے اقتصادی طور پر کمزور اوپیک ارکان کو سپلائی دوبارہ شروع کرنے اور اسے برقرار رکھنے میں سرمایہ کاری کرنا مشکل ہوسکتا ہے جس سے ان کی پیداوار میں اضافہ سست ہو جائے گا۔

 1998-1999 میں تیل کے بحران کے بعد ایران، عراق، نائجیریا اور وینزویلا میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔

اب آخر کار امریکہ کے ساتھ اتحاد سے کنارہ کر کے اور خود کو عالمی منڈی میں زیادہ پیداوار کے حامل ملک کی حیثیت بحال کر کے سعودی عرب نے اپنی جغرافیائی سیاسی پوزیشن کو مستحکم کیا ہے۔

تیل کی بھرمار سے دنیا کے ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں کمی اور اوپیک اور دیگر اہم پروڈیوسرز کی جانب سے پیداوار میں تاریخی کٹوتی سے صارفین نے سعودی عرب کا رخ کیا ہے۔

ٹیکساس میں تیل کے پیداواری کوٹے پر مذاکرات ہوں یا جی ٹوئنٹی فورم کے تحت ایک نیا عالمی 'آئل کارٹیل' بنانے کی خواہش، پالیسی سازوں کے پاس ریاض کو منانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب طویل عرصے سے واحد ملک رہا ہے جس کی اضافی پیداواری صلاحیت اسے مارکیٹ میں تیزی سے سپلائی بحال رکھنے یا منقطع کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

اس صلاحیت نے ایک بار پھر دنیا پر واضح کردیا ہے کہ سعودی عرب کو نہ صرف تیل کی عالمی منڈی میں طاقت حاصل ہے بلکہ یہ اسے اہم جغرافیائی سیاسی اثر و رسوخ بھی فراہم کرتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا