اب آئے گا میانداد؟

میانداد کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ وقت کے پلوں تلے بہت سا پانی بہہ گیا ہے۔ جس نسل کے وہ ہیرو تھے وہ نسل اب بڑھاپے کی دہلیز پر دستک دے رہی ہے۔

آئی ایم ایف کے قرض کا حجم زیادہ ہے یا میانداد کے خلوص کا؟ (اے ایف پی)

اپنے نام سے بینک اکاؤنٹ کھول کر جاوید میانداد صاحب اوورسیز پاکستانیوں سے عطیات جمع کریں گے اور آئی ایم ایف کا قرض اتاریں گے۔ جمالِ خوش ادا کی یہ روبکار پڑھی تو منیر نیازی یاد آ گئے:

خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لیے
ان میں جا کر مگر رہا نہ کرو

میانداد پر تنقید کرنا آسان نہیں۔ وہ ہم جیسوں کی اٹھتی جوانیوں کی ایک حسین یاد ہیں۔ بلا لہراتے جب وہ کریز کی طرف بڑھتے تو پلکوں میں اک شہر آرزو آباد ہو جاتا تھا، ان کی بلے بازی جھیلوں پر بولتی کوئلوں جیسی تھی۔ اک باغ سا وہ اپنے ساتھ مہکائے ہوئے رکھتے تھے۔ گاہے وٹس ایپ پر ان کا میسج آتا ہے تو اس میں پہلی محبت جیسی خوشبو آتی ہے۔ جاوید میانداد کے خلوص نیت اور دردِ دل سے انکار نہیں سوال مگر یہ ہے کہ محبتوں کے اسیر ہم لوگ 92 کے ورلڈ کپ کا اور کتنا تاوان ادا کریں گے؟اب تو وجود میں بیراگ کی بانسری کُوکنے لگی ہے۔ انشاء اللہ خان انشا نے کہا تھا:

ایک دو تین چار پانچ چھ سات
آٹھ نو دس ہوئے، بس انشا بس

خلوص پر شک نہیں، یہ دولت ہم پاکستانیوں کو وافر ملی ہے۔ گاہے گماں گزرتا ہے کہ عقل کی جگہ بھی ہمیں خلوص ہی عطا کیا گیا ہے۔ محض اس زاد راہ کے ساتھ مگر منزل نہیں، دھول ملتی ہے۔ بطور قوم ہماری نامرادی کے ہر پڑاؤ پر سادہ لوحی اور خلوص کے کتبے گڑے ہیں، کہیں فہم و تدبر کا کوئی سنگ میل بھی ہوتا تو کہانی کچھ اور ہوتی۔

میانداد میدان عمل میں ہیں۔ کوئی ہسپتال یا ڈیم بنانے نکلتے تو کوئی بات ہوتی۔ وہ تو خلوص کے بہتے دھارے پر افق کو افق سے ملانے نکلے ہیں۔ وہ آئی ایم ایف کا قرض اتارنا چاہتے ہیں۔ میرے جیسا طالب علم حیران ہے کہ آئی ایم ایف کے قرض کا حجم زیادہ ہے یا میانداد کے خلوص کا۔ سمجھ میں نہیں آ رہی یہ اخلاص کی قوس قزح ہے یا رنگوں کی وحشتیں ہیں۔

ایسا غیر معمولی کام کرنا ہو تو اس کا ہوم ورک بھی غیر معمولی نہ سہی مناسب تو ہونا ہی چاہیے۔ جاوید میانداد کی معاملہ فہمی کا یہ عالم ہے کہ وہ آئی ایم ایف کا قرض اتارنے کے لیے اپنے نام سے ذاتی اکاؤنٹ کھلوانے کی بات کر رہے ہیں۔ گویا وہ عطیات اکٹھے کرنے کی قانونی پیچیدگیوں سے بالکل آگاہ نہیں اور انہوں نے اس معاملے کے قانونی پہلو پر کسی ماہر قانون سے کوئی مشاورت کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا۔ بس ان کے ذہن میں ایک خیال آیا اور وہ قوم سے مخاطب ہو گئے۔ یہ عجلت افتاد طبع کی خبر دے رہی ہے اور یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ ہر آدمی اپنی افتاد طبع کا اسیر ہوتا ہے۔ اتنے بڑے پراجیکٹ کا ابتدائیہ اگر اتنی سادہ لوحی اور عجلت میں ترتیب دیا گیا ہے تو جان لیجیے یہ پورا تصور مقامات آہ و فغاں کے سوا کچھ نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

قانونی نزاکتوں کی طرح جاوید میانداد سماج کی حرکیات سے بھی لاعلم ہیں۔ میانداد کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ وقت کے پلوں تلے بہت سا پانی بہہ گیا ہے۔ جس نسل کے وہ ہیرو تھے وہ نسل اب بڑھاپے کی دہلیز پر دستک دے رہی ہے۔ کھلاڑی جب عطیات مانگتا ہے تو اس کا رومان اسے عطیات دیتا ہے۔ رومان کی ایک اپنی عمر ہوتی ہے۔ میانداد کے مداح اب عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں رومان دم توڑ چکا ہوتا ہے۔

آئی ایم ایف کا قرض اتارنا تو دور کی بات، اب ان کی کال پر شاید اتنے پیسے بھی جمع نہ ہو سکیں کہ کراچی بلدیہ کے خاکروبوں کو دو دن کی تنخواہ ادا کی جا سکے۔ 92 کے ورلڈ کپ کا جو رومان تھا عمران خان آخری درجے میں اسے مخاطب بنا چکے۔ اس رومان کی اب شام ہے۔ عمران نے بعد میں الگ سے اپنی عصبیت قائم کی اور آج ان کی ذات سے جو رومان وابستہ ہے اس کا غالب حوالہ سیاسی ہے۔ میانداد کی ٹرین گزر چکی۔ وہ 28 سال تاخیر سے سٹیشن پہنچے ہیں۔

پاکستان کے معاشی حالات کی جو سادہ تفہیم میانداد پیش کر رہے ہیں، امر واقع یہ ہے کہ یہ بھی عمران خان پیش کر چکے۔ ان کا بھی گمان تھا وہ اوورسیز پاکستانیوں کو آواز دیں گے اور پاکستان معاشی دلدل سے باہر آ جائے گا۔ اقتدار سنبھالتے ہی معلوم ہوا یہ سادہ لوحی کے سوا کچھ نہ تھا۔ اب عالم یہ ہے کہ نواح وسعت میداں میں حیرانی ہی حیرانی ہے کہ یہ ہو کیا گیا۔ عطیات دینا تو دور کی بات، عمران خان کے معاشی رومان کے انجام کے بعد، یہ بھی مشکل ہو گا کہ میانداد صاحب کا یہ اقدام کسی سنجیدہ بحث کو جنم دے سکے۔ مجھے تو ڈر ہے خلوص کی یہ وارفتگی ان کا اپنا تاثر تباہ نہ کر دے۔

میانداد سمیت ہر فرد کو جان لینا چاہیے کہ عطیات کے نام پر اب مزید کسی مسیحائی کا اس ملک میں امکان کم ہی ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں نے بھی زبان حال سے بتا دیا ہے کہ انہیں سونے کا انڈہ دینے والی مرغی نہ سمجھا جائے۔ ملک کے اندر بھی اب عطیات ملیں گے تو اسی فرد یا ادارے کو ملیں گے جس کی فرد عمل اسے اس کا مستحق بنائے گی۔ 92 کا ورلڈ کپ ایسی متاع عزیز نہیں ہے کہ اس کی آرتی تارنے کے لیے عطیات دیے جائیں۔

معیشت میانداد کا موضوع ہی نہیں۔ وہ اس میدان کے کھلاڑی ہوتے تو انہیں معلوم ہوتا، چندوں سے قرض اترتے ہیں نہ معیشت اپنے قدموں پر کھڑی ہو سکتی ہے۔ میانداد کا میدان کرکٹ ہے۔ وہ اس میدان میں جوہر دکھائیں تو آج بھی قوم کے کام آ سکتے ہیں۔ زیادہ نہیں تو کوئی اکیڈمی بنا کر اپنے جیسا ایک کھلاڑی ہی دے جائیں۔ یہ بھی ممکن نہیں تو کرکٹ پر ہلکے پھلکے تبصرے کر دیا کریں، ہم اپنے رومان کی شام میں انہیں سن کر لطف لیا کریں گے کہ اپنے عہد کا لیجنڈ کیا کہہ رہا ہے۔

لالہ عطاء اللہ، اللہ کرے کہ بستر سے اٹھے۔ خیال یہی ہے کہ اب اس کے لبوں پر اسی کا پرانا گیت ہو گا: دل لگایا تھا دل لگی کے لیے، بن گیا روگ زندگی کے لیے۔ یا پھر ابن انشا کی غزل کہ سب مایا ہے۔ میانداد صاحب کو شاعری سے کم لگاؤ ہے ورنہ یہ تو سمجھ جاتے: ایک دو تین۔ ۔ ۔ ۔ ۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ