'تشویش ہے کہ حادثہ بین الاقوامی تجارتی راستے سے قریب ہوا'

امریکی سنٹرل کمان کے ترجمان کیپٹن بِل اربن نے ایران سے تعزیتی پیغام میں انسانی جانوں کےضیاع پر افسوس کا اظہار کیا تاہم ترجمان نے آبنائے ہُرمُز کے اتنے قریب اور کرونا کے دور میں ہونے والی ایرانی فوجی مشقوں پر تنقید بھی کی ہے۔

(اے ایف پی)

امریکی فوج نے بحری جہاز کے حادثے میں ایرانی بحریہ کے 19 اہلکاروں کی ہلاکت پرایران کے ساتھ افسوس کا اظہار کیا ہے۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی سنٹرل کمان کے ترجمان کیپٹن بِل اربن نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے  کہ امریکی فوج انسانی جانوں کےضیاع پر ایرانی عوام کے ساتھ پرخلوص تعزیت کا اظہار کرتی ہے۔ تاہم ترجمان نے آبنائے ہُرمُز کے اتنے قریب ایرانی فوجی مشقوں پر تنقید بھی کی ہے۔

ترجمان نے اپنے بیان میں کہا: 'ہمیں اس بات پر تشویش ہے کہ یہ حادثہ ایسے بین الاقوامی تجارتی راستے کے اتنے قریب ہوا جہاں بحری جہازوں کی آمدورفت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ حادثہ ایسے وقت ہوا جب زیادہ تر علاقے کی توجہ کرونا (کورونا) وائرس کے خلاف لڑائی پر مرکوز ہے۔ بہرحال انسانی جانوں کا ضیاع افسوس ناک ہے۔'

یاد رہے 10 مئی کو ایک ایرانی جنگی جہاز ’کونارک‘ کو بحری مشقوں کے دوران ’غلطی‘ سے لگنے والے میزائل کے نتیجے میں 19 ایرانی نیوی اہلکار ہلاک جبکہ 15 زخمی ہو گئے تھے۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان خلیجی پانیوں میں کشیدگی جاری ہے۔

ایرانی ریاستی میڈیا اور فوج کے مطابق حادثہ اتوار کی دوپہر بندر جسک کے قریب پیش آیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایرانی ٹی وی چینل نے بتایا کہ حادثہ اُس وقت پیش آیا جب 'کونارک' مشقوں کے دوران ایک ہدف کو اس کے مقام پر پہنچا کر واپس جا رہا تھا کہ ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے داغا جانے والا میزائل اسے آن لگا۔

ایرانی مسلح افواج نے ایک بیان میں تفصیلات میں جائے بغیر صرف اتنا بتایا کہ کونارک جہاز مشقوں کے دوران ایک حادثے کا شکار ہوا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ جہاز کو 'تکنیکی تحقیقات' کے لیے ساحل پر لایا جا رہا ہے اور مزید تفصیلات جاری ہونے تک لوگ 'قیاس آرئیوں' سے گریز کریں۔

خبر رساں ایجنسی تسنیم نے اپنی انگریزی ٹویٹ میں کہا 'کونارک کو ایک اور ایرانی جہاز سے داغا جانے والا میزائل لگا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا