افغانستان نے بدھ کو الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان نے ان کے ملک کے اندر نئے فضائی حملے کیے ہیں جن میں کم از کم 13 افراد جان سے گئے اور دیگر 14 زخمی ہوئے۔
دونوں ممالک کے درمیان گذشتہ کئی مہینوں سے جھڑپیں جاری ہیں جن میں سینکڑوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک اور ایکس پر یہ دعویٰ کرتے ہوئے مبینہ طور پر ان حملوں میں مارے جانے والے چند بچوں کی تصاویر بھی پوسٹ کی ہیں اور لکھا ہے کہ ’گذشتہ رات پاکستانی فوج نے کنڑ، خوست اور پکتیکا صوبوں میں شہریوں کے مکانات پر بمباری کی۔‘
پاکستان کی جانب سے ان حملوں کی فوری طور پر کوئی تصدیق یا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو ذبیح اللہ مجاہد کے دعووں اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی تصاویر کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکتا۔
بی بی سی پشتو سے بات کرتے ہوئے خوست میں طالبان گورنر کے ترجمان نے بتایا کہ صوبے کے سپیرا ضلع کے ایک گاؤں میں نو افراد جان سے گئے جبکہ دس زخمی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ مرنے والوں میں بچے اور ایک خاتون بھی شامل ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوسری جانب افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں بھی تین افراد کی موت کی اطلاع ہے۔ ایک رہائشی نے بتایا کہ فضائی حملہ صبح ایک بجے کے قریب ہوا۔
یہ حملے اس واقعے کے ایک دن بعد کیے گئے جب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے شدت پسندوں نے خیبر پختونخوا کے شمال مغربی علاقے حسن خیل میں ایک سکیورٹی چوکی پر حملہ کیا، جس کے بعد شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
پاکستان کی وزارت داخلہ کے مطابق اس جھڑپ میں فیڈرل کانسٹیبلری کے چھ اہلکار جان سے گئے اور کئی زخمی ہوئے۔
مقامی حکام نے منگل کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں میں سے آٹھ کو مار ڈالا اور چوکی پر قبضے کی کوشش ناکام بنا دی۔ وزارت داخلہ کے ایک بیان کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے بعد میں پشاور میں جان سے جانے والے اہلکاروں کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔
بیان کے مطابق محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان ’دہشت گردی‘ کے خلاف اپنی جنگ میں متحد ہے اور امن و سکیورٹی کو خطرہ بننے والے گروہوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔
افغان امور کے ماہر اور سینئر صحافی طاہر خان نے ایکس پر لکھا کہ ’افغانستان پر تازہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب چین ارمچی امن عمل کے تحت مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کی کوششیں کر رہا ہے اور منگل کو ہی پاکستان اور افغانستان کے حکام استنبول میں ملاقات کر چکے ہیں۔‘
پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپیں رواں برس فروری کے آخر سے جاری ہیں، جب افغانستان نے پاکستان کے اندر فضائی حملوں کے جواب میں سرحد پار کارروائی کی تھی۔
اسلام آباد افغانستان میں طالبان حکومت پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ پاکستان کے اندر حملے کرنے والے عسکریت پسندوں کو اپنی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے۔ تاہم طالبان حکومت نے بارہا اس کی تردید کی ہے اور اصرار کیا ہے کہ وہ کسی کو بھی کسی دوسرے ملک کو نقصان پہنچانے کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔
فروری میں پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ ملک میں شہریوں اور سکیورٹی فورسز پر عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافے کے بعد وہ افغانستان کے ساتھ ’کھلی جنگ‘ کی حالت میں ہے۔
افغانستان کا کہنا ہے کہ مارچ میں پاکستانی فضائی حملے کابل میں ایک منشیات کے علاج کے مرکز پر ہوئے، جس میں 400 سے زیادہ افراد جان سے گئے، تاہم اموات کی اس تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
پاکستان نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ ایک اسلحہ گودام کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
دونوں ممالک کے درمیان ان جھڑپوں اور تشدد کے باعث زمینی راستے کئی ماہ سے بند ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت بند ہو کر رہ گئی ہے۔