’ افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا: پاکستان

عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے، تاہم ہمارے شہریوں کی حفاظت اور سکیورٹی ہماری اولین ترجیح ہے۔ 

افغانستان میں قندھار کے ضلع تختہ پل میں 28 فروری 2026 کو پاکستانی فضائی حملے میں تباہ ہونے والی گاڑی کے قریب سے ایک افغان شخص گزر رہا ہے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بدھ کو کہا ہے کہ ملک میں حالیہ ’دہشت گرد‘ حملوں کے بعد افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو ’درستگی‘ کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔

عطا اللہ تارڑ نے ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں کہا کہ ملک میں 9 جون 2026 کو موسیٰ درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری پوسٹ، 2 جون 2026 کو شمالی وزیرستان میں ملٹری پوسٹ پر گاڑی کے ذریعے خودکش حملہ اور 9 مئی 2026 کو بنوں میں پولیس سٹیشن پر حملوں کے بعد پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں ’فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف نہایت درست اور محتاط کارروائیاں کیں، جن میں 26 انڈین سرپرستی یافتہ خوارج مارے گئے۔‘

انہوں نے کہا کہ معتبر خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ان کے کیمپس اور ٹھکانوں کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔ ’چار اہداف مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے جن میں ایک تربیتی مرکز، ایک خفیہ ٹھکانہ، اسلحے کا ذخیرہ اور ’فتنہ الخوارج‘ کے کمانڈر علیم خان خوشحالی اور کمانڈر اختر محمد جانی خیل کے مراکز شامل تھے۔‘

افغانستان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کر کے افغانستان میں بمباری پر شدید اور سخت احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔

اس سے قبل افغانستان نے بدھ کو الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان نے ان کے ملک کے اندر نئے فضائی حملے کیے جن میں کم از کم 13 افراد جان سے گئے اور دیگر 14 زخمی ہوئے۔

افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک اور ایکس پر یہ دعویٰ کرتے ہوئے مبینہ طور پر ان حملوں میں مارے جانے والے چند بچوں کی تصاویر بھی پوسٹ کیں اور لکھا کہ ’گذشتہ رات پاکستانی فوج نے کنڑ، خوست اور پکتیکا صوبوں میں شہریوں کے مکانات پر بمباری کی۔‘

دونوں ممالک کے درمیان گذشتہ کئی مہینوں سے جھڑپیں جاری ہیں جن میں سینکڑوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے، تاہم ہمارے شہریوں کی حفاظت اور سکیورٹی ہماری اولین ترجیح ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ’دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی کارروائیاں پوری شدت سے جاری رکھیں گے تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی یافتہ دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔‘

بی بی سی پشتو سے بات کرتے ہوئے خوست میں طالبان گورنر کے ترجمان نے بتایا کہ صوبے کے سپیرا ضلع کے ایک گاؤں میں نو افراد جان سے گئے جبکہ دس زخمی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ مرنے والوں میں بچے اور ایک خاتون بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں بھی تین افراد کی موت کی اطلاع ہے۔ ایک رہائشی نے بتایا کہ فضائی حملہ صبح ایک بجے کے قریب ہوا۔

یہ حملے اس واقعے کے ایک دن بعد کیے گئے جب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے شدت پسندوں نے خیبر پختونخوا کے شمال مغربی علاقے حسن خیل میں ایک سکیورٹی چوکی پر حملہ کیا، جس کے بعد شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

پاکستان کی وزارت داخلہ کے مطابق اس جھڑپ میں فیڈرل کانسٹیبلری کے چھ اہلکار جان سے گئے اور کئی زخمی ہوئے۔

مقامی حکام نے منگل کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں میں سے آٹھ کو مار ڈالا اور چوکی پر قبضے کی کوشش ناکام بنا دی۔ وزارت داخلہ کے ایک بیان کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے بعد میں پشاور میں جان سے جانے والے اہلکاروں کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔

بیان کے مطابق محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان ’دہشت گردی‘ کے خلاف اپنی جنگ میں متحد ہے اور امن و سکیورٹی کو خطرہ بننے والے گروہوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔

افغان امور کے ماہر اور سینئر صحافی طاہر خان نے ایکس پر لکھا کہ ’افغانستان پر تازہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب چین ارمچی امن عمل کے تحت مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کی کوششیں کر رہا ہے اور منگل کو ہی پاکستان اور افغانستان کے حکام استنبول میں ملاقات کر چکے ہیں۔‘

پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپیں رواں برس فروری کے آخر سے جاری ہیں، جب افغانستان نے پاکستان کے اندر فضائی حملوں کے جواب میں سرحد پار کارروائی کی تھی۔

اسلام آباد افغانستان میں طالبان حکومت پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ پاکستان کے اندر حملے کرنے والے عسکریت پسندوں کو اپنی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے۔ تاہم طالبان حکومت نے بارہا اس کی تردید کی ہے اور اصرار کیا ہے کہ وہ کسی کو بھی کسی دوسرے ملک کو نقصان پہنچانے کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

فروری میں پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ ملک میں شہریوں اور سکیورٹی فورسز پر عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافے کے بعد وہ افغانستان کے ساتھ ’کھلی جنگ‘ کی حالت میں ہے۔

افغانستان کا کہنا ہے کہ مارچ میں پاکستانی فضائی حملے کابل میں ایک منشیات کے علاج کے مرکز پر ہوئے، جس میں 400 سے زیادہ افراد جان سے گئے، تاہم اموات کی اس تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

پاکستان نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ ایک اسلحہ گودام کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

دونوں ممالک کے درمیان ان جھڑپوں اور تشدد کے باعث زمینی راستے کئی ماہ سے بند ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت بند ہو کر رہ گئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا