’کام سے نہ تھکنے والے‘ گلشن عزیز نہیں رہے

گلشن عزیز سیاحتی و تاریخی مقامات کی کوریج کے شوقین تھے۔’ایسا ہوا ہوگا کہ یہاں کوئی سیاحتی میلہ منعقد کیا گیا ہو اور گلشن عزیز وہاں پر نہ پہنچے ہوں۔‘

5

گلشن عزیز کی بنائی چند تصاویر جو ان کے فیس بک اکاؤنٹ سے حاصل کی گئی ہیں

یہ 60 کی دہائی تھی  اور فوٹو جرنلزم سے کم ہی لوگ آشنا تھے۔ اس وقت کی حکومت نے چند اخبارات کو ایک سرکاری ادارے نیشنل پریس ٹرسٹ کے تحت کر دیا تھا۔ اسی میں خیبر پختونخوا کا ایک مشہور اخبار روزنامہ مشرق بھی شامل تھا جو صوبے کا ایک معتبر اخبار سمجھا جاتا تھا۔

روزنامہ مشرق کو 1969 میں  جب پشاور میں فوٹو جرنلسٹ کی ضرورت پڑی تو انھوں نے اپنے لاہور دفتر میں ایک شخصیت کو پشاور ٹرانسفر کیا تاکہ اخبار کے صفحے ان کے تصاویر کی  زینت بنے۔

پشاور کے سینیئر صحافی اور ایکسپریس نیوز کے بیورو چیف  جمشید باغوان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ  یہ شخصیت بذریعہ ٹرین پشاور پہنچے تھے اور پشاور پہنچ کر پشاور ہی کے ہو گئے۔

باغوان نے بتایا کہ اس وقت صوبے  کے ایک نامو شاعر و ادیب سردار خان فنا جو اس وقت روزنامہ مشرق کے سرکولیشن منیجر تھے کہا کرتے تھے کہ اس شخصیت کے لیے ان کے ساتھی استقبال کے لیے  ڈھول لے کر ریلوے سٹیشن پہنچ گئے تھے اور وہاں پر بھنگڑا ڈالا تھا۔

یہ شخصیت پشاور کے بانی فوٹو جرنسلٹوں میں شمار گلشن عزیز تھے جو آج 65 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جمشید باغوان نے بتایا کہ انھوں نے روزنامہ مشرق میں گلشن عزیز کے ساتھ چار سال گزارے ہیں  اور ہمیشہ  انھوں نے ان کو پیشے سے پیار کرنے والا پایا۔

’گلشن عزیز نے اپنے دور میں مختلف اہم واقعات کی کوریج کی جس میں آرمی پبلک سکول کا سانحہ، مارشل لا دور کے واقعات سمیت سیاسی جلسے جلوسوں، بم دھماکوں اور حملوں کی کوریج شامل ہے۔‘

باغوان نے بتایا کہ ’روزنامہ مشرق جو ایک معتبر اخبار سمجھا جاتا ہے اس کی آدھی سے زیادہ تصاویر کی آرکائیوز گلشن عزیز کی تصاویر پر مبنی ہے جو اخبار سمیت اس صوبے کے تاریخ کے لیے ایک اثاثہ ہے۔‘

گلشن عزیز سیاحتی و تاریخی مقامات کی کوریج کے شوقین تھے۔ باغوان بتاتے ہیں کہ صوبے میں کم ہی ایسا ہوا ہوگا کہ یہاں کوئی سیاحتی میلہ منعقد کیا گیا ہو اور گلشن عزیز وہاں پر نہ پہنچے ہوں۔

’ایسا بھی ہوا ہے کہ گلشن اپنے خرچے سے سفر کر کے سیاحتی مقامات پر جاتے تھے اور اخبار کے لیے البم بنا کر لاتے تھے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’صوبےاور  ملک  کے کئی  تاریخی مقامات جیسے چترال کے کیلاش وادی، کاغان ناران، خنجراب  ٹاپ سمیت مختلف ایسے جھیلوں کے البم بنا چکے ہیں جہاں پر کم ہی فوٹو گرافر پہنچ سکے ہیں۔‘

سیاحت کے ساتھ لگاؤ کے حوالے سے گلشن عزیز نے 2015 میں انگریزی روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ سیاحتی و تاریخی مقامات کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنا ان کے لیے ایک مشن تھا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ایک دن آئے گا کہ یہ سیاحتی مقامات ختم ہو جائیں گے لیکن ان کے کیمرے میں یہ تاریخ محفوظ رہے گی۔

پشاور کے صحافی فدا عدیل جو گلشن عزیز کے قریبی دوست اور ان کے ساتھ روزنامہ مشرق میں کام بھی کر چکے ہیں کا کہنا ہے کہ گلشن عزیز  اللہ کے گلشن کو عزیز ہو گئے۔

انھوں نے بتایا کہ گلشن عزیز محض فوٹوگرافر نہیں بلکہ اپنی ذات میں ایک ادارہ تھے۔

عدیل نے بتایا کہ ’گلشن عزیز نے کبھی کسی محفل، سفر اور کام کے دوران  یہ تاثر ہمیں نہیں دیا کہ وہ بزرگ ہیں بلکہ انتہائی زندہ دل، شفیق اور خیال رکھنے والے انسان تھے۔‘

جیو نیوز کے اینکر  اور تجزیہ کار سلیم صافی  جو ایک زمانے میں روزنامہ مشرق سے وابستہ تھے بھی گلشن عزیز کے ساتھ ایک دفتر میں کام کر چکے ہیں۔

انھوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ گلشن عزیز کے ساتھ کام کرنے کا انھیں بھی اتفاق ہوا ہے جو خاموش طبع لیکن کام کے سلسلے میں سب سے زیادہ متحرک تھے۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ ’کام سے تھکتے اور نہ سفر سے۔ پیشہ ورانہ لحاظ سے جتنے با کمال تھے، مزاج کے لحاظ سے بھی اس قدر سیدھے سادے اور ملنسار تھے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان