’کشمیر میں پھنسی پاکستانی خواتین کے لیے عید عذاب کا تہوار ہوتا ہے‘

کشمیری باشندوں سے شادی کرکے بھارت کے زیر انتظام کشمیر منتقل ہونے والی 350 سے زائد پاکستانی خواتین وہاں قید ہو کر رہ گئیں ہیں، نہ ان کے پاس بھارتی شہریت ہے نہ سفری دستاویزات۔

اپنے شوہروں اور بچوں کے ساتھ کشمیر آنے والی ساڑھے تین سو پاکستانی خواتین کو نہ بھارتی شہریت ملی ہے نہ سفری دستاویزات۔(تصویر بشکریہ: بلال بہادر)

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے کشمیری محلہ سے تعلق رکھنے والی 38 سالہ شازیہ بٹ کی شادی 2001 میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے رہائشی امجد علی سے ہوئی۔

امجد علی ان ہزاروں کشمیریوں میں سے ایک ہیں جو 1990 کی دہائی میں لائن آف کنٹرول پار کر کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہوئے تھے۔ امجد جیسے سینکڑوں کشمیری نوجوانوں نے واپس چلے جانے کی بجائے پاکستان کے مختلف شہروں میں اپنا کاروبار، نوکریاں اور شادیاں کیں۔

شازیہ اور امجد شادی کے بعد کراچی میں شاہانہ زندگی گزار رہے تھے۔ امجد کا اپنا کاروبار تھا اور شازیہ ایک مقامی نجی سکول کے انتظامی امور سنبھالنے کے علاوہ ایک جز وقتی بیوٹیشن اور فیشن ڈیزائنر کے طور پر بھی کام کرتی تھیں۔

2010 میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں عمر عبداللہ کی حکومت نے اس وقت کی بھارتی حکومت کے آشیرباد سے 1989 سے 2009 تک پاکستان چلے جانے والے کشمیری نوجوانوں کی واپسی کے لیے ایک بازآبادکاری پالیسی کا اعلان کیا۔

واپسی کے خواہش مند نوجوانوں سے کہا گیا کہ وہ واہگہ اٹاری، اسلام آباد اوڑی، چکن دا باغ پونچھ اور اندرا گاندھی انٹرنیشنل ائیرپورٹ نئی دہلی میں سے کسی ایک راستے سے واپسی اختیار کرسکتے ہیں۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں رہائش اختیار کر چکے 4587 کشمیری نوجوانوں میں سے اس پالیسی کے تحت 489 نوجوان ہی واپس لوٹ آئے جنہوں نے واپسی کے لیے نیپال کا راستہ اختیار کیا۔ ان میں سے تقریباً 350 نوجوان اپنے پاکستانی بیوی بچوں کو بھی اپنے ساتھ لے آئے۔ بعد ازاں 2016 میں بھارت کی ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کی حکومت نے متذکرہ پالیسی پر روک لگا دی۔

اپنے شوہروں اور بچوں کے ساتھ کشمیر آنے والی 350 پاکستانی خواتین کو اپنے فیصلے پر پچھتاوا ہے اور وہ اپنی قسمت کو کوس رہی ہیں۔ جب سے آئی ہیں ایک بار بھی پاکستان میں اپنے میکے نہیں جا پائی ہیں۔ انہیں بھارتی شہریت ملی ہے نہ سفری دستاویزات۔

ان میں سے بیشتر خواتین کو شدید مالی دشواریوں کا سامنا ہے۔ اکثر ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ اب تک کم از کم دو پاکستانی خواتین خودکشی کرچکی ہیں۔ جن دو کو طلاق دی جاچکی ہے وہ بھی یہیں پھنس کر رہ گئی ہیں۔

شازیہ بٹ، جو 21 مئی 2012 کو اپنے شوہر امجد علی اور بچوں کے ساتھ کشمیر پہنچیں، فی الوقت وسطی کشمیر کے قصبہ بڈگام میں ایک پرانے مکان میں کرایہ دار کے طور رہ رہی ہیں۔

شازیہ نے عرفہ کے دن مکان کے صحن میں قائم کچن گارڈن میں کشمیری ساگ کاٹنے کے دوران انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حالت اتنی خراب ہے کہ اب زندہ رہنے کو بھی دل نہیں چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا: 'یہاں پھنسی پاکستانی خواتین کے لیے عید خوشیوں کا نہیں بلکہ عذاب کا تہوار ہے کیونکہ ہمیں اس دن اپنے پاکستانی رشتہ داروں کی بہت یاد آجاتی ہے اور وہاں گزارے گئے لمحات کی یادیں بہت تڑپاتی ہیں۔'

انہوں نے کہا: 'صبح صبح بچوں کو سجا کر مسجدوں کی طرف روانہ کرنا، واپسی پر مل کر شیر خورما نوش کرنا، مختلف اقسام کے پکوان بنا کر کھانا اور بڑوں سے زبردستی عیدی لینا وہ یادیں عید پر بہت ستاتی ہیں۔ ہم دنیا کی تمام فکروں سے آزاد ہوکر عید کے ایام خوشی خوشی گزارتے تھے۔ لیکن یہاں جب عید آتی ہے تو ہمارے پاس اپنی تقدیر کو کوسنے کے سوا کوئی کام نہیں ہوتا ہے۔ پھر ہم اپنے آپ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا یہ بھی زندگی ہے جس میں تہوار کے موقعوں پر اپنے ساتھ نہ ہوں۔ تہوار ہمارے لیے خوشیاں نہیں بلکہ بے چینیاں لے کر آتے ہیں۔ دل کا سکون اڑا جاتا ہے۔ کہتے ہیں عید خوشیوں کا تہوار ہے لیکن ہمارے لیے یہ عذاب کا تہوار ہے۔'

شازیہ کے پانچ بچے ہیں۔ بڑی بیٹی نے حال ہی میں ایک مقامی سرکاری ڈگری کالج میں بی ایس سی کے تین سالہ کورس میں داخلہ لیا ہے اور ایم بی بی ایس کے کورس میں داخلے کے امتحان کا بھی انتظار کررہی ہیں۔ امجد خود ایک چھوٹی سی دکان چلا رہے ہیں جبکہ شازیہ سرما میں مقامی بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا: 'ہم بے بس ہیں لیکن امیدیں نہیں چھوڑی ہیں۔ عید کے دن ہم یہ کہہ کر اپنے آپ کو تسلی دیتے ہیں کہ شاید اگلی عید تک پاکستان جانے کی اجازت مل جائے۔ ہم میں سے اکثر کے والدین بھی انتقال کرچکے ہیں۔ ہمارے میکے میں خوشی کی بزم ہو یا غم کی کسی مجلس ہم شرکت ہی نہیں کر پاتے ہیں۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کراچی کے کشمیری محلہ کی ہی رہنے والی سعدیہ حیدر کی شادی بھی 2001 میں کشمیری نوجوان محمد یوسف سے ہوئی۔ یہ پورا کنبہ اس وقت سری نگر کے مضافاتی علاقہ شالیمار میں رہتا ہے۔

سعدیہ کے مطابق تہواروں بالخصوص عید کے موقع پر اکیلے پن کا احساس بہت ستاتا ہے اور ہم اندر ہی اندر سوچتے رہتے ہیں کہ کاش کراچی میں ہوتے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: 'عید آئے یا نہ آئے ہمارے لیے یہ ایک جیسا ہے۔ ہم وہاں شوال کے پورے مہینے کو عید سمجھ کر ہی مناتے تھے۔ دعوتیں کھانا اور کھلانا مہینے بھر چلتا تھا۔ میرے شوہر کا، جو یہاں کے پشتینی باشندے ہیں، بھی یہی کہنا ہے کہ عید کا اصل مزہ کراچی میں ہی ہے۔'

سعدیہ نے کہا: 'میں یہاں عید کے دن سوتی ہوں۔ میرا یہ یہاں معمول بن چکا ہے۔ نہ مجھے کہیں جانا ہوتا ہے اور نہ میرے گھر کوئی آتا ہے۔ ہاں ایک بات ہے کہ ہم پاکستانی لڑکیاں ایک دوسرے کے گھر جاتی ہیں لیکن اس بار کرونا وائرس لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہ بھی ممکن نہیں ہے۔'

سعدیہ حیدر خود سلائی اور مہندی لگاتی ہیں جبکہ ان کے شوہر محمد یوسف پیشے سے رنگ ساز ہیں۔ کشمیر میں جب گذشتہ ماہ فیس ماسکس اور پی پی ایز کی قلت محسوس ہوئی تو سعدیہ نے مقامی خواتین کی خدمات حاصل کرکے ضلع انتظامیہ سری نگر کو یہ چیزیں بنوا کر دیں۔

انہوں نے بتایا: 'عید کے دن جب کراچی میں میرے میکے میں سب ایک جگہ جمع ہو جاتے ہیں تو وہ فوراً ویڈیو کال کرنا شروع کرتے ہیں۔ میرے بچے جذباتی ہوجاتے ہیں۔ پھر میرے میکے والے بچوں کو دلاسا دیتے ہیں کہ کوئی آئے گا تو ہم اس کے ہاتھ میں آپ کی عیدی تھما دیں گے۔'

'مجھے یہاں سسرال والوں نے ایک کمرہ دیا ہے اور اسی میں کچن وغیرہ ہے۔ میرے چار بچے ہیں۔ بڑی بیٹی 12 ویں جماعت میں پڑھتی ہیں۔ میں ذہنی پریشانیوں سے بچنے کے لیے اپنے آپ کو کام میں مصروف رکھتی ہوں۔ کبھی کبھی بچے شکایت لگاتے ہیں کہ مما آپ یہاں کیوں آئے۔ ہم یہاں جیسے قید میں ہیں۔'

سعدیہ حیدر کے والد رواں برس 11 فروری کو انتقال کر گئے اور بدقسمتی سے وہ اپنے مرحوم والد کا چہرہ بھی آخری بار نہیں دیکھ پائیں۔ 'ہم یہی امید لگائے ہوئے ہیں کہ کسی نہ کسی کی کوششوں اور لکھنے سے راستہ کھل جائے گا۔'

'عمران خان کچھ کریں'

شازیہ بٹ کا کہنا ہے کہ 'ہمیں دونوں ملکوں کی حکومتیں بھول چکی ہیں اور عمران خان کی حکومت کو تو کم از کم اپنے ملک کی بیٹیوں کے بارے میں سوچنا چاہیے کہ وہ کس حال میں ہیں۔'

'سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں پاکستان کی حکومت بھی بھول چکی ہے۔ ہم لاچار ایک طرف سے نہیں دونوں طرف سے ہیں۔ ہمیں شکایت بھارتی حکومت سے کم اور پاکستانی حکومت سے زیادہ ہے۔ کیا عمران خان کی حکومت کو اپنی بیٹیوں کا خیال نہیں آرہا ہے؟'

انہوں نے مزید کہا: 'ہماری عمران خان سے التجا ہے کہ وہ ہمارے بارے میں بھی سوچیں۔ کچھ اقدامات اٹھائیں۔ کم از کم سال میں ایک ملاقات کی اجازت ہی دلوا دیں۔ ہم اُن سے کھانا اور پیسے نہیں مانگ رہے ہیں۔ ہم عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد پُرامید تھے کہ ہمارے ساتھ بھی انصاف ہوگا۔ لیکن ابھی تک ہمارے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔'

'جب سشما سوراج بھارت کی وزیر خارجہ تھیں تو ہم نے ان سے کئی بار گزارش کی تھی کہ آپ دیکھیں ہمارے لیے کیا کیا جاسکتا ہے۔ ہمیں امید تھی کہ چونکہ سشما سوراج ایک خاتون ہیں تو ہمارا درد سمجھیں گی لیکن انہوں نے بھی ہمیں مایوس ہی کیا۔'

شازیہ کہتی ہیں کہ 'اگر ہمارے مسائل حل کرنے کے لیے کوئی سامنے نہیں آیا تو ہم اپنے بچوں کو ساتھ لے کر لائن آف کنٹرول پار کرنے پر مجبور ہوں گے۔ پھر چاہے ہم زندہ رہیں یا نہ رہیں۔ ہمیں تو ملنا ہے اپنے والدین اور بھائی بہنوں سے۔ اپنوں سے ملے بغیر کوئی کیسے رہ سکتا ہے؟'

شازیہ کے مطابق 2010 میں جب بازآبادکاری پالیسی کا اعلان کیا گیا تھا واپس آنے والوں کو نوکریاں دی جائیں گی، مکان سمیت زندگی گزارنے کے لیے درکار سبھی چیزیں فراہم کی جائیں گی لیکن اس کے برعکس ان پر مقدمے درج کر دیے گئے۔

انہوں نے بتایا: 'ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کی حکومتیں ہمارا ساتھ دیں اور ہمیں شہریت اور سفری دستاویزات دلوائیں۔ ہم یہاں اپنے شوہروں کے ساتھ آئے ہیں۔ ہمیں آنے جانے کی اجازت اور سہولیتیں بھی ملنی چاہیں۔ پاکستان میں اپنے اہل خانہ سے ملنے جائیں گے تو واپس بھی آجائیں گے۔'

انہوں نے مزید کہا: 'ماں باپ سے ملنے کی تڑپ وہی سمجھ سکتا ہے جو ان سے دور ہوچکا ہو۔ ہمارے بھی بھائی ہیں بہنیں ہیں۔ کیا انسان کی کوئی قدر نہیں ہے؟ کچھ ماہ پہلے میری بہن کی شادی تھی۔ اس وقت میرے دل پر کیا گزر رہی تھی وہ میں ہی جانتی ہوں۔ میں انتہائی ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہوں۔ یہی حال دوسری پاکستانی خواتین کا بھی ہے۔'

شازیہ کے مطابق یہاں کچھ پاکستانی خواتین ایسی ہیں جن کے بچے اعلیٰ پڑھائی کے لیے دوسرے ممالک کا رخ کرنا چاہتے ہیں لیکن جب ان کے بچوں نے پاسپورٹ کے لیے درخواستیں دیں تو ان سے کہا گیا کہ چونکہ آپ پاکستانی ہیں اس لیے ہم آپ کو پاسپورٹ نہیں دے سکتے۔

 

شازیہ نے کہا: 'ہم کس کے پاس اپنی فریاد لے کر جائیں گے؟ اگر آپ لوگ کچھ نہیں کرسکتے ہیں تو ہمیں واپس بھیج دیں۔ لڑکیاں شادی کرکے کہاں کہاں جاتی ہیں۔ انہیں وہاں کی شہریت مل جاتی ہے۔ جو بھارتی لڑکیاں پاکستان میں شادی کرتی ہیں کیا ان کو پاسپورٹ فراہم نہیں کیے جاتے؟'

'ہمارے شوہر اچھا کاروبار، اچھی آمدنی اور شاہانہ زندگی چھوڑ کر یہاں آگئے ہیں۔ وہ اس لیے یہاں آئے کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہم وطنوں نے ہمیں بلایا ہے۔ ہماری وہاں زندگی بہت اچھی طرح سے گزر رہی تھی۔ ہم میں سے اکثر اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ ہم وہاں نوکریاں کرتی تھیں۔ لیکن ہمیں یہاں گھر بیٹھ کر رونا پڑتا ہے۔ نہ ہمارے پاس نوکریاں ہیں، نہ ہمارے پاس مکان ہیں اور نہ بچوں کی تعلیم کا کوئی خیال رکھا جارہا ہے۔ جس سکیم کے تحت ہم یہاں آئے ہیں اس کو بازآبادکاری کا نام دیا گیا تھا۔ یہ کیسی بازآبادکاری ہے؟'

سعدیہ حیدر کے مطابق اپنے شوہروں کے ساتھ کشمیر آنے والی دو پاکستانی خواتین کو اب تک طلاق ہوچکا ہے اور دونوں یہیں پھنسی ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک سرحد تک گئی تھی لیکن انہیں بھارتی فوج وہاں سے واپس لے آئی۔

انہوں نے کہا: 'میں نے سنا ہے کہ دو پاکستانی لڑکیوں کو طلاق ہوچکی ہے۔ انہیں اپنے وطن واپس جانے دیا جانا چاہیے۔ ان کا یہاں کچھ بچا نہیں ہے۔ کوئی رشتہ دار بھی نہیں ہے۔'

سعدیہ نے کہا: 'ہم اپنے شوہروں اور بچوں کے ساتھ ہی رہنا چاہتے ہیں اور ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں سفری دستاویزات فراہم کی جائیں۔'

قانونی لڑائی

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پھنسی 350 خواتین کے مطالبات منوانے کے لیے سری نگر میں انسانی حقوق کے معروف کارکن و وکیل پرویز امروز اور کراچی میں ان کے ہم منصب انصار برنی نے بالترتیب کشمیر اور سندھ ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔

پرویز امروز نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ان خواتین کو شہریت اور سفری دستاویزات دلوانے کے لیے کشمیر ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ معاملے پر متعلقین کو نوٹس بھی بھیجا گیا تھا لیکن انہوں نے ابھی تک اپنے جوابات دائر نہیں کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا: 'یہ صرف 350 خواتین کی بات نہیں ہے بلکہ ان کے بچوں سمیت قریب دو ہزار افراد کی بات ہے۔ نہ یہ پناہ گزین ہیں نہ یہ نقل مکانی کرنے والے افراد ہیں۔ ان کا مسئلہ ایک انسانی مسئلہ ہے۔ ان میں سے دو نے خودکشی کی ہے۔ ایک خاتون نابینا ہوچکی ہے۔'

پرویز امروز نے بتایا کہ ان میں متعدد خواتین کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے ہے جو یہاں سے صرف 150 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے اور چار گھنٹوں میں وہاں تک جانے کا سفر طے کیا جاسکتا ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں: 'ان میں کئی خواتین کے پاکستان میں قریبی رشتہ دار انتقال کرچکے ہیں۔ یہاں آنے کے بعد وہ کبھی اپنے گھروں کو جا نہیں پائی ہیں۔ پانچ اگست 2019 کے بعد مواصلاتی پابندی سے مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ ہمارے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے منقطع ہوگئے۔ یہ حکومت کے لیے اچھا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتی ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے جڑے رہیں۔'

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین